Hussain Law Associates

Hussain Law Associates Empowering Your Financial Future

At Hussain Law Associates, we're passionate about delivering innovative tax and corporate law solutions.

Our expert lawyers team help you:

- Optimize tax strategies
- Resolve tax disputes
- Build successful businesses

11/08/2026
📌 پنجاب بھر کے کاروباری حضرات کے لیے اہم اطلاع!​پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کی ہدایات کے مطابق، صوبہ بھر کے تمام ہوٹلز، ر...
11/08/2026

📌 پنجاب بھر کے کاروباری حضرات کے لیے اہم اطلاع!
​پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA) کی ہدایات کے مطابق، صوبہ بھر کے تمام ہوٹلز، ریسٹورنٹس، کافی شاپس اور میرج ہالز کے لیے e-IMS (الیکٹرانک انوائس مانیٹرنگ سسٹم) کے تحت رسید کا اجراء لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
​⚠️ تبنیہ: ای آئی ایم ایس (e-IMS) کے بغیر رسید جاری کرنے پر 4 لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ عائد ہو گا۔

10/08/2026

بیرونِ ملک سے 50 لاکھ تک رقم آئی؟ FBR ہر بار Source نہیں پوچھ سکتا! مگر ایک غلطی آپ کو مشکل میں ڈال سکتی ہے!
فرض کریں آپ کے بھائی، والد، بیٹے یا کوئی قریبی عزیز بیرونِ ملک کام کرتا ہے اور پاکستان میں آپ کے بینک اکاؤنٹ میں رقم بھیجتا ہے۔ رقم باقاعدہ بینکنگ چینل سے آتی ہے، بینک اسٹیٹمنٹ میں اس کا ریکارڈ موجود ہے، لیکن اچانک سوال اٹھتا ہے: یہ رقم کہاں سے آئی؟ کیا FBR اس کا Source پوچھ سکتا ہے؟ اور کیا اس پر ٹیکس لگے گا؟
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء کا سیکشن 111 اہم ہے۔ یہ سیکشن بنیادی طور پر ایسی آمدن، رقم یا اثاثے سے متعلق ہے جن کے بارے میں ٹیکس دہندہ یہ وضاحت نہ کر سکے کہ ان کا ذریعہ کیا ہے۔ آسان الفاظ میں، اگر آپ کے پاس بڑی رقم موجود ہو اور آپ اس کے Source of Money کی مناسب وضاحت نہ کر سکیں تو ٹیکس اتھارٹی اس بارے میں سوال کر سکتی ہے۔
لیکن بیرونِ ملک سے آنے والی مخصوص رقوم کے لیے قانون میں ایک اہم تحفظ بھی موجود ہے، جسے سیکشن 111(4) کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ اگر رقم مقررہ قانونی طریقے سے بیرونِ ملک سے پاکستان آئی ہو اور قانون کی متعلقہ شرائط پوری ہوں تو اسے محض اس وجہ سے غیر واضح رقم نہیں سمجھا جاتا کہ اس کا اصل ذریعہ پاکستان سے باہر تھا۔
سب سے پہلی شرط قانونی بینکنگ چینل ہے۔ اگر رقم کسی شیڈولڈ بینک یا مجاز ریمیٹنس چینل کے ذریعے پاکستان آتی ہے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ بنتا ہے۔ یہی ریکارڈ بعد میں یہ ثابت کرنے میں مدد دیتا ہے کہ رقم واقعی بیرونِ ملک سے منتقل ہوئی تھی۔ اس کے برعکس ہنڈی یا حوالہ جیسے غیر رسمی ذرائع سے آنے والی رقم کو سیکشن 111(4) کا تحفظ حاصل ہونے کا دعویٰ خطرناک ہو سکتا ہے۔
دوسری اہم چیز دستاویزات ہیں۔ بیرونِ ملک سے رقم وصول ہونے پر بینک اسٹیٹمنٹ، ریمیٹنس کی تفصیل اور بینک سے دستیاب متعلقہ سرٹیفکیٹ یا PRC جیسے ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ آج شاید ان کاغذات کی ضرورت نہ پڑے، لیکن کل اگر FBR Source of Money کے بارے میں سوال کرے تو یہی دستاویزات آپ کے لیے اہم ثبوت بن سکتی ہیں۔
اب آتے ہیں پچاس لاکھ روپے کی حد کی طرف۔ سیکشن 111(4) میں مخصوص شرائط کے ساتھ ایک ٹیکس سال کے دوران پچاس لاکھ روپے تک کی بیرونِ ملک سے آنے والی ریمیٹنس کے حوالے سے خصوصی قانونی تحفظ موجود ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچاس لاکھ سے زیادہ رقم غیر قانونی ہے یا لازماً اس پر ٹیکس لگے گا۔ بڑی رقم کی صورت میں Source اور Money Trail کی وضاحت زیادہ اہم ہو سکتی ہے، اس لیے مکمل ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔
