Legal info

Legal info Allah Ho Akbar

06/02/2022

کیا آپ پولیس کے اوپر FIR کرواسکتے ہیں ؟؟؟

(ایک عام و خاص آدمی)

کسی ملزم کو 24 گھنٹے کےاندر عدالت میں جان بوجھ کر پیش نہ کرنے والے پولیس اہلکار کو 1 سال تک قید اور جرمانہ ھوگا۔
157, Police Order 2002

کسی عورت کو تھپڑ مارنے یا برقعہ اتارنے والے شخص پر دفعہ 354 تعزیرات پاکستان کی FIR درج ھوتی ھے، جس کی سزا 2 سال تک قید اور جرمانہ ھے۔

اگر پولیس کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھتی ھے، تو پولیس پر دفعہ 342/34 تعزیرات پاکستان اور 155c کے تحت FIR درج ھوگی۔

پولیس اسٹیشن میں محرر کا عہدہ 24 گھنٹے میں 1 منٹ کے لئے بھی خالی نہیں رہ سکتا۔
Chapter 22 Rule 8 Ploice Rules 1934.

پولیس اسٹیشن کی حدود میں کوئی وبائی مرض پھیل جائے، تو SHO اسکی رپورٹ SP اور ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر کو دینے کا پابند ھے۔
22-36 Police Rules1934

اگر پولیس چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتی ھے، تو ان پر دفعہ 452/34 ت پ اور 155c کی FIR درج ھوگی۔
جس کی سزا 3 سال تک قید اور جرمانہ ھے۔

26/12/2021

جب مقتول کا پوسٹمارٹم ہوا، تو اس کا منہ کھلا ہوا تھا، اس کا مطلب یہ ہے کہ بوقت وقوعہ کوئی گواہ موجود نہ تھا۔
(2020 YLR 1188).
گواہان چشم دید اور میڈیکل شہادت میں تضاد کی صورت میں سزا نہ ہوگی۔
(2021 SCMR 612).
گواہان کے مطابق، فائر 6 فٹ سے لگے تھے، لیکن ڈاکٹر صاحب کے مطابق ضربات پر Blackning نہ تھی۔ بریت
(2020 YLR 1139).
اگر MLC یا پوسٹ مارٹم میں، بیان کردہ ضربات کا دورانیہ، FIR میں بیان کردہ وقت وقوعہ سے، مطابقت نہ کرے، تو FIR مشکوک تصور ہو گی۔
(2020 MLD 136).
ضربات پر سیاہی یا Blackening وغیرہ صرف اس صورت ميں آۓ گی جبکہ فائر 5/6 فٹ کے فاصلہ سے کیا گیا ہو۔
(2019 YLR 2037).

