Legal Voice Faisalabad

Legal Voice Faisalabad We provide legal services through a reliable legal process.

وراثتی انتقال میں دیر مت کریں
21/04/2026

وراثتی انتقال میں دیر مت کریں

18/04/2026
17/04/2026

⚖️ تھانوں میں نیا قانون — بغیر بایومیٹرک تصدیق کوئی انٹری نہیں!
اب پولیس اسٹیشنز میں ایک بڑا تبدیلی کا نظام نافذ کیا جا رہا ہے:
👉 بغیر بایومیٹرک ویریفیکیشن (انگوٹھے کے نشان) کے کوئی بھی شخص کیس کا حصہ نہیں بن سکے گا۔
🔹 اب کیا ممکن نہیں ہوگا؟
❌ بغیر تصدیق مدعی درج نہیں ہوگا
❌ بغیر تصدیق ملزم شامل نہیں ہوگا
❌ بغیر تصدیق گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں ہوگا
📌 یعنی:
👉 انگوٹھا نہیں، تو کیس میں انٹری نہیں!
🔹 اس تبدیلی کے اثرات
✔ جعلی نام اور فرضی گواہوں کا خاتمہ
✔ “بناؤٹی ایف آئی آر” درج کروانا مشکل
✔ ہر ریکارڈ ڈیجیٹل اور ٹریس ایبل ہوگا
🔹 اہم ڈیڈ لائن
⏳ تمام تھانوں میں یہ نظام 7 دن کے اندر نافذ کرنا لازمی
📋 متعلقہ افسران کو 7 دن میں رپورٹ جمع کروانا ہوگی
📌 اہم پیغام
⚠️ یہ نظام شفافیت اور انصاف کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کروایا گیا ہے
⚠️ اب ہر اندراج تصدیق شدہ اور قابلِ ٹریس ہوگ📍

#حقوق #قانون #پولیس

16/04/2026

Pakistan zinda baad

16/04/2026

پہلے وکالت نامہ ٹکٹ، پھر بیان حلفی 300 ٹکٹ، پھر ہر طرح کی درخواست یا سول کیس، اپیل استغاثہ 500, پھر ہر ڈگری نقل 500 ٹکٹ اور اگر دو صفحات ہوں تو 1000 روپے، طلبانہ ٹکٹ، اور اب بائیو میٹرک فیس۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ سائلین کے لیے اخراجات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔۔ کسی بھی قسم کی درخواست یا کوئی بھی دعوی لکھوائی کروانے کے بعد کسی طور بھی 8 ہزار روپے سے کم میں تیار نہیں ہوتا۔ ۔ یہ سراسر زیادتی ہے۔۔۔ سخت اقدامات کی ضروت ہے۔۔۔

15/04/2026

آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا

موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا

"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"

بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"

میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"

میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی ☺️

اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا

میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے

یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں☝️

حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے 🌟

آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵

یہ تحریر واٹس ایپ سے کاپی کی گئی ہے جو آگاہی کے لئیے پھیلائی جا رہی ہے ☝️

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!Muhammad Asif, Rizwan Elahi Cheema, Tayyab Sab
15/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!

Muhammad Asif, Rizwan Elahi Cheema, Tayyab Sab

نکاح سے خوف تک: تحفظ کی ناکام کہانیفیصل آباد کی ایک کم عمر لڑکی، غربت کے باعث شادی پر مجبور کر دی گئی۔ اس کا شوہر اس سے ...
11/04/2026

نکاح سے خوف تک: تحفظ کی ناکام کہانی

فیصل آباد کی ایک کم عمر لڑکی، غربت کے باعث شادی پر مجبور کر دی گئی۔ اس کا شوہر اس سے کافی بڑا، ظالم اور تشدد کرنے والا تھا — روزانہ مار پیٹ معمول بن چکی تھی۔ ایک دن اس نے اینٹ سے حملہ کیا… وہ بچ تو گئی، مگر بمشکل۔ اسی دن اس کے والدین اسے واپس لے آئے۔