مثلاً بیرونِ ملک رہنے والا کوئی شخص اپنے والدین، بیوی یا بچوں کے اخراجات کے لیے رقم بھیجتا ہے۔ یہ رقم عموماً Family Support یا Home Remittance کی نوعیت رکھتی ہے۔ لیکن ہر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کو Home Remittance نہیں کہا جا سکتا۔ رقم کا اصل مقصد اور نوعیت دیکھنا ضروری ہے۔
اگر کوئی شخص پاکستان میں بیٹھ کر بیرونِ ملک کے کلائنٹس کے لیے Freelancing، IT Services یا Export of Services کر رہا ہے تو اس کی آمدن کی نوعیت مختلف ہوگی۔ یہ کاروباری یا پیشہ ورانہ آمدن ہو سکتی ہے اور اس پر متعلقہ ٹیکس قوانین اور ودہولڈنگ ٹیکس کے قواعد لاگو ہو سکتے ہیں۔ صرف بیرونِ ملک سے رقم آنے کی وجہ سے ہر آمدن خود بخود ٹیکس فری نہیں ہو جاتی۔
اسی طرح اگر بیرونِ ملک جائیداد یا کاروبار فروخت کرکے رقم پاکستان منتقل کی گئی ہے تو Sale Agreement، Property Documents، Bank Statements اور دیگر متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہ دستاویزات ضرورت پڑنے پر رقم کے اصل Source کو ثابت کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ایک اور اہم بات Wealth Statement ہے۔ یہ سوچ درست نہیں کہ اگر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم پر ٹیکس نہیں تو اسے ٹیکس ریکارڈ میں ظاہر کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ اپنی مالی صورتحال اور رقم کی نوعیت کو قانون کے مطابق درست طریقے سے ظاہر کرنا ضروری ہے۔
سب سے زیادہ احتیاط Hundi اور Hawala سے متعلق ہے۔ غیر رسمی طریقے سے آنے والی رقم کو بعد میں بینک میں جمع کروا دینے سے وہ خود بخود قانونی Foreign Remittance نہیں بن جاتی۔ ایسی صورت میں Source of Money کے بارے میں سوال اٹھ سکتا ہے۔
آخر میں بات بہت سادہ ہے: سیکشن 111(4) ہر بیرونِ ملک سے آنے والی رقم کے لیے کھلی چھوٹ نہیں، بلکہ مخصوص شرائط کے ساتھ ایک قانونی تحفظ ہے۔
اس لیے رقم ہمیشہ قانونی بینکنگ چینل سے وصول کریں، اس کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھیں، اور اپنی ٹیکس ریٹرن و Wealth Statement میں اس کی اصل نوعیت درست طور پر ظاہر کریں۔
کیونکہ ٹیکس کے معاملے میں صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "پیسہ بیرونِ ملک سے آیا ہے"؛ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ کے پاس اسے ثابت کرنے کے لیے کیا قانونی اور بینکنگ ریکارڈ موجود ہے۔

انفارمیشن اچھی لگے تو لائک کردیں
ٹیکس آسان زبان میں سمجھنے کے لیے پیج کو فالو کرلیں
ٹیکس اینڈ کارپوریٹ سروسز حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں

اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریںایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن سسٹم پاکستان کے پیچیدہ ترین نظاموں ...
07/08/2026

اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں

ایف بی آر (FBR) کا ڈیجیٹل ٹیکس ریٹرن سسٹم پاکستان کے پیچیدہ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ 99 فیصد سے زیادہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے، اس کا اصل مقصد کیا ہے، انکم ٹیکس ریٹرن کس بنیاد پر تیار کی جاتی ہے، کن معلومات کی ضرورت ہوتی ہے اور مستقبل میں اس کے کیا قانونی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

