شوکت لاء ایسوسی ایٹس ڈیرہ غازیخان

شوکت لاء ایسوسی ایٹس ڈیرہ غازیخان I am Rana Ghulam Haider Advocate(MBA LLB) residing in kotchutta dera ghazi khan and working as a pro

20/09/2022

: ہبہ کے لوازمات== پیشکش ، قبولیت، منتقلی، قبضہ۔
(2021 YLR 1090).
ہبہ نامہ کے گواہان، شناخت کنندہ، ریوینو آفیسر اور متعلقہ پٹواری کو بطور گواہ پیش نہ کرنے کی صورت ميں، ہبہ ثابت نہ ہو گا۔
(2018 MLD 739).
خاوند کی طرف سے، بیوی کے حق ميں کیے گئے، ہبہ کو رجسٹرڈ کروانا لازم نہ ہے ۔
(PLD 2015 Pesh 111).
زرعی زمین کا ہبہ، صرف وارثان کے حق ميں ہی، جائز تصور ہو گا۔
(2012 CLC 1333).
دیگر وارثان کو، یکسر نظر انداز کر کے، تمام جائیداد کسی ایک وارث کے حق میں ہبہ نہ کی جا سکتی ہے۔
(1996 CLC 857).
(1995 SCMR 75).
مشترکہ کھاتہ دار کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2017 SCMR 1476).
وراثت کے اصول کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2016 YLR 383).
کسی غیر قانونی یا void آرڈر کو چیلنج کرنے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2016 YLR 2575).
غیر قانونی قابض سے، قبضہ واپس لینے کے لیے، مالک اراضی کے لیے کوئی Limitation مقرر نہ ہے.
(2015 CLC 1711).
یکطرفہ کاروائی منسوخ کروانے کے لیے کوئی معیاد مقرر نہ ہے.
(2013 YLR 1584).
رٹ پٹیشن دائر کرنے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2011 YLR 3025).
محکمہ مال میں کسی غلط انداز کو درست کروانے کے لیے کوئی Limitation نہ ہے.
(2004 SCMR 1502).
جی، Existing Rights کے اصول کے لئے کوئی Limitation نہ ہے.
(2017 SCMR 316).

20/09/2022

ضابطہ دیوانی کے سیکشن 11 کے تحت Resjudicata کی بناء پر حق مہر کا دعویٰ خارج ہوا.
(2019 YLR 1290).
دعویٰ عدم پیروی خارج ہونے کے بعد، اگر درخواست برآمدگی دعویٰ نہ گزاری جائے، تو اسی بناء پر دوسرا دعویٰ قابلِ رواں نہ ہے.
(2013 YLR 2000).

ریونیو کورٹ کا فیصلہ، سول کورٹ میں بطورِ Resjudicata اپلائی نہ ہو گا.
[2013 CLC 632].
دو کیس، اکٹھی سماعت، فیصلہ الگ الگ، اگر ایک فیصلہ کے خلاف اپیل نہ کی جائے، تو اسے دوسری اپیل میں بطورِ Resjudicata تصور کیا جائے گا.
1993 CLC 247

19/09/2022

1996 ایم ایل ڈی 1064

ثبوت پیش کرنے کے معنی میں ثبوت کا بوجھ مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ جیسے جیسے کارروائی چلتی ہے، ثبوت کا بوجھ اس پارٹی سے ہٹایا جا سکتا ہے جس پر اس نے پہلے آرام کیا تھا۔ اس طرح جب کوئی مدعی عدالت میں آتا ہے اور بعض حقائق کی بنیاد پر کچھ ریلیف مانگتا ہے تو ان حقائق کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے لیکن قانون اس بات کا بندوبست کرتا ہے کہ ان حالات میں کوئی فریق جس پر بوجھ ہو۔ قانون شہادت، 1984 کے آرٹیکل 117 اور 118 کے تحت ثبوت کی ذمہ داری دوسرے فریق پر منتقل ہو سکتی ہے۔ آرٹیکل 122، قانون شہادت، 1984 کے مطابق جب کوئی عمل خاص طور پر کسی بھی شخص کے علم میں ہوتا ہے تو اس حقیقت کو ثابت کرنے کا بوجھ اس پر ہوگا۔ یہ اصول بہت عام اطلاق کا ہے۔ یہ اچھی بات ہے کہ مسئلہ کے ثبوت میں اثبات کا ثبوت شامل ہو یا منفی۔ درحقیقت یہ کچھ خاص ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس میں کسی فریق کے لیے ایسی حقیقت قائم کرنا ناممکن یا غیر متناسب مشکل ہو گا جو خاص طور پر اس کے مخالف کے علم میں ہو اور جسے مؤخر الذکر آسانی سے ثابت کر سکے۔ یہ خاص طور پر ریکارڈ یا دستاویزی ثبوت کے معاملے میں لاگو ہوتا ہے جو کسی خاص حقیقت کو ثابت یا غلط ثابت کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے لیکن فریق مخالف کی تحویل میں ہوتا ہے۔ اس طرح، جہاں مدعی نے اپنے پاس دستیاب بہترین ثبوت پیش کیے ہیں اور ریکارڈ یا ثبوت کی تیاری کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں، ریکارڈ یا ثبوت کی تیاری کی ذمہ داری خاص طور پر مدعا علیہ کے علم اور تحویل میں منتقل ہو جائے گی بعد میں.