14/12/2021
23/08/2021

معزز قارئین اگر آپ نے کسی بنک یا مالی ادار ے یا کسی مائکرو فنانس بنک سے قرضہ لیا ہے ، مالی حالات کی خرابی کہ وجہ سے آپ قرض کی اقساط یا بل ادا نہیں کر پا رہے ، اور متعلقہ بنک یا ادارے کے ریکوری افسران آپ کو ڈراتے دھمکاتے ہیں ، آپ کے گھر والوں کو حراساں کرتے ہیں یا محلہ میں آ کر آپ کی عزت نفس کو مجروح کرتے ہیں ، بدمعاشی کرتے ہیں، ساتھ اٹھا لے جانے کی دھمکی دیتے ہیں ، کورٹ سے دو مہنے بعد ڈگری لے کر اجرا فائل کر کے آپکو گرفتار کروانے کی دھمکی دیتے ہیں تو یہ سب گیدڑ بھبکیاں ہیں ۔ یہ جتنے افعال کا میں نے ذکر کیا یہ سب غیر قانونی ہیں ، بنک کا نمائندہ ڈرا دھمکا نہیں سکتا ، نہ ہی آپ لوگوں کی فیملی کو تنگ کر سکتا ہے ،اور نا ہی محلہ میں شور شرابہ کر سکتا ہے ،اور نہ ہی ہجوم کی صورت میں آ کر آپ پریشر بلڈ کر سکتا ہے ، اگر آپ کے ساتھ ایسا ہو رہا ہے ، اور آپ کی مالی حالات اس قدر خراب ہیں کہ آپ کے گھر میں روٹی کے لالے ہیں تو یہ پاٹے خان ، سودی نظام کی پیدوار حرام خور، انسان نما جانور آپ یا آپکی فیملی کے ساتھ کسی طور بد تہذیبی کرتے ہیں تو ملک پاکستان کے تعزیری قانون کے تحت جرم ہے ، جس میں حراسمنت ، ڈیفامیشن ، کریمبل ہاؤس ٹریس پاس جیسے جرائم سر دست ہیں ۔ لہذا ایسی گھمبیر صورت حال سے بچنے کے لیے اپنے کسی بھی قانونی مشیر سے رابطہ قائم کریں ۔۔ یا فیملی سے بد تمیزی حراساں کرنے اور نازیبا کلمات ادا کرنے گھر میں داخل ہو کر پیسے لے کر جانے کی ضد کرنے اور اٹھا لے جانے یا گرفتار کروانے جیسے دھمکی آمیز الفاظ سے ڈرانے کی صورت مین اپنی آپ بیتی ایک صفحہ پر تحریر کر کے متعلقہ تھانےکو درخواست دیں درخواست کی رسید اپنے پاس بطور ثبوت رکھ لیں ۔۔۔ آپ کی درخواست 24 گھنٹے کے بعد داخل دفتر ہونے کا میسج موصول ہو گا۔ جس پر گھبرانا نہیں بلکہ اپنی درخواست کی پیروی جاری رکھنی ہے ، اگر پھر بھی پرچہ درج نہ ہو تو ضابطہ فوجداری کہ دفعہ 22 کے تحط سیشن جج/جسٹس آف پیس یا آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائکورٹ سے اپنا پرچہ درج کروائیں۔۔۔ ریکوری آفیسر کا کام آپکو بس یاد دلانا ہوتا ہے کہ اپ کی قرض کی رقم واجب الادا ہے ، نہ کہ غریب عوام کہ عزت نفس مجروح کرنا نا اس کی فیملی کو حراساں کرنا، نہ اس کے گھر میں داخل ہو کر گالم گلوچ دینا،ہاں اگر فون پع رابطہ نہیں ہو رہا تو شائستگی سے اس کی فیملی سے اس کا رابطہ نمبر مانگ سکتے ہیں اور ایک ریکوری آفیسراپنا وزٹ دفتری اوقات میں کر سکتا ہے ۔ لیکن پہ اگر کاروباری پتہ پر وزٹ کر کے رابطہ قایم کر لیتا ہے تو پھر بلاوجہ گھر پہ نہیں آ سکتا۔۔۔سود اللہ پاک سے جنگ ہے لہذا اس گناہ عظیم سے بچیں تا کہ آپ کے کاروبار اور زندگی مین اللہ پاک برکتیں نازل عطا فرمائے اور سکون قلب آپکےنصیب میں ہو آمین
مزید رہنمائی کے لیے
رائے عاصم ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
ہمارا 24/7 رابطہ نمبر 03366341317
رائے لیگل کیئر
رائے لا کلینک
رائے ٹیکس سالوشنز
لیگل انفو
m.facebook.com/legalinfo1

Allah Ho Akbar

کیا دادا دادی پر دعوی دلا پانے  بابت خرچہ نان نفقہ ہو سکتا ہے؟
18/07/2021

کیا دادا دادی پر دعوی دلا پانے بابت خرچہ نان نفقہ ہو سکتا ہے؟

17/06/2021

سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبركاتہ! میرے والدین نے اپنی زندگی میں اپنی مرضی سے زمین میرے نام کردی تھی، باقی اولاد کو کچھ نہیں دیا تھا۔ انکی وفات کے بعد اب میرے بہن بھائی اپنا حصہ مانگ رہے ہیں۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ ان کا حصہ نہیں‌ بنتا۔ راہنمائی فرما دیں کہ کیا والدین کی واثت میں باقی بہن بھائی حصہ دار ہیں؟
جواب

آپ کے والدین نے باقی اولاد کو محروم کر کے ان کے ساتھ زیادتی کی، وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس سلسلے میں جوابدہ ہیں۔ اسلام نے والدین کو سختی سے روکا ہے کہ وہ ساری نوازشات ایک بیٹے یا بیٹی پر نہ کریں، اگر اپنی زندگی میں کچھ وقف کر رہے ہیں تو ساری اولاد میں انصاف کریں۔ ایک صحابی نے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو غلام دے دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ واپس لے لو کیونکہ انہوں نے باقی بیٹوں کو نہیں دیا تھا۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ:

أَنَّ أَبَاهُ أَتَی بِهِ إِلَی رَسُولِ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا فَقَالَ أَکُلَّ وَلَدِکَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْهُ.