جب 2017 اور 2018 کے دوران اس ڈیجیٹل نظام کا آغاز ہوا اور پراپرٹی کی خرید و فروخت پر فائلر اور نان فائلر کے درمیان ٹیکس کا واضح فرق متعارف کرایا گیا، نیز بینک سے کیش نکلوانے (Cash Withdrawal) پر نان فائلرز کے لیے اضافی ٹیکس نافذ کیا گیا، تو لوگ بڑی تعداد میں فائلر بننے کی طرف راغب ہوئے۔ پراپرٹی کے سرمایہ کار، کاروباری حضرات اور سرکاری ملازمین تیزی سے اس نظام کا حصہ بننے لگے۔

ابتدائی برسوں میں نہ صرف عام لوگوں بلکہ بہت سے متعلقہ افراد کے لیے بھی اس نظام کو سمجھنا آسان نہیں تھا۔ اگرچہ ایف بی آر کی جانب سے مینول اور ویڈیوز موجود تھیں، لیکن ان پر عمل کرنا عام آدمی کے لیے خاصا مشکل تھا۔ چونکہ پراپرٹی کے بیشتر معاملات وکلاء کے ذریعے انجام پاتے تھے، اس لیے یہ کام بڑی حد تک وکلاء، عرضی نویسوں اور اشٹام فروشوں کے پاس آ گیا۔

ایک شخص نے کام سیکھا، دوسرے نے نقل کی، اور دیکھتے ہی دیکھتے "عطائی ٹیکس کنسلٹنٹس" کی ایک نئی مارکیٹ وجود میں آ گئی۔ بہت سے لوگوں نے صرف فائلر بننے کی خاطر ہزاروں روپے دے کر زیرو (Zero) ریٹرن فائل کروائی، جس میں نہ اصل آمدن ظاہر کی گئی، نہ اثاثے، نہ سرمایہ کاری اور نہ ہی دیگر مالی حقائق۔ وقتی طور پر تو مقصد حاصل ہو گیا، لیکن بعد میں یہی غلط معلومات ان کے لیے مشکلات کا سبب بنتی گئیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام وکلاء اور ٹیکس کنسلٹنٹس ایک جیسے نہیں تھے۔ بہت سے پیشہ ور افراد نے قانون کا گہرائی سے مطالعہ کیا، نظام کو سمجھا اور اپنے مؤکلین کے مفاد کو مقدم رکھا۔ لیکن جب مارکیٹ میں انتہائی کم فیس پر کام کرنے والے موجود ہوں تو اکثر لوگ معیاری اور ذمہ دارانہ خدمات کی مناسب قیمت ادا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

آج 2026 میں ایف بی آر کا نظام پہلے سے کہیں زیادہ جدید، خودکار اور ڈیٹا سے منسلک ہو چکا ہے۔ مختلف اداروں کا ریکارڈ آپس میں منسلک ہو رہا ہے اور گزشتہ سالوں کی غلط معلومات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ اور وہ غیر تربیت یافتہ کنسلٹنٹس دونوں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں بغیر تحقیق اور قانون سمجھے ریٹرنز فائل کیں۔

میری تمام ٹیکس کنسلٹنٹس سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر ریٹرن مکمل تحقیق، درست معلومات اور قانون کے مطابق تیار کی جائے۔ صرف چند ہزار روپے کے عوض کسی شخص کا ٹیکس ریکارڈ خراب کرنا یا مستقبل کی مشکلات پیدا کرنا نہ صرف غیر پیشہ ورانہ عمل ہے بلکہ اخلاقی اور قانونی طور پر بھی درست نہیں۔

اسی طرح عوام سے بھی میری درخواست ہے کہ اس سال اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ جو بھی معلومات، بینک اسٹیٹمنٹس، جائیداد، سرمایہ کاری یا دیگر مالی تفصیلات طلب کی جائیں، انہیں مکمل دیانت داری کے ساتھ فراہم کریں۔ شارٹ کٹ، غلط بیانی یا معلومات چھپانے سے وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے، لیکن مستقبل میں یہی چیز بھاری جرمانوں، قانونی نوٹسز اور غیر ضروری پریشانیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

یاد رکھیں، ایک درست اور شفاف ٹیکس ریٹرن صرف آپ کو فائلر نہیں بناتی بلکہ آپ کے مالی مستقبل کو بھی محفوظ بناتی ہے۔ اس لیے اپنے ٹیکس کنسلٹنٹ کی مہارت، تجربے اور محنت کی مناسب قدر کریں تاکہ آپ کا ٹیکس ریکارڈ مضبوط، شفاف اور قانون کے مطابق رہے۔