19/09/2022

نکاح کے لئے کم سے کم عمر کی شرط اور کم عمری کی شادی کے کیس میں ضمانت کے حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ !

فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :

لائبہ نور نامی ایک لڑکی کے والد کی شکایت پر تھانہ سہالہ میں اس کیس کے پیٹیشنر عبد الرزاق کے خلاف مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ تین سو پینسٹھ (بی) کے تحت جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مسمات لائبہ کو اغوا کرنے کی ایف آئی آر درج ہوئی جس کے بعد پیٹیشنر کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا اور گرفتاری کے بعد اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج صاحب نے پیٹیشنر کی ضمانت کی درخواست بھی خارج کر دی جس کے بعد پیٹیشنر کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی گئی ۔

استغاثہ کی جانب سے پیٹیشنر پر یہ الزام تھا کہ پیٹیشنر نے مسمات لائبہ نور کو جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے اغوا کیا تھا جبکہ دوسری جانب پیٹیشنر کی جانب سے یہ دلائل دئے گئے کہ استغاثہ کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ پیٹیشنر نے مسمات لائبہ نور سے باقاعدہ نکاح کیا ہوا ہے اور اس بابت عدالت کے سامنے نکاح نامہ اور لڑکی کی جانب نکاح کے وقت دیا گیا ایک ایفی ڈیوٹ بھی جمع کرایا گیا اور ریسپانڈنٹس پر یہ الزام عائد کیا کہ لڑکی کا والد لڑکی کو جبرا ہراساں کر کے لڑکی کو نکاح سے انکاری ہونے کا کہ رہا ہے جبکہ ریاست کے وکیل اور ریسپانڈنٹس کے وکیل کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ لڑکی قانون کی رو سے مائنر ہے اور اسی وجہ سے اس کی جانب سے کیا گیا نکاح صحیح نہیں ہے اور لڑکی کا عدالت میں دیا گیا وہ بیان بھی پیش کیا گیا جس میں لڑکی کا کہنا تھا کہ اس نے پیٹیشنر کے ساتھ نکاح پیٹیشنر کی جانب سے زور زبردستی اور جبر کے تحت کیا تھا ۔ ریسپانڈنٹس کی جانب سے لڑکی کے مائنر ہونے کے جواب میں پیٹیشنر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق لڑکی کی عمر سولہ سال سے زیادہ اور وہ بالغہ بھی ہے تو اس وجہ سے اس کا نکاح صحیح ہے ۔

استغاثہ، پیٹیشنر اور ریسپانڈنٹس کے وکلاء کی جانب سے دلائل کے بعد عدالت نے لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر میں قانونی موشگافیوں کو دیکھتے ہوئے بیریسٹر ظفر اللہ خان کو عدالتی معاون مقرر کیا کہ وہ نکاح کے لئے لڑکی کے کم سے کم عمر کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کرے ۔

