31/01/2026
P L D 2026 Supreme Court 20
نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 اور 16 — تشریح
کالم نمبر 13 میں مہر کی رقم اور کالم نمبر 16 میں غیر منقولہ جائیداد کا اندراج—
نکاح بطور سول معاہدہ — ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت کی بنیاد پر تشریح*
*Interpretation of Columns 13 & 16 of Nikahnama — Cash Dower and Immovable Property as Distinct and Enforceable rights*
خاندانی عدالت نے بیوی کو کالم نمبر 16 میں درج جائیداد کی صورت میں مہر کا حقدار قرار دیا۔
اپیلیٹ کورٹ نے قرار دیا کہ بیوی کالم نمبر 13 میں درج مہر کی رقم اور کالم نمبر 16 میں درج جائیداد دونوں کی حقدار ہے۔
ہائی کورٹ نے یہ قرار دیا کہ کالم نمبر 16 میں درج مہر، کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے (in lieu) ہے، لہٰذا اگر رقم ادا کر دی جائے تو جائیداد کی وصولی کا حق باقی نہیں رہتا۔
قرار دیا گیا:
اگر ہائی کورٹ کی تشریح کو درست مان لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ نقد مہر کی ادائیگی سے مہر کی دیگر صورتیں (جیسے منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد) عملاً بے معنی ہو جائیں گی، جو مہر کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
مہر کا بنیادی تصور یہ ہے کہ فریقین اپنی آزاد مرضی سے مہر کو کسی بھی ایسی شکل میں طے کر سکتے ہیں جس کی مارکیٹ ویلیو ہو۔
لہٰذا فریقین اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ مہر نقد رقم کے علاوہ اور اس سے الگ جائیداد کی صورت میں بھی ہو۔
نکاح نامہ کے کالموں کی سرخیاں بذاتِ خود فیصلہ کن نہیں ہوتیں اور نہ ہی فریقین کی نیت پر غالب آ سکتی ہیں، کیونکہ ایسا کرنے سے مہر کے تصور کی نفی ہو جائے گی۔
ہائی کورٹ نے کالم نمبر 13 کی شرط پوری ہونے سے مشروط کر کے کالم نمبر 16 میں درج غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں طے شدہ مہر کے حق کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا، جو غلط تھا۔
مہر ایک لازمی حق ہے اور وہ کسی بھی ایسی چیز کی صورت میں ہو سکتی ہے جس کی مارکیٹ ویلیو ہو—چاہے نقد ہو، جائیداد ہو یا دونوں۔
فریقین اس بات پر متفق ہو سکتے ہیں کہ مہر نقد رقم کے ساتھ ساتھ غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں بھی دیا جائے۔
کالم نمبر 13، کالم نمبر 14، 15 اور 16 کے اندراجات پر کسی قسم کی بالادستی یا پابندی عائد نہیں کرتا جیسا کہ ہائی کورٹ نے قرار دیا۔
اپیلیٹ کورٹ نے شواہد اور کالم نمبر 13، 14 اور 16 کے اندراجات کی درست تشریح کرتے ہوئے فریقین کی اصل نیت کو درست طور پر سمجھا تھا۔
لہٰذا ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا اور اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ و ڈگری بحال کی گئی۔
نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 اور 16 — امتیاز
کالم نمبر 16 میں استعمال ہونے والے الفاظ “بدلے میں (in lieu)”، “کل” اور “حصہ” کی تشریح—
کالم نمبر 13 کا عنوان “مہر کی رقم” ہے، جو عموماً نقد مہر کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس سے مراد مہر کی مجموعی مالیت نہیں ہوتی، کیونکہ فریقین مہر کو مختلف صورتوں میں (نقد اور جائیداد) دینے پر متفق ہو سکتے ہیں۔
اردو متن میں لفظ “رقم” استعمال ہوا ہے، جو واضح طور پر نقد رقم کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اسی طرح کالم نمبر 14 اور 15 کی سرخیاں بھی کالم نمبر 13 سے متعلق اور کالم نمبر 16 سے الگ سمجھی جائیں گی۔
کالم نمبر 16 کی سرخی سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خاص طور پر مہر کی صورت میں جائیداد کے اندراج کے لیے ہے۔
لفظ “بدلے میں” یہاں “کل مہر” یا “مہر کے کسی حصے” کے تناظر میں استعمال ہوا ہے، نہ کہ کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے میں، جیسا کہ ہائی کورٹ نے غلطی سے سمجھا۔
