12/08/2026
محترم چیئرمین ایف بی آر صاحب!
ایک مودبانہ گزارش (Humble Submission) ہے۔
آپ نے حال ہی میں فرمایا کہ ٹیکس ریٹرن کو اتنا آسان (Easy) اور خودکار بنا دیا گیا ہے کہ ٹیکس کنسلٹنٹس کی ضرورت بھی کم یا ختم ہو جائے گی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو گزارش ہے کہ کسی مناسب فورم پر اپنی آئی ٹی ٹیم (IT Team) کے ہمراہ تشریف لائیں، نئے ریٹرن کا براہِ راست ڈیمو (Live Demo) دیں اور ٹیکس پروفیشنلز کے سوالات کے جوابات بھی دیں۔
اس سے عملی طور پر واضح ہو جائے گا کہ نیا ایزی ریٹرن (Easy Return) کس حد تک صارف دوست، سادہ اور عملی ہے اور اس کی تیاری میں ٹیکس پروفیشنلز کی ضروریات کو کس حد تک مدنظر رکھا گیا ہے۔
ساتھ ہی ایک سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اگر اے آئی (AI)، الگورتھم اور فیس لیس اسیسمنٹ (Faceless Assessment) انسانی مداخلت کو کم کر رہے ہیں تو ایف بی آر کے تقریباً 25 ہزار ملازمین کے کردار اور مستقبل کے بارے میں بھی کوئی واضح پالیسی سامنے آئے گی؟
اور اگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت اور احتساب لانا مقصد ہے تو ایف بی آر افسران کے اثاثوں، طرزِ زندگی، وسائل اور کرپشن سے متعلق شکایات کے مؤثر احتساب کا نظام بھی اسی سنجیدگی سے کیوں نہ متعارف کرایا جائے؟
اصلاحات کا معیار یہ نہیں کہ کس شعبے کے لوگوں کی ضرورت ختم ہوئی؛ اصل معیار یہ ہے کہ پورا نظام کتنا آسان، شفاف، مؤثر اور جواب دہ بنا۔