بیرسٹر ظفر اللہ خان صاحب کے جانب سے نکاح کے لئے لڑکی کی عمر کے قانون کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتیں رکھیں گئیں کہ بالخصوص اسلام آباد میں نکاح کے لئے لڑکی کے عمر کا قانون واضح نہیں ہے بلکہ اس میں کئ شبہات ہیں ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے سورہ نساء کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نکاح کے لئے صرف " بلوغت " کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ " رشد " کا ہونا لازمی ہے ۔ بیرسٹر صاحب نے اس کے بعد کہا کہ کئ ایک اسلامی ممالک نے نکاح کے لئے ایک خاص عمر مقرر کی ہے اور اس کے بعد کم عمری کی شادی کے نقصانات کے لئے میڈیکل ریسرچ کے حوالے بھی دیے اور آخر میں عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں نکاح کے لئے کم سے کم اٹھارہ سال عمر ایک بہتر عمر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا تھا کہ " چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ " میں نکاح کے لئے کم سے کم عمر سولہ سال ہے ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے ڈی ایف ملا کی محمڈن لا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں نکاح کی عمر پندرہ سال ہے ۔ بیرسٹر صاحب کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ دونوں فریقین فقہ حنفی سے تعلق رکھتے ہیں تو امام ابو حنیفہ رح کی رائے میں نکاح کی عمر سترہ سال ہے ۔ اس کے بعد بیرسٹر صاحب نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے میں لڑکی کے لئے بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں لڑکی کا " سوئ جیورس " ہونا لازمی ہے ۔ مندرجہ بالا تمام دلائل دینے کے بعد بیرسٹر صاحب نے عدالت کے سامنے یہ بات رکھی کہ قانون میں لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر واضح نہیں ہے ۔

استغاثہ ، پیٹیشنر ، ریسپانڈنٹس اور عدالتی معاون کی طرف سے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلے کا آغاز سورہ نساء کی آیت کے ترجمے اور مولانا مودودی کی تفہیم القرآن سے کیا ہے کہ نکاح کے لئے صرف بلوغت نہیں بلکہ " رشد " کا ہونا بھی لازمی ہے۔ رشد کی تعریف کے لئے عدالت نے " ہینس ویہر " کی ڈکشنری کا حوالہ دیا ہے اور اس کے بعد لکھا ہے کہ بلوغت کے ساتھ فیصلہ سازی اور زہنی میچورٹی نکاح کے لئے شرائط ہیں اور اس کے لئے جسٹس صاحب نے ایک کتاب " تحقیق عمر حضرت عائشہ صدیقہ رض " سے بھی حوالہ دیا ہے جس کے مطابق لڑکے کے نکاح کے اٹھارہ سال اور لڑکی کا سترہ سال کا ہونا لازمی ہے۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ، ڈی ایف ملا کے حوالے بھی دیے اور سندھ حکومت کی جانب سے لڑکی اور لڑکے دونوں کے نکاح کے لئے اٹھارہ سال کا ہونا بھی زکر کیا ۔

مختلف قوانین اور مزاہب میں لڑکی کے نکاح کے لئے مختلف عمر کے زکر کے بعد جسٹس صاحب نے فیڈرل شریعت کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ اگر کوئ مباح کام جس کے کرنے سے معاشرے کو نقصان ہو تو ریاست اس کام کو بند کروا سکتی ہے ۔ اس کے بعد جسٹس صاحب نے اسلامی قانون کے ایک اہم اصول " سد الزرائع " کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ریاست کسی بھی ایسے کام کو بند کروا سکتی ہے جس سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اور اس بابت جسٹس صاحب نے حضرت عمر فاروق رض کے دور کے ایک مشہور واقعے کا حوالہ بھی دیا ہے ۔

مندرجہ بالا تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد جسٹس صاحب نے لڑکی کے نکاح کے لئے اسلام آباد کی حد تک یہ صورت حال ہے کہ :

الف ) چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کے تحت سولہ سال سے کم عمر میں لڑکی کا نکاح کرانا جرم ہے ۔

ب) جو لڑکی اٹھارہ سال کی عمر تک پہنچ گئی ہو اور وہ " سوئی جیورس " بھی ہو تو وہ ولی کے بغیر نکاح کر سکتی ہے۔

ج) فقہ حنفی کے مطابق لڑکی سترہ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد نکاح میں داخل ہو سکتی ہے۔

د) ڈی ایف ملا کے مطابق لڑکی پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد نکاح کر سکتی ہے ۔

