Adv Naseem

Adv Naseem Lawyer by profession. Gold medalist. Aspiring new age Politician

15/11/2023

مظبوط رہیں !!
زندگی بزدلوں کو تسلیم نہیں کرتی۔

12/11/2023

ایک دن بھی نبھا نا پائیں گے میرا کردار

وہ لوگ جو مجھے مشورے ہزار دیتے ہیں

09/10/2023

‏آپ کے بچے بھلے آپ سے پوچھیں یا نہ پوچھیں، آپ انہیں یہ ضرور بتایا کیجیئے کہ

ہم فلسطین سے اس لیئے محبت کرتے ہیں کہ

01: یہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔

02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔

03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔

04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔

05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔

06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ" یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی" رکھ دیا گیا تھا۔

07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے۔

08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔

09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔

10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔

11: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔

12: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔

13: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔

14: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہوگا۔

15: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔

16: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔

17: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔

18: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔

19: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔

20: وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔

21: اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔

22: دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔

23: بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔

‏24: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین" انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون" زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔

25: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے

26: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر کئی گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے

01/10/2023

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺣﻘﮯ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﺗﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺣﻘﮧ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
انہی ﺩﻧﻮﮞ ’’ﺍﯾﮑﺲ ﭼﯿﻨﺞ‘‘ ﮐﯽ ’’ﺍﭖ ﮔﺮﯾﮉﯾﺸﻦ‘‘ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻓﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔

ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ہمارے ڈیرے ﭘﺮ ﺍٓ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ڈیرے ﭘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﮨﻢ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﺎﭼﺎ ﺟﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ حاجی ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﻠﯿﮟ ﺗﮏ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ لئے ﯾﮧ صورتحال ﮨﻀﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﺎ۔

ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ’’ﺍﺑﺎ ﺟﯽ! ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ؟‘‘
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍبھیگی ہوئی تھیں۔
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﮟ، ﺳﺮ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛

’’ﺑﯿﭩﺎ! ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﯾﮧ ﺣﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻘﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﮐﭧ ﮔﺌﮯ۔
ﺟﺲ ﺩﻥ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘

ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﮔﻮﻣﮕﻮ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺌﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
یہی ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻓﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺟﺲ ﺩﻥ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
’’ﺑﯿﭩﺎ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﮐﻤﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ کے ﺍٓﭖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﮯ۔‘‘
’’ﺑﯿﭩﺎ! ﺍٓﭖ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ،
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ۔۔۔
ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺅ ﮔﮯ…!

21/08/2023

دلائل جتنے کمزور ہوں گے
الفاظ اتنے ہی سخت ہوں گے

09/08/2023

انسان کی طلب جتنی سچی ہوتی ہے، اللّٰه تعالیٰ اتنے ہی وسائل پیدا کر دیتا ہے، آپ کو وہی ملتا ہے جو آپ قدرت سے مانگتے ہیں۔ اللّٰه مانگنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا، اللّٰه کے دربار میں انکار ہے ہی نہیں بس طلب سچی اور تڑپ کھری ہونی چاہیے۔

There is Freedom of Speech, but I cannot guarantee Freedom after Speech.
08/08/2023

There is Freedom of Speech, but I cannot guarantee Freedom after Speech.

07/08/2023
27/07/2023

‏تنہائی وہ زہر بجھی تلوار ہے جس کی دہشت سے
‏بعض اوقات تو دشمن کو بھی زندہ رکھنا پڑتا ہے
نوشی گیلانی

21/07/2023

I would rather be a tiny bird with a wingspan, flying in the vast and dangerous sky, than a lion living in a golden cage.

14/07/2023

اصولوں پر آنچ آئے تو ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہیں تو زندہ نظرآنا ضروری ہے!

13/07/2023

‏ایک افریقی کہاوت ہے کہ بھیڑ اپنی ساری زندگی بھیڑیے سے ڈرتے ہوئے گزار دیتی ہے ،اور آخر اسے چرواہا ہی کھا جاتا ہے۔

Address

Chamber No. 390 Jinnah Law Chambers District Courts
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00

Telephone

+923013960238

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Adv Naseem posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Adv Naseem:

Share