Hussain Law Associates

Hussain Law Associates Empowering Your Financial Future

At Hussain Law Associates, we're passionate about delivering innovative tax and corporate law solutions.

Our expert lawyers team help you:

- Optimize tax strategies
- Resolve tax disputes
- Build successful businesses

30/08/2026

🚀 ٹیکس دہندگان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری!
نادرا (NADRA) نے بائیومیٹرک تصدیق کو انتہائی آسان بنا دیا ہے! ستمبر 2026 سے، انفرادی ٹیکس دہندگان، واحد مالکان (Sole Proprietors)، اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی سالانہ بائیومیٹرک تصدیق PakID موبائل ایپ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی کونے سے آن لائن مکمل کر سکتے ہیں۔
اہم نکات:
📱 PakID ایپ: نادرا سینٹر جائے بغیر گھر بیٹھے بائیومیٹرک تصدیق مکمل کریں۔
🗓️ شروعات: یہ سہولت ستمبر 2026 کے پہلے ہفتے (عارضی طور پر) سے فعال کر دی جائے گی۔
🤝 FBR کے ساتھ شراکت داری: نادرا نے FBR کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تاکہ PakID بائیومیٹرک کو ای-سہولت (e-Sahulat) کے متبادل کے طور پر باقاعدہ تسلیم کیا جائے۔
💼 کاروبار میں آسانی: چھوٹے تاجروں، ٹیکس دہندگان اور سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کے لیے ایک بڑا قدم۔

30/08/2026
Be like the bison. 🦬When a storm comes, a bison doesn’t run away from it it faces it and keeps moving forward. Sometimes...
30/08/2026

Be like the bison. 🦬

When a storm comes, a bison doesn’t run away from it it faces it and keeps moving forward. Sometimes, going through the storm is faster than running from it.
Life is the same. The more we avoid fear, stress, or difficult moments, the bigger they can feel. But when you choose to face them with courage, you become stronger with every step.
Don’t be afraid of the storm. Face it. Trust yourself. Keep moving.
One day, you’ll look back and realize that the storm you feared was actually building the strength you needed.
Keep going. Your stronger side is waiting on the other side. ❤️

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ٹیکس جیسے حساس اور تکنیکی کام کے لیے کبھی فوٹو کاپی والے، کبھی اسٹام...
25/08/2026

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب رجحان پیدا ہو گیا ہے۔ لوگ ٹیکس جیسے حساس اور تکنیکی کام کے لیے کبھی فوٹو کاپی والے، کبھی اسٹامپ پیپر فروش، کبھی پٹواری اور کبھی ایسے وکیل سے کام کرواتے ہیں جو بیک وقت ہر قسم کے مقدمات اور ہر شعبے کا کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

بات کسی کی تضحیک کی نہیں، بات صرف مہارت اور ذمہ داری کی ہے۔

ٹیکسیشن ایسا شعبہ ہے جس میں صرف قانون جاننا کافی نہیں۔ اکاؤنٹس، آمدن، اخراجات، اثاثے، بینکنگ، سرمایہ کاری، جائیداد اور Wealth Statement کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ صرف IRIS پر فارم کھول کر چند خانے پُر کر دینا ٹیکس پریکٹس نہیں ہے۔

حال ہی میں ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کیس میرے سامنے آیا۔ وہ ایک زمیندار ہونے کے ساتھ ساتھ Business Individual بھی ہے۔ اس کے پاس وراثتی جائیدادیں بھی ہیں اور 2020 سے 2024 کے دوران خریدی گئی متعدد غیر منقولہ جائیدادیں بھی۔

اس کی سابقہ ٹیکس ریٹرنز ایک ایسے شخص نے تیار کی تھیں جو مختلف نوعیت کے قانونی معاملات بھی کرتا ہے، لیکن ٹیکسیشن اور اکاؤنٹس میں مطلوبہ پس منظر نہیں رکھتا تھا۔

نتیجہ دیکھ کر تشویش ہوئی۔

ایک شخص جس کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی جائیدادیں موجود تھیں، اس کی Wealth Statement میں اثاثوں کی حقیقت کے مطابق مکمل تصویر موجود ہی نہیں تھی۔ مزید یہ کہ جائیدادوں کی خرید و فروخت پر ادا کیے گئے 236K اور 236C کے ٹیکس کا بھی درست طور پر اندراج یا دعویٰ نہیں کیا گیا تھا۔