ح) نکاح کے لئے بلوغت کا ہونا کافی نہیں بلکہ رشد کا ہونا بھی لازمی ہے۔

مندرجہ بالا صورت حال واضح کرنے کے بعد جسٹس صاحب نے لکھا ہے کہ فیڈرل شریعت کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت کو سندھ حکومت کی طرح نکاح کے لئے ایک خاص عمر مقرر کرنی چاہیے تاکہ لڑکی کے نکاح کے لئے کم سے کم عمر کے حوالے سے تمام شبہات ختم ہوسکیں اور ایسا کرنے پر شریعت کی جانب سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کوئ پابندی بھی نہیں ہے ۔

لڑکی کے نکاح کے لئے عمر کے مسئلے کو تفصیل سے زکر کرنے کے بعد جسٹس صاحب کیس کی طرف واپس آئے ہیں اور لکھا ہے کہ چونکہ لڑکی کی عمر نکاح کے وقت سولہ سال سے زیادہ تھی تو چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اس پر لاگو نہیں ہوسکتا لیکن آئین کے آرٹیکل دو سو ستائیس کے مطابق فقہ حنفی لڑکی پر لاگو ہوتا ہے ۔ مزید برآں لڑکی سوئی جیورس بھی نہیں ہے تو ولی کا ہونا بھی لازمی تھا اور چونکہ پیٹیشنر کی جانب سے نکاح نامہ اور ایفی ڈیوٹ بھی جمع کرایا گیا ہے تو یہ کیس مزید انکوائری کا ہے اور اس وجہ سے پیٹیشنر کو ضمانت کا حقدار قرار دے کر ضمانت دی گئی ۔

Note : This Important Judgement Is Written By Justice Amir Farooq Of Islamabad High Court And It Can Be Searched And Cited As
2022 P Cr. L J 953

18/09/2022

ملزم کی غیر موجودگی میں سماعت مقدمہ پر نہایت معلوماتی فیصلہ

TRIAL IN ABSENTIA.......................
Trial in absentia (TIA) is a trial that is conducted in the absence of the accused and is an exception to the celebrated principle of natural justice audi alterem partum i.e. nobody should be condemned unheard. The provisions of law pertaining to TIA are available in international as well as national laws of many countries. TIA is a mechanism that always remained under discussion by legal experts and jurists. One school of thought, which seems less popular, is that an accused, who absents himself from trial or avoids the process of law deliberately, deserves no leniency and in the larger public interest he should be brought to book, and his absence should be no excuse to halt his trial. On the other hand, it is argued that TIA seriously undermines the transparency of the due process of law and compromises the various fundamental rights guaranteed under the statutes and constitutions of different jurisdictions.

SANCTITY OF Trial TRIAL IN ABSENTIA AND NTERNATIONAL LAW..............................
According to Article 14(3)(d) International Covenant on Civil and Political Rights [ICCPR], an accused shall be entitled to be tried in his presence, and to defend himself in person or through legal assistance of his own choosing; to be informed, if he does not have legal assistance, of this right; and to have legal assistance assigned to him, in any case where the interests of justice so require, and without payment by him in any such case if he does not have sufficient means to pay for it. Article 6 of the European Convention on Human Rights provides for the right to a fair trial. In the case of Colozza v Italy , the European Court of Human Rights (ECHR) stated that the object and purpose of Article 6 reflect “that a person „charged with a criminal offence‟ is entitled to take part in the hearing”. Article 63 (1) of the Rome Statute of the International Criminal Court provides that the accused shall be present during the trial.

TRIAL IN ABSENTIA IN OUR JURISDICTION..................
In our jurisdiction, substantive and procedural laws have been derived from the English model through the adoption of laws and structures of British India, which itself is a codified legal system based on nineteenth century English law. In other words, our legal system is derived from English common law and is based on the much-amended Constitution and Islamic law („sharia’). Normal procedure for trial has been provided under the Code of Criminal Procedure, 1898 which makes it mandatory that accused must be present before the Court during the course of trial. Although presence of accused can be dispensed with in particular circumstances under sections 205 and 540-A Cr.P.C. but there are few stages where even his personal attendance cannot be dispensed with like indictment, recording of his statement and pronouncement of the judgment, etc. Pertinently, conducting trial in absentia is an illegality which is not curable under section 537 Cr.P.C.