مہر صرف جائیداد کی صورت میں بھی مقرر ہو سکتی ہے، جو کل مہر کے بدلے ہو گی، یا جائیداد مہر کے کسی حصے کے طور پر بھی دی جا سکتی ہے، جس صورت میں وہ نقد مہر کے علاوہ ہو گی۔
کالم نمبر 16 میں جائیداد کی تفصیل اور قیمت درج کرنے کی شرط بھی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ یہ کالم خاص طور پر مہر کی صورت میں جائیداد کے لیے ہے۔
رجسٹرڈ نکاح نامہ — نوعیت اور ثبوتی حیثیت
رجسٹرڈ نکاح نامہ ایک عوامی دستاویز ہے اور اس کے اندراجات کے درست ہونے کا قانونی قرینہ (presumption of truth) موجود ہوتا ہے۔
نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے جس میں فریقین کی باہمی رضامندی سے طے شدہ شرائط شامل ہوتی ہیں۔
نکاح کی بنیاد فریقین کی آزاد رضامندی ہے۔
مہر — کالم نمبر 13 اور 16 میں ابہام
نکاح نامہ کے کالم یا سرخیاں قطعی یا مقدس نہیں ہوتیں، بلکہ اصل فیصلہ کن عنصر فریقین کی نیت ہوتی ہے۔
معاہدے میں کسی بھی ابہام کی صورت میں فریقین کی حقیقی نیت معلوم کرنا لازم ہے۔
لہٰذا نکاح نامہ کی سرخیاں صرف رہنمائی کے لیے ہیں، حتمی فیصلہ کن نہیں۔
نکاح رجسٹرار کی ذمہ داری
نکاح نامہ کے اندراجات کی درستگی نکاح رجسٹرار کی اہلیت، علم اور تجربے پر منحصر ہوتی ہے۔
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 5(2A) (پنجاب میں 2015 کی ترمیم) کے تحت نکاح رجسٹرار یا نکاح پڑھانے والے شخص پر لازم ہے کہ نکاح نامہ کے تمام کالم درست طور پر فریقین کے جوابات کے مطابق پُر کرے۔
اس ذمہ داری میں ناکامی پر دفعہ 5(4)(i) کے تحت تعزیری کارروائی ہو سکتی ہے۔
اسی لیے نکاح نامہ کی سرخیاں غلط فہمی یا غلط تشریح کا شکار ہو سکتی ہیں، خصوصاً جب نکاح پڑھانے والا شخص مطلوبہ قانونی فہم نہ رکھتا ہو۔
مہر — مفہوم، صورتیں اور دائرہ کار
مہر ایک لازمی شرط ہے، مگر اگر نکاح نامہ میں اس کا ذکر نہ بھی ہو تو نکاح درست رہتا ہے اور مہرِ مثل فرض کر لیا جاتا ہے۔
مہر عورت کا خالص حق ہے اور اس کا تعلق ایسی چیز سے ہے جس کی مارکیٹ ویلیو ہو۔
یہ نقد، جائیداد یا دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے، فوری یا مؤخر۔
اگر ادائیگی کی نوعیت طے نہ ہو تو وہ فوری تصور ہو گی (دفعہ 10)۔
غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں بلا شرط مہر، نکاح نامہ کے اندراج کے ساتھ ہی بیوی کی ملکیت بن جاتی ہے۔
نکاح نامہ کی تشریح — شوہر کے حق میں مفروضہ؟
یہ تصور کہ مالی ذمہ داری شوہر پر ہونے کی وجہ سے ابہام کی صورت میں تشریح شوہر کے حق میں کی جائے، نکاح کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
پاکستان میں نافذ قانون فریقین کو آزاد رضامندی اور شرائط طے کرنے کا حق دیتا ہے۔
عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کہیں سماجی یا ثقافتی دباؤ کی وجہ سے عورت کی آزاد مرضی متاثر تو نہیں ہوئی۔
سول پٹیشنز نمبر 768 اور 827/2022
مسز فخرہ جبین و دیگر بنام واصف علی
قانونی تجزیاتی جائزہ ۔۔۔۔
بنیادی قانونی سوال (Core Legal Issue)
کیا نکاح نامہ کے کالم نمبر 13 میں درج مہر کی رقم، کالم نمبر 16 میں درج غیر منقولہ جائیداد کی صورت میں مہر کو ختم (substitute) کر دیتی ہے یا دونوں علیحدہ، مستقل اور قابلِ نفاذ حقوق ہیں؟
اسی ایک سوال پر تینوں عدالتوں کی تشریحات مختلف رہیں، جسے سپریم کورٹ نے حتمی طور پر طے کیا۔
ہائی کورٹ کی تشریح — کیوں غلط قرار پائی؟
ہائی کورٹ نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ:
کالم نمبر 16 میں درج جائیداد
کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے (in lieu) ہے
لہٰذا اگر شوہر نے نقد رقم ادا کر دی تو جائیداد دینے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے
سپریم کورٹ کے مطابق اس تشریح کی خامیاں:
مہر کے بنیادی تصور کی نفی
مہر کا تصور محض مالی لین دین نہیں بلکہ ایک آزاد معاہداتی حق ہے، جس میں فریقین کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ مہر کو کسی بھی صورت میں طے کریں۔