یہ معمولی غلطی نہیں ہے۔

ایسی غلطی مستقبل میں ٹیکس پیئر کے لیے نوٹس، وضاحت، اضافی ٹیکس، جرمانے، آڈٹ اور ذہنی پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

اور صرف ٹیکس پیئر ہی متاثر نہیں ہوتا۔ غلط اور نامکمل ریٹرنز کی وجہ سے FBR کے نظام پر بھی غیر ضروری بوجھ پڑتا ہے۔ ایسی ریٹرنز کی جانچ، وضاحتیں اور بعد میں ہونے والی اصلاحات میں وقت اور وسائل صرف ہوتے ہیں۔ یوں ایک شخص کی غلط فائلنگ پورے ٹیکس سسٹم میں غیر ضروری پیچیدگی اور تناؤ پیدا کرتی ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے:

اگر آپ کو ٹیکسیشن کا مکمل علم نہیں تو آپ یہ کام سیکھ کیوں نہیں لیتے؟ اور اگر نہیں سیکھا تو صرف یہ کیوں نہیں کہتے کہ "یہ میرے شعبے کا کام نہیں ہے"؟

میں نے آج تک ایسا کوئی انسان نہیں دیکھا جو ہر کام کا ماہر ہو۔ ڈاکٹر بھی specialization کرتے ہیں، وکیل بھی اپنے شعبے میں expertise حاصل کرتے ہیں اور اکاؤنٹنٹ بھی ہر کام کرنے کا دعویٰ نہیں کرتے۔

تو پھر ٹیکسیشن میں یہ سوچ کیوں کہ ہر کام لے لو، چاہے مکمل مہارت ہو یا نہ ہو؟

صرف 4 یا 5 ہزار روپے فیس کے لیے کسی کی ریٹرن غلط فائل کرنا، اس کے اثاثے درست ظاہر نہ کرنا یا اس کے ادا شدہ ٹیکس کا فائدہ نہ دینا صرف غیر پیشہ ورانہ رویہ نہیں، بلکہ ایک بہت بڑی ذمہ داری سے غفلت ہے۔

اور ایک بات ہمیں اپنے ضمیر سے بھی پوچھنی چاہیے:

اگر کسی غلط کام سے آپ نے فیس تو کما لی، لیکن اس کے نتیجے میں ایک ٹیکس پیئر کو مستقبل میں پریشانی، اضافی ٹیکس یا قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تو کیا وہ کمائی واقعی اخلاقی کمائی کہلائے گی؟

وکیل کا حلف ہو یا کسی بھی profession کی professional ethics، اصل تقاضا یہی ہے کہ جو ذمہ داری آپ قبول کریں، اسے قابلیت، دیانت اور پوری احتیاط سے ادا کریں۔

ہر کام کرنے والا ہر کام کا ماہر نہیں ہو سکتا۔
لیکن جس کام کی ذمہ داری لیں، اس میں اتنی مہارت ضرور ہونی چاہیے کہ آپ کی ایک غلطی کسی دوسرے کی زندگی مشکل نہ بنا دے۔

ٹیکس ریٹرن صرف ایک فارم نہیں ہوتا۔

یہ کسی شخص کی مالی زندگی کا قانونی ریکارڈ ہوتا ہے۔

اس لیے ٹیکس پیئر کو بھی سوچ سمجھ کر اپنا Tax Practitioner منتخب کرنا چاہیے، اور Tax Practitioner کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ وہ صرف فیس نہیں لے رہا، بلکہ کسی دوسرے شخص کی مالی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لے رہا ہے۔

ٹیکس ریٹرن فائل کرنا کافی نہیں، درست ریٹرن فائل کرنا ضروری ہےرواں سال ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہ...
23/08/2026

ٹیکس ریٹرن فائل کرنا کافی نہیں، درست ریٹرن فائل کرنا ضروری ہے

رواں سال ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2026 ہے۔ لیکن اس بار ریٹرن فائل کرتے ہوئے معمول سے کہیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

ایف بی آر ٹیکس ریٹرنز کی جانچ پڑتال کو مزید خودکار اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ایسے نظام میں مختلف افراد اور اداروں سے حاصل ہونے والی معلومات کو آپس میں ملایا جا سکتا ہے۔

مثلاً:

اگر آپ اپنے والد، بھائی، بیوی یا کسی دوسرے شخص سے ملنے والا تحفہ اپنی ریٹرن میں ظاہر کرتے ہیں، لیکن تحفہ دینے والے کی ریٹرن یا ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اس رقم کا مناسب اندراج موجود نہیں، تو دونوں معلومات میں فرق سامنے آ سکتا ہے۔

اسی طرح اگر آپ نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں مسٹر ایکس سے لیا ہوا قرض ظاہر کیا، لیکن مسٹر ایکس نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں آپ کو دیا گیا قرض بطور قابلِ وصول رقم ظاہر نہیں کیا، تو یہ تضاد بھی سوال پیدا کر سکتا ہے۔

ایک اور بڑا مسئلہ: غیر ماہر سے ریٹرن فائل کروانا

اکثر لوگ صرف کم فیس کی وجہ سے اپنے ٹیکس ریٹرن کسی غیر پروفیشنل، غیر تربیت یافتہ شخص یا فوٹو کاپی/ٹائپنگ شاپ سے تیار کروا لیتے ہیں۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ریٹرن کمپیوٹر پر کون ٹائپ کرتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ شخص ٹیکس قانون، ویلتھ اسٹیٹمنٹ، اثاثوں، واجبات، تحائف اور قرضوں کے باہمی تعلق کو سمجھتا بھی ہے؟

ایک غلط اندراج، غلط اثاثہ، غیر واضح قرض، نامکمل تحفہ یا بینک بیلنس میں معمولی سی غلطی مستقبل میں نوٹس، وضاحت اور غیر ضروری قانونی و مالی مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

اس لیے صرف یہ نہ دیکھیں کہ ریٹرن کتنے روپے میں فائل ہو رہی ہے۔

یہ دیکھیں کہ آپ کی ریٹرن کون فائل کر رہا ہے اور وہ آپ کی معلومات کو کتنی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت سے سمجھتا ہے۔

ریٹرن فائل کرنے سے پہلے اپنی:

• آمدن
• اثاثے
• واجبات
• تحائف
• قرضے
• بینک اکاؤنٹس اور بیلنس
• سرمایہ کاری
• دیگر متعلقہ معلومات

کو آپس میں اچھی طرح Reconcile کریں اور ہر اہم اندراج کے لیے مناسب ریکارڈ محفوظ رکھیں۔

یاد رکھیں:

کم فیس میں ریٹرن فائل ہونا فائدہ نہیں، اگر غلط ریٹرن بعد میں مہنگی پڑ جائے»

صرف ریٹرن فائل نہ کریں، اپنی معلومات کو درست، مکمل اور باہم ہم آہنگ کر کے فائل کریں۔