In our jurisdiction, the scheme of trial in absentia was provided under section 5-A (4) of the Suppression of Terrorist Activities (Special Courts) Act, 1975. The trial in absentia was also made permissible in the Martial Law regime in 1977. The Terrorist Affected Areas (Special Courts) Act which got promulgated in 1992 also granted Special Courts under the Act the power to conduct trials in absentia under Section 13(10). Similarly, Courts established under the Anti-Terrorism Act, 1997 were given powers under section 19(10) of the Act to hold the trial in absentia.

The right to be represented by counsel of own choice is given by the Constitution of Islamic Republic of Pakistan, 1973 under Article 10(1) . Further, there is possibility that the appellant did not deliberately evade the process of criminal justice system, because his failure to appear before the trial court, as and when required by the trial court, was due to lack of knowledge or some other reasons beyond his control. Even otherwise, if it is assumed that as a means to circumvent the process of criminal justice system, the appellant deliberately absconded, even in that eventuality he could not have been tried and convicted in absentia. Rather, trial court could merely record evidence against him as envisaged under section 512 Cr.P.C after satisfying itself by adhering to the provisions of section 87/88 Cr.P.C that the accused has, in fact, absconded himself and there is no likelihood of his joining the trial proceedings in near future. It is important to state here that the purpose of section 512 Cr.P.C is merely to preserve the evidence of a witness for an eventuality where protection was given to the deposition of such witness who might not be alive at the time of appearance of the accused or might have become incapable of giving evidence or attendance of said witness could not be procured without any delay, expense or inconvenience.

A trial conducted in absentia violates both constitutional guarantees enshrined under Articles 4, 8, 9, 10 and 10-A of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973 and principles of natural justice. The only vital question of law involved in this appeal is that whether the appellant could be tried and convicted in absentia under section 19(10) of the Anti-Terrorism Act, 1997. Vires of the aforementioned section were judiciously reviewed by the Apex Court of the country in Mehram Ali and others vs. Federation of Pakistan and others – PLD 1998 SC 1445 whereby only section 19(10)(b) (since deleted) of the Anti-Terrorism Act, 1997 was declared ultra vires being violative of Article 10 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973. Rest of the provisions of section 19 were held to be intra vires.
Crl. Appeal No.364/2022 (Muhammad Umair vs. The State & another)
Date of hearing: 26-05-2022

07/07/2022

سات سالہ نابالغ کی حضانت والد کو دی گئی،
(1995 CLC 800).
اگر والدہ نے بذریعہ اقرار نامہ نابالغان والد کے سپرد کیۓ ہوں، تو حضانت کی حق دار نہ ہو گی.
(NLR 1996 Civil Lah 568).
اگر والد بچوں کے مفاد میں دوسری شادی نہ کرے تو حضانت کا حقدار والد ہو گا.
(2004 SCMR 1735).
اگر والدہ Prohibited Degree کے مرد سے دوسری شادی کرے تو ایسی صورت میں نابالغ بیٹی والد کو ملے گی، والدہ حضانت کی حق دار نہ ہے.
(2014 SCMR 343).
نانی کے مقابلے میں والد بچوں کی حضانت کا حقدار ہے.
(2016 MLD 801).
اگر والدہ دوسری شادی کرے، تو حضانت کی حق دار نہ ہو گی.
(2018 MLD 591).