جائیداد کی صورت میں مہر کو غیر مؤثر بنا دینا
اگر نقد رقم کی ادائیگی سے جائیداد کا حق ختم ہو جائے تو عملی طور پر مہر کی صورت میں جائیداد رکھنا بے معنی ہو جاتا ہے۔
فریقین کی نیت کو نظر انداز کرنا
معاہدات کی تشریح کا بنیادی اصول ہے کہ
“Form does not override intent”
مگر ہائی کورٹ نے فارم (کالم ہیڈنگز) کو نیت پر فوقیت دی۔
سپریم کورٹ کا اصولی مؤقف (Authoritative Ratio Decidendi)
سپریم کورٹ نے درج ذیل قانونی اصول وضع کیے:
(الف) مہر کی مختلف صورتیں بیک وقت ممکن ہیں
مہر:
صرف نقد ہو سکتی ہے
صرف جائیداد ہو سکتی ہے
یا نقد + جائیداد دونوں ہو سکتی ہیں
کوئی قانونی ممانعت موجود نہیں کہ مہر صرف ایک ہی صورت میں ہو۔
(ب) کالم نمبر 13 نقد مہر کے لیے ہے، مجموعی مہر کے لیے نہیں
کالم نمبر 13 کا عنوان:
“Amount of Dower”
اردو متن میں لفظ:
“رقم”
یہ دونوں واضح کرتے ہیں کہ یہ صرف نقد مہر کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ مہر کی مجموعی قدر (total valuation) کی طرف۔
(ج) کالم نمبر 16 بذاتِ خود ایک آزاد حق تخلیق کرتا ہے
کالم نمبر 16 میں:
جائیداد کی تفصیل
اس کی قیمت
درج کرنا لازمی ہے
یہ تقاضا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ:
یہ کالم مہر کی صورت میں جائیداد کے لیے مخصوص ہے، نہ کہ کالم 13 کی ذیلی شق۔
(د) لفظ “in lieu” کی درست تشریح
سپریم کورٹ نے نہایت اہم نکتہ واضح کیا:
“in lieu”:
کل مہر کے بدلے ہو سکتا ہے
یا مہر کے کسی حصے کے بدلے ہو سکتا ہے
مگر یہ ہرگز یہ معنی نہیں رکھتا کہ:
جائیداد، کالم نمبر 13 میں درج رقم کے بدلے ہے۔
یہ وہ بنیادی قانونی لغزش تھی جو ہائی کورٹ نے کی۔
نکاح نامہ — قانونی حیثیت اور ثبوتی قدر
رجسٹرڈ نکاح نامہ:
ایک Public Document ہے
اس کے اندراجات کے درست ہونے کا قانونی قرینہ موجود ہے
اس کے خلاف دعویٰ کرنے والے پر ثبوت کا بوجھ ہوتا ہے
نکاح نامہ بطور سول کنٹریکٹ:
فریقین کی آزاد رضامندی سے طے شدہ شرائط
عدالت فارم سے زیادہ معاہداتی نیت کو دیکھے گی
معاہدات کی تشریح — بین الاقوامی اصولوں سے ہم آہنگی
سپریم کورٹ کا مؤقف درج ذیل مسلمہ اصولوں سے ہم آہنگ ہے:
Intention of Parties Prevails
Contra Proferentem Rule (ابہام کی صورت میں تشریح اس کے خلاف ہو گی جو دستاویز تیار کرنے یا غالب پوزیشن میں ہو)
Substance over Form
نکاح رجسٹرار کی قانونی ذمہ داری
مسلم فیملی لاز آرڈیننس، 1961 — دفعہ 5(2A) (پنجاب):
تمام کالمز کو درست اور واضح پُر کرنا لازم
خلاف ورزی پر:
فوجداری ذمہ داری
جرمانہ / سزا
عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ:
بہت سے ابہامات نکاح رجسٹرار کی نااہلی یا غلط فہم اندراجات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
مہر — اسلامی اور قانونی حیثیت
بنیادی اصول:
مہر عورت کا خالص، ناقابلِ تنسیخ حق ہے
نکاح مہر کے بغیر بھی درست ہے مگر:
مہرِ مثل خود بخود لاگو ہو جاتا ہے
جائیداد کی صورت میں مہر:
نکاح نامہ کے اندراج کے ساتھ ہی:
عورت کی ملکیت بن جاتی ہے
شوہر بعد میں اس حق کو:
محدود
مشروط
یا ختم
نہیں کر سکتا
اہم قانونی نظیر (Precedential Value)
یہ فیصلہ مستقبل میں درج ذیل تنازعات میں کلیدی حوالہ ہو گا:
مہر میں جائیداد کے دعوے
نکاح نامہ کے کالمز کی تشریح
ابہام کی صورت میں عورت کے حق کا تحفظ
فیملی کورٹ اپیلز
نتیجاً مختصراً ۔۔۔۔
سپریم کورٹ نے واضح کر دیا کہ
کالم نمبر 13 اور کالم نمبر 16 میں درج مہر ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ علیحدہ، آزاد اور قابلِ نفاذ حقوق ہو سکتے ہیں۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ:
معاہداتی اصولوں
اسلامی تصورِ مہر
اور خواتین کے قانونی تحفظ
کے منافی تھا، اس لیے اسے کالعدم قرار دیا گیا۔
اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ:
درست تشریح
فریقین کی اصل نیت
اور قانون کے مطابق تھا، جسے بحال کر