Arshad Iqbal
Advocate High Court & Tax Attorney

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخ...
20/08/2026

ایف آئی اے کسی کو آف لوڈ نہیں کر سکتی۔۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم:-
وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔
حسین جمال و دیگر بنام وفاقِ پاکستان و دیگران
آئینی درخواستیں نمبر 1585 و 1587/2026 اور 5338/2025
اسلام آباد ہائی کورٹ، اسلام آباد
فاضل جج: جناب جسٹس ارباب محمد طاہر
فیصلہ: 06.08.2026
آئینِ پاکستان، 1973—آرٹیکلز 4، 9، 25 اور 33—ایمیگریشن آرڈیننس، 1979—ایمیگریشن رولز، 1979—وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974—بیرونِ ملک سفر کا حق—ائیرپورٹس پر مسافروں کو آف لوڈ کرنا—ایف آئی اے امیگریشن حکام کے اختیارات—دائرۂ اختیار—مساواتِ شہری—علاقائی و جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—اختیارات سے تجاوز۔
حقِ سفر—بنیادی حق: بیرونِ ملک سفر کرنا شہری کی آزادی کا حصہ اور آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت بنیادی حق ہے۔ بین الاقوامی سفر محض انتظامی سہولت نہیں بلکہ آزادی، روزگار، تعلیم، کاروبار اور ایک بامقصد زندگی کے حصول سے منسلک ہے۔ لہٰذا اس حق پر پابندی صرف واضح قانونی و آئینی اختیار کے تحت ہی عائد کی جاسکتی ہے۔
ایمیگریشن کلیئرنس—محافظِ تارکینِ وطن کا قانونی دائرۂ اختیار: ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور اس کے تحت بنائے گئے ایمیگریشن رولز، 1979 نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی تصدیق، جانچ، پروسیسنگ اور کلیئرنس کا مکمل قانونی نظام وضع کیا ہے۔ قانون نے اس مقصد کے لیے Protector of Emigrants کو مخصوص اتھارٹی مقرر کیا ہے۔ مذکورہ اتھارٹی شہری کے روزگار، ملازمت کے معاہدے، اہلیت، دستاویزات اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کے بعد رجسٹریشن اور کلیئرنس جاری کرتی ہے۔
ایف آئی اے کا اختیار—تحقیق، ریگولیشن نہیں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایکٹ، 1974 ایف آئی اے کو بعض مخصوص جرائم کی تحقیق (Investigation) کا اختیار دیتا ہے، مگر یہ اختیار اسے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے شہریوں کی ایمیگریشن کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کرنے کا ریگولیٹری اختیار (Regulatory Jurisdiction) نہیں دیتا۔ تحقیقِ جرم اور کسی قانونی سرگرمی کی ریگولیشن دو مختلف تصورات ہیں۔ ایمیگریشن کی ریگولیشن کا اختیار Protector of Emigrants کو دیا گیا ہے، جبکہ ایف آئی اے کا متعلقہ اختیار مخصوص جرائم کی تفتیش تک محدود ہے۔
قانونی اختیار کے بغیر انتظامی کارروائی—اختیار سے تجاوز: ہر سرکاری ادارہ قانون کی پیداوار ہے اور صرف وہی اختیار استعمال کرسکتا ہے جو قانون نے اسے صراحتاً یا لازمی طور پر تفویض کیا ہو۔ شہری کے حقوق کو متاثر کرنے والی ہر کارروائی کا کوئی نہ کوئی واضح قانونی ماخذ ہونا ضروری ہے۔ اگر قانونی اختیار موجود نہ ہو تو کارروائی اختیار سے تجاوز (ultra vires) اور بلاجواز قانونی اختیار تصور ہوگی، خواہ اسے کتنی ہی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو۔
ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف کو اپیل یا نظرِ ثانی کا اختیار حاصل نہیں: اگر Protector of Emigrants نے قانون کے مطابق کسی شہری کے کاغذات، ملازمت، ویزا اور دیگر متعلقہ امور کی جانچ کرکے اسے ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن دے دی ہو تو ایف آئی اے امیگریشن اسٹاف محض ائیرپورٹ پر موجود ہونے کی بنیاد پر اسی معاملے کو دوبارہ نہیں کھول سکتا۔ نہ ہی وہ Protector of Emigrants کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریویو اتھارٹی کے طور پر کام کرسکتا ہے، کیونکہ قانون میں ایسا کوئی اختیار فراہم نہیں کیا گیا۔
قانونی نظام کو بے معنی بنانے سے گریز: اگر ایف آئی اے کو Protector of Emigrants کی جانب سے پہلے ہی کی گئی جانچ کے بعد دوبارہ وہی معاملات جانچنے اور مختلف نتیجہ اخذ کرنے کا اختیار تسلیم کرلیا جائے تو اس سے Protector of Emigrants کے پورے قانونی نظام کی حیثیت بے معنی ہوجائے گی اور قانون کے تحت مقرر کردہ رجسٹریشن کا عمل محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔ قانون کی ایسی تشریح سے گریز کیا جانا چاہیے جو کسی قانونی شق یا قانونی طریقۂ کار کو بے اثر یا غیر مؤثر بنا دے۔
پیشگی یا قیاسی شبہ—بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے: محض اس بنیاد پر کہ ماضی میں کسی مخصوص طبقے یا اسی نوعیت کے افراد نے بیرونِ ملک جا کر قانون کی خلاف ورزی کی، کسی موجودہ شہری کے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جاسکتے۔ قانون کسی حقیقی خلاف ورزی پر کارروائی کی اجازت دیتا ہے، مگر محض قیاسی شبہ (predictive suspicion) کی بنیاد پر کسی شہری کو سفر سے روکنے کا اختیار نہیں دیتا۔