06/07/2022

یہ انفارمیشن ہر پاکستانی شہری کے لیے جاننا ضروری ہے

* دفعہ 307 * = قتل کی کوشش کی
* دفعہ 302 * = قتل کی سزا
* دفعہ 376 * = عصمت دری
* دفعہ 395 * = ڈکیتی
* دفعہ 377 * = غیر فطری حرکتیں
* دفعہ 396 * = ڈکیتی کے دوران قتل
* دفعہ 120 * = سازش
* سیکشن 365 * = اغوا
* دفعہ 201 * = ثبوت کا خاتمہ
* دفعہ 34 * = سامان کا ارادہ
* دفعہ 412 * = خوشی منانا
* دفعہ 378 * = چوری
* دفعہ 141 * = غیر قانونی جمع
* دفعہ 191 * = غلط ھدف بندی
* دفعہ 300 * = قتل
* دفعہ 309 * = خودکش کوشش
* دفعہ 310 * = دھوکہ دہی
* دفعہ 312 * = اسقاط حمل
* دفعہ 351 * = حملہ کرنا
* دفعہ 354 * = خواتین کی شرمندگی
* دفعہ 362 * = اغوا
*دفعہ 320* = بغیر لائسنس یا جعلی لائیسنس کے ساتھ ایکسڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا(ناقابلِ ضمانت)
,*دفعہ 322 = ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت واقع ہونا (قابلِ ضمانت)
* دفعہ 415 * = چال
* دفعہ 445 * = گھریلو امتیاز
* دفعہ 494 * = شریک حیات کی زندگی میں دوبارہ شادی کرنا
* دفعہ 499 * = ہتک عزت
* دفعہ 511 * = جرم ثابت ہونے پر جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا۔
4
ہمارے ملک میں، قانون کے کچھ ایسے ہی حقائق موجود ہیں، جس کی وجہ سے ہم واقف ہی نہیں ہیں، ہم اپنے حقوق کا شکار رہتے ہیں۔

تو آئیے اس طرح کچھ کرتے ہیں
* پانچ دلچسپ حقائق * آپ کو معلومات فراہم کرتے ہیں،
جو زندگی میں کبھی بھی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔

* (1) شام کو خواتین کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا * -

ضابطہ فوجداری کے تحت، دفعہ 46، شام 6 بجے کے بعد اور صبح 6 بجے سے قبل، پولیس کسی بھی خاتون کو گرفتار نہیں کرسکتی، چاہے اس سے کتنا بھی سنگین جرم ہو۔ اگر پولیس ایسا کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو گرفتار پولیس افسر کے خلاف شکایت (مقدمہ) درج کیا جاسکتا ہے۔ اس سے اس پولیس افسر کی نوکری خطرے میں پڑسکتی ہے۔

* (2.) سلنڈر پھٹنے سے جان و مال کے نقصان پر 40 لاکھ روپے تک کا انشورینس کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔

عوامی ذمہ داری کی پالیسی کے تحت، اگر کسی وجہ سے آپ کے گھر میں سلنڈر ٹوٹ جاتا ہے اور آپ کو جان و مال کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، تو آپ فوری طور پر گیس کمپنی سے انشورنس کور کا دعوی کرسکتے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ گیس کمپنی سے 40 لاکھ روپے تک کی انشورنس دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔ اگر کمپنی آپ کے دعوے کو انکار کرتی ہے یا ملتوی کرتی ہے تو پھر اس کی شکایت کی جاسکتی ہے۔ اگر جرم ثابت ہوتا ہے تو ، گیس کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا جاسکتا ہے۔

* (3) کوئی بھی ہوٹل چاہے وہ 5 ستارے ہو… آپ مفت میں پانی پی سکتے ہیں اور واش روم استعمال کرسکتے ہیں * -

سیریز ایکٹ، 1887 کے مطابق، آپ ملک کے کسی بھی ہوٹل میں جاکر پانی مانگ سکتے ہیں اور اسے پی سکتے ہیں اور اس ہوٹل کے واش روم کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ اگر ہوٹل چھوٹا ہے یا 5 ستارے، وہ آپ کو روک نہیں سکتے ہیں۔ اگر ہوٹل کا مالک یا کوئی ملازم آپ کو پانی پینے یا واش روم کے استعمال سے روکتا ہے تو آپ ان پر کارروائی کرسکتے ہیں۔ آپ کی شکایت کے سبب اس ہوٹل کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔

* (4) حاملہ خواتین کو برطرف نہیں کیا جاسکتا * -

زچگی بینیفٹ ایکٹ 1961 کے مطابق، حاملہ خواتین کو اچانک ملازمت سے نہیں ہٹایا جاسکتا۔ حمل کے دوران مالک کو تین ماہ کا نوٹس اور اخراجات کا کچھ حصہ دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سرکاری ملازمت تنظیم میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ یہ شکایت کمپنی بند ہونے کا سبب بن سکتی ہے یا کمپنی کو جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