ان کے والد ماجد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام دے دیا ہے۔ فرمایا کہ کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا ہی (غلام) دیا ہے؟ عرض کی کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے بھی واپس لے لو۔

بخاري، الصحیح، کتاب الہبة وفضلها، باب الهبة للولد وإذا أعطی بعض ولده شیئا لم یجز حتی یعدل بینهم ویعطي الآخرین، 2: 913، رقم: 2446، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة
مسلم، الصحیح، کتاب الهبات، باب کراهة تفضیل بعض الأولاد في الهبة، 3: 1241، رقم: 1623، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے ایک بیٹے کو عطیہ دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ بنانا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے اور اولاد کے درمیان انصاف کرنے کا فرمایا، حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ یَقُولُ أَعْطَانِي أَبِي عَطِیَّةً فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَأَتَی رَسُولَ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم فَقَالَ إِنِّي أَعْطَیْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِیَّةً فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَکَ یَا رَسُولَ اﷲِ قَالَ أَعْطَیْتَ سَائِرَ وَلَدِکَ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَاتَّقُوا اﷲَ وَاعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ قَالَ فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِیَّتَهُ.

حضرت عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ منبر پر فرماتے تھے کہ میرے والد ماجد نے مجھے ایک عطیہ دیا تو حضرت عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گواہ نہ بناؤ۔ یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے کہ میں نے اپنے بیٹے کو جو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہما سے ہے ایک عطیہ دیا ہے۔ یا رسول اللہ! وہ مجھ سے کہتی ہے کہ آپ کو گواہ بناؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو ایسا ہی دیا ہے؟ عرض گزار ہوئے کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ پھر وہ واپس لوٹ آئے اور اپنا عطیہ واپس لے لیا۔

بخاري، الصحیح، کتاب الهبة وفضلها، باب الإشهاد فی الهبة، 2: 914، رقم: 2447
ابن أبي شیبة، المصنف، کتاب الوصایا، باب: في الرجل یفضل بعض ولده علی بعض، 6: 233، رقم: 30989، الریاض: مکتبة الرشد
ایک روایت میں ہے کہ حضرت حاجب بن مفضل بن مہلب رضی اللہ عنہ کے والد ماجد نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

اعْدِلُوا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ، اعْدِلُوا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ، اعْدِلُوا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ.

اپنے بیٹوں میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔

سنن ابو داود میں الفاظ یہ ہیں:

اعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلَادِکُمْ اعْدِلُوا بَیْنَ أَبْنَائِکُمْ.

اپنی اولاد میں انصاف کرو، اپنے بیٹوں میں انصاف کرو۔

أحمد بن حنبل، المسند، 4: 278، رقم: 18475، مصر: مؤسسة قرطبة
أبي داود، السنن، کتاب الإجارة، باب في الرجل یفضل بعد ولده في النحل، 3: 293، رقم: 3544، دار الفکر
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ والدین کو اولاد میں عدل وانصاف کرنا چاہیے نہ کہ کسی ایک کا حق تلف کر کے دوسروں کو ہبہ کر دینا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ اولاد میں نا انصافی نہ کرو اور اﷲ سے ڈرو تاکہ باقی اولاد اپنے حقوق سے محروم نہ ہو۔ گھر میں والد بطور سرپرست اپنی بیوی اور بچوں کا نگران ہوتا ہے، اگر والد اپنی نگرانی میں موجود افراد کے ساتھ ظلم کرے گا تو عند اﷲ جوابدہ ہو گا کہ اُس نے اپنے ماتحت افراد کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اگر اس نے کسی کی حق تلفی کی ہو گی تو گناہگار اور مستحقِ سزا ہو گا۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم قَالَ أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِیَةٌ عَلَی أَهْلِ بَیْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْؤُولَةٌ عَنْهُمْ وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَیِّدِهِ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْهُ أَلَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِیَّتِهِ.

حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد (رعایا) کے بارے میں پوچھا جائے گا (یعنی ہر کوئی ذمہ داری کا جوابدہ ہو گا)۔ لہٰذا امام لوگوں کی طرف سے نگران ہے اور اس سے اُن لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اُس کے ماتحت تھے اور ہر آدمی اپنے گھر والوں کا نگران ہے اور اُس سے اُس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کے لیے نگران ہے اور اُس سے اُن کے بارے میں پوچھا جائے گا اور آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اُس سے اُس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے او رہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

بخاري، الصحیح، کتاب الأحکام، باب قول ﷲ تعالی{أطیعوا الله وأطیعوا الرسول وأولی الأمر منکم} 6: 2611، رقم: 6719
مسلم، الصحیح، کتاب الإمارة، باب فضیلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث علی الرفق بالرعیة والنهي عن إدخال المشقة علیهم، 3: 1459، رقم: 1829
(اس حدیث مبارکہ کو محدثین کی کثیر تعداد نے بیان کیا ہے)

اپنے ماتحت افراد کے حقوق میں خیانت کرنے والے شخص پر جنت حرام ہے۔ اگر والد اپنے ماتحت افراد کے حقوق میں خیانت کرے گا تو اسی حکم میں ہو گا۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: عَادَ عُبَیْدُ اﷲِ ابْنُ زِیَادٍ مَعْقِلَ بْنَ یَسَارٍ الْمُزنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِیهِ قَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِیثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم. لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَیَاةً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم یَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ یَسْتَرْعِیهِ اﷲُ رَعِیَّةً، یَمُوتُ یَوْمَ یَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِیَّتِهِ، إِلَّا حَرَّمَ اﷲُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ.

عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے مرض الموت میں ان کی عیادت کے لیے آیا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تم کو ایک ایسی حدیث سنا رہا ہوں جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے اور اگر مجھے یہ خیال ہوتا کہ میں ابھی کچھ عرصہ اور زندہ رہوں گا تو میں تم کو یہ حدیث نہ سناتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا حاکم بنایا ہو اور وہ اس کے حقوق میں خیانت کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔

مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب وعید من اقتطع حق المسلم بیمین فاجرة بالنار، 1: 122، رقم: 137، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

ہماری رائے میں اگر آپ والدین کے ساتھ نیکی کرنا چاہتے ہیں اور ان کو آخرت کی سختیوں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کا ترکہ تمام اولاد میں تقسیم کریں۔ کیونکہ جو لوگ وراثت کا مال اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے مختلف حیلے بہانے کرتے ہیں اور دوسرے ورثاء کو وراثت سے محروم کرتے ہیں، اُن کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّاo وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاo

اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو۔ اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو۔

الفجر، 89: 19، 20

والدین کے ہبہ کے بعد اگرچہ قانوناً آپ کے بہن بھائی اس وراثت میں حصہ دار نہیں ہیں، تاہم درج بالا آیات و روایات اور عقل و اخلاق کی روشنی میں آپ انہیں وراثت میں شریک کریں۔ یہ آپ کی اپنے ساتھ اور اپنے والدین کے ساتھ بہت بڑی نیکی ہوگی

PLJ 2020 Cr.C. (Note) 72[Lahore High Court, Multan Bench]Present: Syed Akhlaq Ahmed and Sagheer Ahmad Qadri, JJMUHAMMAD ...
04/09/2020

PLJ 2020 Cr.C. (Note) 72
[Lahore High Court, Multan Bench]

Present: Syed Akhlaq Ahmed and Sagheer Ahmad Qadri, JJ

MUHAMMAD YOUNUS--Petitioner

versus

STATE and another--Respondents

Crl. Misc. No. 1201-B of 2009, decided on 5.5.2010.

Criminal Procedure Code, 1898 (V of 1898)--

----S. 497--Prohibition (Enforcement of Hadd) Order, 1979, Arts. 3 & 4 r/w Control of Narcotic Substances Act, (XXV of 1997), Ss. 2(d) & 9(c)--Recovery of Bhang--Post-arrest bail, grant of--False allegation--Bhang did not fall within definition of Section 2(d)--Challenge to--If definition as provided u/S. 2(d) (i)(ii) of CNSA is seen cannabis (h**p) means cannabis resin it is specifically mentioned that extract of cannabis as resin which basically is form known vis Charas--Report of chemical examiner is still availed--Petitioner is admitted to post arrest bail amount to satisfaction of trial Court--Bail was allowed. [Para 6] A

2009 YLR 1040 ref.

Sheikh Tanvir Ahmed, Advocate for Petitioner.

Ch.Sarfraz Ahmed Zia, DPG for State.

Date of hearing : 05.5.2010.