علاقائی یا جغرافیائی بنیادوں پر پروفائلنگ—آئین کے منافی: پاکستان میں آئینی طور پر صرف ایک قسم کی شہریت ہے، یعنی پاکستانی شہریت۔ صوبہ، ضلع، علاقہ، نسل، قبیلہ یا رہائش شہریوں کی الگ الگ آئینی کلاسز تشکیل نہیں دیتے۔ ہر شہری مساوی عزت، احترام اور قانونی تحفظ کا مستحق ہے۔ کسی شہری کے ساتھ محض اس کے ضلع، صوبے یا جغرافیائی تعلق کی بنیاد پر مختلف یا منفی سلوک آئین کے آرٹیکلز 4 اور 25 کی مساوات کی ضمانت اور آرٹیکل 33 میں موجود علاقائی، نسلی، قبائلی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تعصبات کی حوصلہ شکنی کے اصول سے متصادم ہوگا۔
ہر شہری کو اس کے اپنے کردار کی بنیاد پر جانچا جائے: ریاستی ادارے کسی شہری کا جائزہ اس کے اپنے طرزِ عمل، اس کے مخصوص حقائق اور اس کے ذاتی دستاویزات کی بنیاد پر لے سکتے ہیں، لیکن اسے اس کے ضلع، علاقے یا رہائش سے منسوب عمومی تصورات اور دقیانوسی مفروضوں کی بنیاد پر مشتبہ قرار نہیں دے سکتے۔ مساوی شہریت محض آئینی خواہش نہیں بلکہ ایک قابلِ نفاذ آئینی ضمانت ہے۔
آف لوڈنگ—واضح قانونی بنیاد لازم: اگر کسی شہری کے پاس درست پاسپورٹ، درست ویزا اور Protector of Emigrants کی جانب سے قانون کے مطابق ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن موجود ہو تو اسے سفر سے روکنے یا آف لوڈ کرنے کے لیے کسی مخصوص قانونی شق کا حوالہ دینا لازم ہے۔ ایسی قانونی بنیاد کی عدم موجودگی میں آف لوڈنگ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے باہر کارروائی ہوگی۔
موجودہ مقدمات میں نتیجہ: درخواست گزاروں کے پاس درست پاسپورٹ، غیر ملکی روزگار کے ویزے اور Protector of Emigrants کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن/ایمیگریشن کلیئرنس موجود تھی۔ ان کے روزگار کے معاہدوں، اسناد اور دیگر متعلقہ امور کی پہلے ہی مجاز قانونی اتھارٹی جانچ کرچکی تھی۔ وفاقی حکومت یا ایف آئی اے عدالت کے سامنے کوئی ایسی قانونی شق پیش نہ کرسکی جو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو Protector of Emigrants کے فیصلے کو دوبارہ جانچنے یا اس پر نظرِ ثانی کا اختیار دیتی ہو۔ چنانچہ درخواست گزاروں کو انہی امور کی بنیاد پر آف لوڈ کرنا، جنہیں مجاز اتھارٹی پہلے ہی جانچ اور منظور کرچکی تھی، بلا قانونی اختیار قرار پایا۔
انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم—قانون سازی کا حل: عدالت نے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی ہجرت، منظم بھیک مانگنے اور بیرونِ ملک روزگار کے ذرائع کے غلط استعمال جیسے مسائل کی سنگینی کو تسلیم کیا، تاہم قرار دیا کہ اگر موجودہ قانونی نظام ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے تو اس کا حل قانون سازی اور قانونی اصلاحات ہیں، نہ کہ ایف آئی اے کی جانب سے ائیرپورٹس پر ایک متوازی اور غیر قانونی اسکریننگ نظام قائم کرنا۔
اداروں کا احتساب—آف لوڈ ہونے والا ہر شخص سوال اٹھاتا ہے: عدالت نے اہم طور پر نشاندہی کی کہ ہر آف لوڈ کیا جانے والا تارکِ وطن درحقیقت Protector of Emigrants کے نظامِ کلیئرنس کی ناکامی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس کے باوجود ریکارڈ پر ایسا کچھ موجود نہیں تھا کہ متعلقہ Protector of Emigrants یا Overseas Employment Promoter کے خلاف کوئی انکوائری، محکمانہ کارروائی یا اصلاحی اقدام کیا گیا ہو۔ صرف مسافروں کو نشانہ بنانا جبکہ ان سرکاری و متعلقہ اہلکاروں کا احتساب نہ کرنا جنہوں نے کلیئرنس دی، موجودہ آف لوڈنگ پریکٹس کی قانونی حیثیت، انصاف اور افادیت پر سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
حتمی فیصلہ: آئینی درخواستیں نمبر 1585 اور 1587/2026 منظور کی گئیں اور ان درخواست گزاروں کی آف لوڈنگ کو بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار قرار دیا گیا۔ آئینی درخواست نمبر 5338/2025 نمٹا دی گئی، جبکہ فیصلے کے متعلقہ پیراگرافس میں دی گئی آئینی و قانونی آبزرویشنز برقرار رہیں۔ عدالت نے فیصلے کی نقول سیکریٹری وزارتِ داخلہ، سیکریٹری وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو تعمیل اور ضرورت پڑنے پر قانونی اصلاحات کے لیے بھجوانے کی ہدایت بھی کی۔
قانونی اصول / Ratio Decidendi:
اگر کوئی پاکستانی شہری درست پاسپورٹ، درست ویزا اور ایمیگریشن آرڈیننس، 1979 اور ایمیگریشن رولز، 1979 کے تحت Protector of Emigrants سے باقاعدہ ایمیگریشن کلیئرنس اور رجسٹریشن حاصل کرچکا ہو تو ایف آئی اے امیگریشن حکام کو قانون میں واضح اختیار کے بغیر اس کلیئرنس کو دوبارہ جانچنے، اس پر اپیل یا ریویو کی حیثیت سے بیٹھنے یا شہری کو آف لوڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ ایسی کارروائی، اگر کسی مخصوص قانونی اختیار کے بغیر کی جائے، تو شہری کے حقِ سفر اور آئینی ضمانتوں سے متصادم ہونے کے ساتھ ساتھ بلا قانونی اختیار اور دائرۂ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہوگی۔۔۔