*(5) پولیس افسر آپ کی شکایت لکھنے سے انکار نہیں کرسکتا*

پی پی سی کے سیکشن 166 اے کے مطابق، کوئی بھی پولیس افسر آپ کی شکایات درج کرنے سے انکار نہیں کرسکتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر اس کے خلاف سینئر پولیس آفس میں شکایت درج کی جاسکتی ہے۔ اگر پولیس افسر قصوروار ثابت ہوتا ہے تو، اسے کم سے کم * (6) * ماہ سے 1 سال قید ہوسکتی ہے یا پھر اسے اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔
یہ دلچسپ حقائق ہیں، جو ہمارے ملک کے قانون کے تحت آتے ہیں، لیکن ہم ان سے لاعلم ہیں۔

*یہ پیغام اپنے پاس رکھیں، یہ حقوق کسی بھی وقت کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔* _
* سپاہی :

05/07/2022

مقررہ تاریخ پر کرایہ ادا کرنا کرایہ دار کا فرض ہے، کرایہ کی رقم کو سیکورٹی کی رقم سے منہا نہ کیا جا سکتا ہے.
(2018 CLC 161).
مالک مکان، بیوی بچوں کے علاوہ اپنی دیگر اہل خانہ کے لیے بھی مکان خالی کروا سکتا ہے.
(2017 MLD 1137).
تحریری معاہدہ کرایہ داری کی عدم موجودگی میں، کرایہ داری کی مدت صرف ایک ماہ تصور ہو گی. ایک دفعہ ڈیفالٹر ہونے کی صورت میں بعد ازاں کرایہ ادا کرنا بھی، کرایہ دار کو کوئی فائدہ نہ دے گا.
(2016 MLD 103).
کرایہ دار یا اس جگہ کرایہ ادا کرنے کی بابت Under Taking دینے والا شخص بھی Tent کے زمرہ میں آۓ گا.
کسی دوسرے شخص کی جگہ کرایہ وصول کرنے والا شخص بھی لینڈ لارڈ کے زمرے میں آتا ہے.
(2015 MLD 171).
دعویٰ بیدخلی کا فیصلہ کرتے وقت پگڑی کا فیصلہ کرنا بھی رینٹ کنٹرولر کی ذمہ داری ہے.
(2015 YLR 1617).

05/07/2022

Most Important Articles of Qanun-E-Shahdat With Urdu Explanation

Article 5 Communication During Marriage
کسی بھی شخص کو مجبور نہں کیا جاسکتا کہ وہ دوسرے شخص کے راز افشاں کرے جس سے اسکی شادی ہوئی ہو

Article 38 Confession To Police officer not to be proved
پولیس کے سامنے دی جانے والی شہادت کی کوئی اہمیت نہیں

Article 44 Accused Person to be laible to cross-Examination

Article 59 Opinion of Expert
عدالت کسی ٹیکنکل ثبوت وغیرہ کے اس شعبہ کے ماہر کی راے لے سکتی ہے
Article 67 In Criminal Cases previous good character is relevant
فوجداری مقدمات میں اگر ملزم کا سابقہ ریکارڈ اچھا ہوگا تو ملزم کو اسکا فائدہ دیا جاے گا
Article 71 oral evidence must be direct
زبانی شہادت کا براہ راست ہونا ضروری ہے

Article 73 Primary Evidence

پرائمری شواھد سے مراد اصل کاغذات پیش کرنا ہے

Article 74 Secondry evidence
پرائمری شہادت سے مراد وہ شہادت جو اصل کی کاپی ہو یا زبانی شہادت ہو

Article 85 Public Documents
تمام وہ کاغذات جو سرکاری دفاتر ,پٹوار خانہ ,پولیس روز نامچہ اور عدالتی فائلیں وغیرہ پبلک ڈاکومنٹ ہیں جس کا مشاھدہ پاکستان کا ہر شہری کرسکتا ہے

Article 86 Private Documents
مذکورہ بالا کاغذات کے سوا باقی ہر قسم کے کاغذات پرایویٹ کاغذات ہیں

Article 114 Estoppel
اس سے مراد جب کوئی بات بندہ کہہ دے تو اس سے مکر نہیں سکتا

Article 117 Burdun of proof
اس سے مراد جو بھی عدالت کچھ پیش کرتا ہے تو اسکو ثابت کرنا بھی اس شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے

Article 136 Leading Questions
ایسے سوالات جس میں گواہ کو ہاں یا نا میں جواب دینا ہوتا ہے

Article 138 When leading Question may by asked
لیڈنگ سوالات جرح میں کہے جا سکتے.