ارشد اقبال ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ٹیکس اٹارنی
📞0334 2191111

"پچھلے سال تو صرف 3 ہزار روپے میں ریٹرن فائل ہو گئی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟"یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمار...
05/08/2026

"پچھلے سال تو صرف 3 ہزار روپے میں ریٹرن فائل ہو گئی تھی، اس سال اتنی فیس کیوں؟"

یہ سوال صرف ایک کلائنٹ کا نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں ٹیکس ریٹرن کی اہمیت سے لاعلمی کی عکاسی کرتا ہے۔

اکثر لوگ ریٹرن فائل کرواتے وقت صرف فیس دیکھتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ:

✔ ان کی آمدن صحیح ظاہر کی گئی ہے یا نہیں؟
✔ تمام Assets مکمل طور پر ڈکلیئر کیے گئے ہیں یا نہیں؟
✔ Wealth Statement درست اور متوازن ہے یا نہیں؟
✔ گزشتہ سالوں کا ریکارڈ صحیح طریقے سے Carry Forward کیا گیا ہے یا نہیں؟

میرے پاس ریویو اور درستگی کے لیے آنے والی بے شمار ریٹرنز میں یہی بنیادی غلطیاں سامنے آتی ہیں۔

❌ Assets نامکمل
❌ Wealth Statement میں تضاد
❌ آمدن اور اخراجات کا غلط حساب
❌ گزشتہ سالوں کے ریکارڈ میں خامیاں

افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ چند ہزار روپے بچانے کے لیے اپنا مستقبل کا ٹیکس ریکارڈ خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

یاد رکھیں!

Income Tax Return صرف ایک فارم نہیں، بلکہ آپ کی آمدن، اثاثہ جات، سرمایہ کاری، اخراجات اور مالی حیثیت کا سرکاری ریکارڈ ہے۔

آج اگر آپ صرف کم فیس کی خاطر غلط یا نامکمل ریٹرن فائل کروا لیتے ہیں، تو کل یہی غلطیاں:

⚠️ Tax Notice
⚠️ Audit
⚠️ Wealth Reconciliation
⚠️ Assets کے ذرائع کی وضاحت
اور دیگر قانونی مسائل کی صورت میں آپ کو کہیں زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہیں۔

سستی ریٹرن اور درست ریٹرن میں بہت فرق ہوتا ہے۔

ایک ذمہ دار Tax Professional کا کام صرف "Submit" کا بٹن دبانا نہیں، بلکہ آپ کے مکمل ٹیکس پروفائل، Assets، Wealth Statement اور قانونی تقاضوں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ایسی ریٹرن تیار کرنا ہے جو آئندہ بھی آپ کے لیے محفوظ رہے۔

چند ہزار روپے بچانے کے لیے اپنے برسوں کا ٹیکس ریکارڈ داؤ پر نہ لگائیں۔

کم فیس نہیں، بلکہ درست، مکمل اور محفوظ Tax Compliance کو ترجیح دیں۔

📞 مشاورت اور ٹیکس ریٹرن فائلنگ کے لیے رابطہ کریں:

ارشد اقبال
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ | ٹیکس اٹارنی
Hussain Law Associates

📱 Cell / WhatsApp: 03342191111

سوشل میڈیا انکم ٹیکس کی حقیقتبہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا آمدنی پر 10% ٹیکس ہے، لیکن حقیقت یہ ہے:✅ فائلر: 5% ودہ...
26/07/2026

سوشل میڈیا انکم ٹیکس کی حقیقت

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ سوشل میڈیا آمدنی پر 10% ٹیکس ہے، لیکن حقیقت یہ ہے:

✅ فائلر: 5% ودہولڈنگ ٹیکس
❌ نان فائلر: 10% ودہولڈنگ ٹیکس

اگر آپ:
✔ FBR میں رجسٹر ہو کر Active Taxpayer بن جائیں۔
✔ متعلقہ شرائط پوری کرتے ہوئے PSEB میں رجسٹر ہوں۔

تو آپ کا ٹیکس 0.25% تک ہو سکتا ہے۔

سنی سنائی باتوں پر نہیں، قانون پر یقین کریں۔

Hussain Law Associates
📞 03342191111

🚨 ٹیکس سیزن میں ہوشیار رہیں!ہر سال ٹیکس ریٹرن کے موسم میں سوشل میڈیا پر بے شمار اشتہارات نظر آتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے...
24/07/2026

🚨 ٹیکس سیزن میں ہوشیار رہیں!