قانونی کارروائی کے ذریعے میں نے، بطور پرو بونو کیس، اس کی علیحدگی کروائی۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوئی۔

آج وہی شخص آزاد گھوم رہا ہے — دھمکیاں دیتا ہے، ہراساں کرتا ہے، اور لڑکی اور اس کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ سب ایک ہی محلے میں رہتے ہیں۔ خاندان کو اپنا گھر چھوڑنا پڑا، خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، اور اپنی بیٹی کو یوں چھپا رہے ہیں جیسے قصور اسی کا ہو۔

جب بھی وہ آتا ہے، وہ 15 پر کال کرتے ہیں۔
ہر بار خاموشی۔ نہ کوئی کارروائی، نہ تحفظ، نہ جوابدہی۔

یہ ہمارے نظام کا المیہ ہے:
مسئلہ قوانین کی کمی نہیں،
مسئلہ انصاف کے صرف دکھاوے کا ہے۔

قوانین موجود ہیں۔ پالیسیاں موجود ہیں۔ حقوق بھی موجود ہیں۔ ہیلپ لائنز بھی ہیں۔
لیکن جب ایک متاثرہ شخص کو سب سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے، نظام غائب ہو جاتا ہے۔

ایسے قانون کی کیا حیثیت جو تحفظ نہ دے سکے؟
ایسی اصلاحات کا کیا فائدہ جو زمین تک پہنچ ہی نہ سکیں؟

جب تک عملدرآمد کاغذی کارروائی سے زیادہ مضبوط نہیں ہوگا،
جب تک تحفظ حقیقی نہیں بنے گا بلکہ صرف نظریاتی رہے گا،
ہم انہی لوگوں کو ناکام کرتے رہیں گے جنہیں قانون تحفظ دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔

یہ صرف ایک کیس نہیں،
یہ ایک رویہ ہے، ایک سلسلہ ہے —
اور اس کا احتساب ضروری ہے۔

فریحہ وڑائچ
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
Maryam Nawaz SharifFaislabad Rpo House

#پاکستا

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!
11/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!

آج ایک جزوی طور پر سماعت سے محروم بچہ میرے پاس آیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ hearing aid کے ذریعے سن سکتا ہے اور کسی بھی...
01/04/2026

آج ایک جزوی طور پر سماعت سے محروم بچہ میرے پاس آیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق وہ hearing aid کے ذریعے سن سکتا ہے اور کسی بھی ملازمت کے لیے fit ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ کئی مہینوں سے صرف ڈرائیونگ لائسنس کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہا تھا، اور کوئی اس کی بات سننے کو بھی تیار نہیں تھا۔

قانون دیکھا تو واضح ہوا کہ وہ لائسنس حاصل کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ میں نے فوراً CTO فیصل آباد کے نام درخواست تیار کی اور اسے کہا کہ خود جا کر پیش ہو، اس امید کے ساتھ کہ ایک پڑھے لکھے افسر درخواست پڑھ کر انصاف کریں گے۔

مگر افسوس… درخواست سامنے ہونے کے باوجود زبانی سوال جواب ایک ایسے بچے سے کیے گئے جو اپنی بات مکمل طور پر بیان بھی نہیں کر سکتا تھا — وہ بھی ایک پولیس افسر کے سامنے۔ اور بغیر پوری بات سنے ہی کہہ دیا گیا کہ “rule ہی نہیں ہے”، جبکہ قانون واضح طور پر موجود ہے۔

مسئلہ نا قانون کا ہے، نا اس بچے کا… مسئلہ ان پڑھے لکھے جاہلوں کا ہے جو اختیار تو رکھتے ہیں مگر سمجھ نہیں رکھتے۔

ایسے رویے صرف ناانصافی نہیں، بلکہ ایک کمزور شہری کی تذلیل ہیں۔Maryam Nawaz Sharif

31/03/2026

An unaccountable judiciary risks becoming a silent accomplice to injustice.

Address

Chamber No. 26 District Courts Faisalabad
Faisalabad
37000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal Voice Faisalabad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share