04/07/2022

وارثوں کو جائیداد سے محروم کرتے ہوئے ریوینو اتھارٹیز کو انتقال ہبہ نہیں کرنا چاہیے.
2021 SCMR 772
انتقال ہبہ پاس کرنے والے تحصیلدار اور گواہ انتقال کو پیش نہ کرنے کی صورت میں ہبہ ثابت نہ ہو گا.
2020 SCMR 276 (d)
ہبہ کا Beneficiary آرٹیکل 79 قانون شہادت کی رو سے بذریعہ شہادت ہبہ کو ثابت کرنے جا پابند ہے.
2018 MLD 739
بذریعہ وکیل پیش کردہ انتقال ہبہ ناقابل ادخال شہادت ہے.
2017 YLR 399
بوقت انتقال ہبہ Doner تقریباً 85 سال کا بوڑھا مریض تھا. ہبہ درست ثابت نہ ہو گا.
2016 SCMR 1417

29/06/2022

2022 YLR 1284
Mutation by itself did not create or destroy an existing right but mere reflection of the revenue record, authenticity and validity thereof has had to be essentially ascertained qua the underlying transaction. Mutation merely records transfer, alleged to have taken place, which per se has no evidentiary value.

28/06/2022

_*پولیس اسٹیشن میں موجود رجسٹرز اور ان میں تحریر کی جانے والی کاروائی*_

_پاکستان میں ہر پولیس اسٹیشن میں 25 رجسٹرز ہوتے ہیں اور ان مختلف نوعیت کی کاروائی تحریر کی جاتی ہے۔_

_*رجسٹر نمبر 1*: رپورٹ ابتدائی اطلاعی_
_*رجسٹر نمبر 2*: روزنامچہ_
_*رجسٹر نمبر 3*: فائل (سٹینڈنگ آرڈرز، سرکلر آرڈرز و دیگر احکام)_
_*رجسٹر نمبر 4*: روپوشان و مفروران_
_*رجسٹر نمبر 5*: خط و کتابت_
_*رجسٹر نمبر 6*: متفرق_
_*رجسٹر نمبر 7*: پھاٹک مویشیاں (حذف ہوا)_
_*رجسٹر نمبر 8*: سرچ سلپ و پیروی مقدمات_
_*رجسٹر نمبر 9*: کرائم رجسٹر_
_*رجسٹر نمبر 10*: رجسٹر نگرانی_
_*رجسٹر نمبر 11*: انڈیکس ہسٹری شیٹ و پرسنل فائل_
_*رجسٹر نمبر 12*: پرچہ جات مجاریہ و موصولہ_
_*رجسٹر نمبر 13*: کتب برائے افسران گزٹ شدہ_
_*رجسٹر نمبر 14*: فائل بک رپورٹ ہائے ملاحظہ جات_
_*رجسٹر نمبر 15*: رجسٹر پیدائش و اموات (یونین کونسل منتقل ہوا)_
_*رجسٹر نمبر 16*: رجسٹر ملازمان و مال سرکار_
_*رجسٹر نمبر 17*: رجسٹر لائسنس ہائے_
_*رجسٹر نمبر 18*: رسید کتب برائے اسلحہ گولی بارود_
_*رجسٹر نمبر 19*: رجسٹر مالخانہ_
_*رجسٹر نمبر 20*: رجسٹر حسابات_
_*رجسٹر نمبر 21*: فائل بک روڈ سرٹیفکیٹ_
_*رجسٹر نمبر 22*: چھاپہ شدہ کتب رسیدات_
_*رجسٹر نمبر 23*: فائل (پولیس گزٹ، گزٹ انکشاف جرائم)_
_*رجسٹر نمبر 24*: مجموعہ قوائد پولیس_
_*رجسٹر نمبر 25*: یاداشت ہائے افسران مہتمم تھانہ جات

Address

Chamber N0 91 Qaid E Azam Block Fojdari Side Zila Kahchary Dera Ghazi Khan
Dera Ghazi Khan
32200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شوکت لاء ایسوسی ایٹس ڈیرہ غازیخان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to شوکت لاء ایسوسی ایٹس ڈیرہ غازیخان:

Share

Category