ہر سال ٹیکس ریٹرن کے موسم میں سوشل میڈیا پر بے شمار اشتہارات نظر آتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے بعض افراد صرف پیسے وصول کرتے ہیں، غلط فائلنگ کرتے ہیں یا بعد میں رابطہ ہی ختم کر دیتے ہیں، جس کا نقصان آخرکار ٹیکس دہندہ کو اٹھانا پڑتا ہے۔

✅ اپنی ٹیکس فائلنگ ہمیشہ ایسے ٹیکس اٹارنی، ایڈووکیٹ یا مستند ٹیکس پروفیشنل سے کروائیں جن کا آپ کے شہر میں باقاعدہ دفتر موجود ہو، جہاں ضرورت پڑنے پر آپ آسانی سے رابطہ کر سکیں۔

ٹیکس ریٹرن صرف ایک فارم نہیں، بلکہ ایک قانونی دستاویز ہے۔ غلط معلومات، جعلی دعوے یا غیر ذمہ دارانہ فائلنگ مستقبل میں جرمانوں، نوٹسز اور قانونی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

⚠️ صرف کم فیس یا آن لائن دعووں کو دیکھ کر فیصلہ نہ کریں۔
✔️ دفتر دیکھیں۔
✔️ پروفیشنل کی اہلیت اور تجربہ جانچیں۔
✔️ اپنی ٹیکس ریٹرن کا مکمل ریکارڈ ضرور حاصل کریں۔

اپنے پیسے، وقت اور قانونی حقوق کا تحفظ کریں۔
احتیاط کریں، مستند اور ذمہ دار ٹیکس پروفیشنل کا انتخاب کریں۔

Hussain Law Associates
Arshad Iqbal
Advocate High Court & Tax Attorney

فنانس بل 2026: یوٹیوبرز، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کریئیٹرز کے لیے نیا ٹیکس قانون سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پ...
24/07/2026

فنانس بل 2026: یوٹیوبرز، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کریئیٹرز کے لیے نیا ٹیکس قانون

سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر نیا ٹیکس نظام

وفاقی حکومت نےفنانس بل 2026 کے ذریعے Income Tax Ordinance, 2001 میں نیا سیکشن 154B شامل کر دیا ہے، جس کے تحت YouTube، Facebook، Instagram، TikTok اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر نیا ٹیکس نظام نافذ کیا گیا ہے۔

اس قانون کے بعد سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن کوIT اور Software Export کی رعایتی ٹیکس اسکیم سے الگ کر دیا گیا ہے۔

اہم تبدیلیاں

✅ فائلر (Active Taxpayer): آمدن پر5% ودہولڈنگ ٹیکس کٹے گا۔

❌ نان فائلر:متعلقہ شیڈول کے مطابق10% ٹیکس لاگو ہوگا۔

سیکشن 154B کیا کہتا ہے؟

ہربینک اور نان بینکنگ مالیاتی ادارہ اس وقت ٹیکس کاٹے گا جب کسی شخص کے اکاؤنٹ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رقم موصول ہوگی، خواہ ادائیگی براہ راست آئے یا کسی آن لائن ادائیگی سروس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے۔

کن افراد پر یہ قانون لاگو ہوگا؟

یہ قانون ہر ایسے شخص یا ادارے پر لاگو ہوگا جو درج ذیل پلیٹ فارمز سے آمدن حاصل کرتا ہے:

• YouTube
• Facebook
• Instagram
• TikTok
• دیگر ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز

رہائشی (Resident) افراد کے لیے

پاکستان میں رہنے والے افراد کے لیے کٹا ہوا **5% ٹیکس Final Tax نہیں ہوگا بلکہ Minimum Tax ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ:

✔ سالانہ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانا لازمی ہوگا۔

✔ تمام سوشل میڈیا آمدن ظاہر کرنا ہوگی۔

✔ جائز کاروباری اخراجات منہا کیے جا سکیں گے، مثلاً:

• کیمرہ اور ریکارڈنگ کا سامان
• انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا
• اسٹوڈیو یا دفتر کا کرایہ
• ویڈیو ایڈیٹنگ سافٹ ویئر اور دیگر پروفیشنل ٹولز

اس کے بعد قابلِ ٹیکس آمدن پر عام انکم ٹیکس سلیبز کے مطابق ٹیکس کا حساب ہوگا۔

اگر...