03/09/2020

بسم اللہ الرحمن الرحیم
برائے مہربانی کوئی دوست بتائے گا کہ کس موضوع پر لکھنا چاہیے۔

“489-F  PPC  Dishonestly  issuance  a  cheque.--Whoever  dishonestly  issues  a  cheque  towards  re-payment  of  a  loa...
31/08/2020

“489-F PPC Dishonestly issuance a cheque.--Whoever dishonestly issues a cheque towards re-payment of a loan or fulfilment of an obligation which is dishonoured on presentation, shall be punishable with imprisonment which may extend to three years, or with fine, or with both, unless can establish, for which the burden of proof shall rest on him, that he had made arrangements with his bank to ensure that the cheque would be honoured and that the bank was at fault in not honouring the cheque.”

(emphasis added)

Bare perusal of aforementioned provision of law reflects that for invoking Section 489-F PPC, mere issuance of cheque or its dishonouring is not sufficient rather first of all it must have been proved that cheque was issued for fulfilment of obligation, meaning thereby that there must be material available on the record to show said obligation and in this case though it was alleged by the complainant that he supplied iron to the petitioner and in lieu of the same i.e. for the purpose of fulfilment of said obligation, impugned cheque was issued, yet learned Deputy Prosecutor General, on Court’s query, under instructions of police official present in Court and after

31/08/2020

PLJ 2019 Lahore 66
[Multan Bench Multan]

Present: Sardar Ahmed Naeem, J.

MUHAMMAD SHAHBAZ--Petitioner

versus

EX-OFFICIO JUSTICE OF PEACE/ASJ, MAILSI and 4 others--Respondents

W.P. No. 13475 of 2018, decided on 8.11.2018.

Criminal Procedure Code, 1898 (V of 1898)--

----Ss. 22-A & 22-B--Ex-officio justice of peace--Application of--Allegations--Ex- Officio Justice of Peace requisitioned a report from Ilaqa police which revealed that matter was enquired into vide rapat and Section 174, Cr.P.C. was resorted to--Medical officer could not determine exact cause of death--No enmity was found between parties by investigating agency--Ex-Officio Justice of Peace directed SHO to record version of respondent and then to proceed in due course of law--Police report apparently is not against petitioner and also not favourable to said respondent--S.H.O. directed to record version of petitioner and to proceed under the law, whichever is found correct--Petition disposed of.

[Pp. 67 & 68] A & C

Ex-officio justice of peace--

----Under law, Ex-Officio Justice of Peace is not bound to call for such a report and if report is requisitioned then it is either to .be relied upon or Ex-Officio Justice of Peace would mention reason to ignore said report. [P. 68] B

Mr. Khalid Naseem, Advocate for Petitioner.

Mian Adil Mushtaq, A.A.G. for Respondent.

Mr. Muhammad Qadeer Asif Toor, Advocate for Respondent No. 5.

Date of hearing: 8.11.2018.

31/08/2020

PLJ 2020 Tr.C. (Services) 5
[Punjab Service Tribunal, Lahore]

Present: Abid Hussain Qureshi, D&SJ/Member-V

Dr. SAEED HUSSAIN EX-MEDICAL OFFICER, NISHTAR HOSPITAL, MULTAN--Appellant

versus

MEDICAL SUPERINTENDENT, DISTRICT HEADQUARTER HOSPITAL, BHAKHAR and 3 others --Respondents

Appeal No. 614 of 2013, decided on 8.7.2019.

Punjab Employees Efficiency, Discipline and Accountability Act, 2006 (XII of 2006)--

----S. 4(b)(4)--Petitioner was working as medical officer--Absence from duty--Strucking off from duty--Departmental inquiry--Pendency of inquiry--Filling of writ petition--Allowed and directed to decide application--Issuance of show-cause notice--Compulsory retirement--Appeal--Dismissed--No regular inquiry was ever got conducted against appellant despite fact that it was a factual controversy regarding absence of appellant as appellant throughout remained vigilant in asserting his rights before different forums as a number of documents are available on record to establish said fact--Authority did not take any appropriate action against inquiry officer who did not conclude inquiry for a period of more than five years which reflects inapt and lethargic attitude of concerned department, resultantly, appellant suffered mentally, physically and financially as he remained out of job for almost 16 years--Since respondent have committed gross illegality firstly by stricking off duties of appellant without any reason, secondly by not concluding departmental inquiry within stipulated period and thirdly by illegally converting it into PEEDA Act, 2006 from PRSO, 2000--Appeal was allowed. [P. 9] A, B & C

Mr. Khadim Hussain Khokhar, Advocate, Counsel for Appellant.

Mr. Noor Ahmad, District Attorney and Mr. Naeem Akhtar, Legal Consultant, D.R. for Respondents.

Date of hearing: 8.7.2019

Address

D-Ground
Faisalabad
37100

Telephone

00923366341317

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Legal info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Legal info:

Share