جب قانون کمزور پڑ جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہےعاصمہ جہانگیر نے درست کہا تھا کہ اگر ماورائے آئین و قانون اقدامات کا سلس...
14/08/2026

جب قانون کمزور پڑ جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے

عاصمہ جہانگیر نے درست کہا تھا کہ اگر ماورائے آئین و قانون اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو یہ ملک جنگل بن جائے گا۔ آج کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم واقعی اسی طرف جا چکے ہیں۔

ان کا اصولی موقف ہمیشہ یہ رہا کہ کسی بھی ملزم کو سزا صرف due judicial process کے ذریعے ہی دی جانی چاہیے۔ الزام لگنے اور جرم ثابت ہونے میں فرق ہوتا ہے، اور یہ فرق صرف عدالت ہی طے کر سکتی ہے۔

لیکن جب لوگوں کا عدالتی نظام اور انصاف کے اداروں پر اعتماد ختم ہونے لگے تو پھر خطرناک صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ لوگ قانون پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود ہی بدلہ لینے کا راستہ اختیار کرنے لگتے ہیں۔

اب لاہور کا یہ واقعہ ہی دیکھ لیں۔

خبروں کے مطابق پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان فیضان کے سگے بھائی ریحان بٹ نے فائرنگ کرکے دو پولیس اہلکاروں، سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو قتل کر دیا۔ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔

اگر خبر درست ہے تو یہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے۔

دو پولیس اہلکار اپنی جان سے گئے، ایک خاندان اجڑ گیا، اور دوسری طرف ایک ایسے شخص کے بارے میں یہ دعویٰ سامنے آ رہا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

یہی وہ صورتحال ہے جس سے عاصمہ جہانگیر خبردار کرتی تھیں۔

جب ریاست انصاف نہیں دے پاتی تو لوگ انتقام کو انصاف سمجھنے لگتے ہیں۔

کسی پولیس اہلکار کو قتل کرنا کسی صورت درست نہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کسی شہری کو کسی "مبینہ" پولیس مقابلے پر اعتراض ہو تو اسے انصاف کہاں سے ملے گا؟

اس کا جواب صرف ایک ہے:

عدالت۔ قانون۔ اور شفاف عدالتی عمل۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں تو ہمیں بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا ہوگا۔

ورنہ پھر مسئلہ صرف مجرموں کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔

قانون سب کے لیے برابر ہوگا تو ہی ریاست مضبوط ہوگی۔

Address

Railway Station Road Opposite Balouch Levy Lines
Dera Ghazi Khan
32200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hussain Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category