✅ اصل ٹیکس 5% سے زیادہ بنتا ہے تو باقی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

❌ اگر اصل ٹیکس 5% سے کم بنتا ہے تو بھی کٹا ہوا 5% واپس نہیں ملے گا کیونکہ یہ Minimum Tax تصور ہوگا۔

غیر رہائشی (Non-Resident) افراد

اگر کوئی غیر رہائشی شخص پاکستان میں مستقل کاروباری مرکز (Permanent Establishment) نہیں رکھتا تو اس کے لیے کٹا ہوا **5% ٹیکس Final Tax** ہوگا۔

IT اور Software Exporters کے لیے خوشخبری

IT اور Software Export Services پر0.25% Final Tax Regime بدستور Tax Year 2029 تک جاری رہے گی، تاہمسوشل میڈیا کریئیٹرز اب اس رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔**

اس قانون کا مقصد

وفاقی حکومت اور **Federal Board of Revenue (FBR)** کا مقصد:

✔ ڈیجیٹل آمدن کو باقاعدہ دستاویزی نظام میں لانا۔

✔ آن لائن کمائی پر مؤثر ٹیکس وصولی۔

✔ سوشل میڈیا انکم اور IT Export Income کے درمیان واضح قانونی فرق قائم کرنا۔

اہم قانونی حوالہ

📖 Income Tax Ordinance, 2001

✔ نیاSection 154B

✔Division IIIAB, Part III of the First Schedule

اگر آپ YouTuber، Facebook Creator، Instagram Influencer، TikTok Creator، Freelancer یا کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے آمدن حاصل کرتے ہیں تو اپنی ٹیکس پلاننگ اور ریٹرن فائلنگ بروقت کریں تاکہ مستقبل میں جرمانوں اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

ارشد اقبال
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ | ٹیکس اٹارنی
Hussain Law Associates

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور تکنیکی معاملات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیاٹیسٹنگ رپورٹ، کی...
20/07/2026

لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے میٹر، بلنگ تنازعات اور تکنیکی معاملات پر سول عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم کردیا

ٹیسٹنگ رپورٹ، کیلکولیشن اور میٹر ریڈنگ کے تنازعات الیکٹرک انسپکٹر کے پاس بھیجے جائیں۔فیصلہ

بجلی کے میٹر کی درستی، تیز یا سست چلنے کے تکنیکی فیصلے صرف الیکٹرک انسپکٹر کر سکتا ہے۔فیصلہ

الیکٹریسٹی ایکٹ 1910 کے تحت بجلی کے میٹروں کی جانچ پڑتال سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔فیصلہ

بجلی چوری، ڈائریکٹ ہکنگ اور میٹر ٹمپرنگ جیسے معاملات تکنیکی تنازعات کے زمرے میں نہیں آتے۔فیصلہ

بجلی چوری اور فراڈ کے کیسز میں سول عدالتیں شواہد کی بنیاد پر سماعت کا اختیار رکھتی ہیں۔فیصلہ

اگربجلی کمپنی کا اقدام غیر قانونی یا فراڈ پر مبنی ہو تو سول عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔فیصلہ

عوامی شکایات کے ازالے کے لیے نیپرا اور صوبائی حکومت کے تکنیکی فورمز ہی حتمی اتھارٹی ہیں۔فیصلہ

عدالت نے فوت شدگان یاقانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر دائر سول درخواست ناقابل سماعت قراردےدی

صارف عبدالکریم کی وفات کے بعد سردار محمد یاسین کی طرف سے دائر دعویٰ قانوناً غلط تھا۔فیصلہ

وراثت کے جائز قانونی ورثاء کو شامل کیے بغیر کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔فیصلہ

جسٹس محسن اختر کیانی نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا

عدالت نے لیسکو کی سول اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

درخواست گزار نے2 لاکھ 5 ہزار روپے سے زائد کا بجلی بل ادا کرنے کا پابند ہے۔وکیل اپیل کنندہ لیسکو

صارف نے زرعی زمین پر ساڑھے 7 ہارس پاور کی موٹر لگا رکھی تھی، اپیل کنندہ لیسکو کا موقف

لیسکو نے بل میں 19 ہزار سے زائد اضافی یونٹس شامل کیے جو کہ غیر قانونی ہیں۔فریق مخالف کا موقف

بجلی کا بل ضرورت سے زیادہ اور ٹیکنیکل غلطی پر مبنی ہے۔فریق مخالف صارف کاموقف

عدالت اضافی بل کو حذف کرنے کا حکم دے۔صارف کی استدعا

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیںکیا فیکٹ...
19/07/2026

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیں
کیا فیکٹری، گودام یا دیگر غیر منقولہ عمارت کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر ادا کیا گیا Input Tax ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں اس سوال کا واضح جواب "نہیں" میں دیا ہے اور محکمۂ ان لینڈ ریونیو کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے ATIR اور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم کر دیے ہیں۔
اس مقدمے میں ٹیکس دہندہ نے جولائی تا دسمبر 2013 کے دوران فیکٹری کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ اور اسٹیل پر Input Tax کا دعویٰ کیا تھا۔ محکمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سامان غیر منقولہ جائیداد (Immovable Property) کا حصہ بن جاتا ہے، اس لیے اس پر Input Tax ایڈجسٹمنٹ قانوناً دستیاب نہیں۔ مزید یہ کہ ٹیکس دہندہ مطلوبہ ریکارڈ، بینکنگ دستاویزات اور دیگر شواہد بھی پیش نہ کرسکا، جس کے باعث دعویٰ مسترد کردیا گیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Sales Tax Act, 1990 کے تحت سیلز ٹیکس بنیادی طور پر Taxable Goods پر عائد ہوتا ہے۔ جبکہ فیکٹری کی عمارت، دفاتر یا دیگر Immovable Property ایسی قابلِ ٹیکس سپلائی نہیں جو Output Tax پیدا کرے۔ اسی لیے ایسی تعمیر میں استعمال ہونے والا سیمنٹ، اسٹیل اور دیگر تعمیراتی سامان Input Tax Adjustment کے لیے اہل نہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ Section 8(1)(h) اس سلسلے میں واضح پابندی عائد کرتا ہے، جبکہ متعلقہ S.R.O. 450(I)/2013 بھی اسی قانونی مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
عدالت نے Section 73 کی قانونی حیثیت پر بھی اہم اصول بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ مقررہ Banking Channel کے ذریعے ادائیگی Input Tax کے دعوے کے لیے ایک لازمی شرط ہے۔ اگر قانون میں مقررہ طریقہ اختیار نہ کیا جائے تو صرف یہ مؤقف کافی نہیں کہ لین دین حقیقی تھا؛ ایسی صورت میں بھی Input Tax کا دعویٰ قانون کے مطابق ناقابلِ قبول ہوسکتا ہے۔
اس فیصلے کا ایک اور نہایت اہم قانونی اصول یہ ہے کہ "قانون کے خلاف کوئی Estoppel نہیں ہوتا۔" سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگر کسی مقدمے میں محکمہ کا نمائندہ یا وکیل کسی قانونی نکتے پر کوئی رعایت (Concession) دے بھی دے، تب بھی عدالت اس رعایت کی پابند نہیں ہوتی۔ قانون کی درست تشریح کرنا عدالت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ فریقین کی قانونی رائے کی پیروی کرنا۔
نتیجتاً سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ اور ATIR کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ کا Order-in-Original بحال کردیا اور دونوں قانونی سوالات کا جواب محکمۂ ان لینڈ ریونیو کے حق میں دیا۔
اہم قانونی اصول
غیر منقولہ جائیداد کی تعمیر میں استعمال ہونے والے تعمیراتی سامان پر Input Tax قابلِ ایڈجسٹمنٹ نہیں۔
Section 73 کی پابندی لازمی ہے؛ Banking Channel کی شرط نظرانداز نہیں کی جاسکتی۔
قانون کے خلاف کوئی Estoppel نہیں ہوتا؛ کسی وکیل یا نمائندے کی قانونی رعایت عدالت کو پابند نہیں کرتی۔
حوالہ: Commissioner Inland Revenue, LTU Karachi v. M/s Bawany Sugar Mills Ltd. — Civil Appeal No. 939 of 2018، سپریم کورٹ آف پاکستان، فیصلہ مورخہ 17.07.2026

Address

Railway Station Road Opposite Balouch Levy Lines
Dera Ghazi Khan
32200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussain Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category