AFZAL Law Associates

AFZAL Law Associates Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from AFZAL Law Associates, Lawyer & Law Firm, Chitral Office: Office No. 03, Opposite Police Station, Near Diatrict Courts Chitral, Chitral.

Welcome to Afzal Law Associates (ALA) where expert legal minds deliver trusted advice and strategic solutions for complex legal matters.Stay informed with authoritative insights,updates and profound legal knowledge to secure legal future Afzal Law Associates and Legal Consultants is a law firm based in Islamabad, Peshawar and Chitral by the group of highly qualified professionals with an aim to pr

ovide best legal services in all the legal matters up to the level of High Court and Federal Shariat Court. ALAALC has been providing legal services through out Pakistan in legal matters related to Civil, Criminal, Family, Banking, Corporate, Taxation and a various other variety of litigation within and outside Pakistan.

09/10/2025

The Maintenance of Public Order (MPO)

اکثر و بیشتر ہم ایم پی او یعنی مینٹیننس اف پبلک آرڈر کے بارے میں سنتے ائے ہیں۔ خاص کر 3MPO کے بارے میں۔گزشتہ دو سالوں سے تو یہ مسلسل میڈیا کی زینت بنا رہا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ ایم پی او آخر کیا چیز ہے اور کب اور کس لیے بنایا گیا؟ ایم پی او ایک قانون ہے جو 1960 میں جنرل ایوب خان کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت بنایا گیا۔ قانون کا بنیادی مقصد لوگوں کی آزادی کا حق تنگ کرنا تھا اور پیشگی گرفتاریوں میں پولیس کے اختیارات کو وسعت دینا تھا۔

ایم پی او کا تاریخی پس منظر:
عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے حوالے سے قوانین انگریزوں کے دور میں بنے تھے اور وہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی الگ دستاویز موجود نہیں تھا۔ پاکستان میں مارشل لاء لاگو ہونے کے بعد ملک میں افر تفری کا سماں تھا مختلف سیاسی و عوامی جماعتوں کی طرف سے مزاحمت ہو رہی تھی۔ ایسے میں ملک میں انتشار کو کم کرنے اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے جنرل ایوب خان کی طرف سے ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت ایم پی او کا قیام عمل میں لایا گیا۔

ایم پی او کے مقاصد:
ایم پی او کے سیاسی مقاصد کے علاوہ بظاہر یہ مقاصد پیش کیے گئے:
(1) عوام کا تحفظ برقرار رکھنا
(2) قانون کی حکمرانی کا تحفظ
(3) اور ایسے عناصر کو روکنا جس سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

ایم-پی-او کے اثرات:
ویسے تو اس قسم کے قوانین سے معاشرے کا تحفظ ہوتا ہے لیکن ایم پی او آرڈیننس میں کچھ ایسے نکات ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کے مخالف ہیں۔ اسی بنا پر یہ قانون ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں ایم پی او کے کون سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔

(١) آزادی اظہار رائے پر قدغن:
ایم پی او کے سیکشن سکشن A-6 کو دیکھا جائے تو وہ آزادی اظہار رائے کو پامال کرتا ہے۔ اگر آئین پاکستان کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو دونوں میں مکمل تضاد ہے۔ آزادی اظہار رائے ہر پاکستان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق ائین اسے دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یو ڈی ایچ ار(UDHR) اور ائی سی سی پی ار(ICCPR), جن کی توثيق پاکستان نے کی ہے، ہر شہری کو اظہار رائے کا حق دیتے ہیں۔

(٢) مخالف رائے رکھنے پر پابندی:
ایم پی او میں کچھ ایسے دفات بھی ہیں جس سے مخالف رائے کا اظہار کرنے پر حکومت بنا کسی وارنٹ کے لوگوں کو قید کر سکتی ہے۔ اسی بنا پر مختلف اوقات میں صحافیوں اور دیگر میڈیا پرسنز کے خلاف کاروائیاں ہوتی ہوتی ہیں ۔

(٣) پرامن احتجاج پر پابندی:
احتجاج کا حق بھی آئین ہر شہری کو دیتا ہے۔ لیکن اس قانون کے تحت اس حق کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے کسی بھی عوامی مجمع سے پہلے ڈپٹی کمشنر سے اجازت طلب کرنا اور بعض اوقات اجازت بھی نہیں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں سب کچھ پہلے سے طے ہوتا ہے۔ تب جا کر حکومت کی طرف سے اجازت ملتی ہے۔ یہ بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اسی کا استعمال کرتے ہوئے آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ مخالف سیاسی جماعتوں کی احتجاج پر کاروائیاں ہوتی ہیں۔ صرف سیاسی مخالفین نہیں بلکہ غیر سیاسی تنظیموں، طلباء یونین اور دیگر سول سوسائٹی کے افراد، سب پر اکثر و بیشتر لاٹھی چارج ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی قانون کی اڑ میں کی جاتی ہے۔

ایم پی او کا پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ موازنہ:
بھارت میں بھی ایم پی او کے مقابل ایک قانون ہے جس کا نام پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) ہے جو پولیس کو پیشگی گرفتاری کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے بھارت کی اعلی عدلیہ نے اس کی کچھ اس طرح سے تشریح کی جس سے حکومت کے اختیارات کافی حد تک محدود ہوئے ہیں ۔

مختصرا جہاں ایم پی او کی ضرورت ہے وہاں اس میں کچھ ایسے نکات ہیں جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے ہمارے پارلیمان کو چاہیے ہے کہ اس طرح کے نکات کا ازسر نو جائزہ لے اور اس کو آئین پاکستان اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق لے آئے جس طرح دوسرے کئی ممالک میں کیا گیا ہے۔

بقلم محبوب الرحمن
طالب علم شریعہ اینڈ لاء
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

AFZAL Law Associates

W.P N.O 2494/2025  کم عمری کی شادی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ جسٹس اعظم خان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر نا...
05/10/2025

W.P N.O 2494/2025
کم عمری کی شادی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ

جسٹس اعظم خان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر نابالغ لڑکی بلوغت کو پہنچ جائے اور اپنی رضامندی سے نکاح کرے تو یہ نکاح شرعی طور پر معتبر اور قانونی طور پر درست ہوگا، تاہم اسلام آباد چائلڈ ریسٹرینٹ میرج ایکٹ 2025ICRMA کے تحت یہ عمل "جرم" شمار ہوگا۔
مقدمے کے حقائق یہ تھےکہ محمد ریاض(درخواست گزار)
نے 30 مئی 2025 کو مدیحہ بی بی سے محبت کی شادی کی۔
تین ہفتے بعد مدیحہ بی بی کے گھر والوں نے اسے ذبردستی شوہر کے گھر سے لے گئے۔
محمد ریاض نے مدیحہ بی بی کی بازیابی کے لیے 491۔
Crpc کے تحت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد (ایسٹ) میں درخواست جمع کی جو کہ مسترد ہوا۔ جس کے بعد 1973درخواست گزار نے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان
کے آرٹیکل 199 کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن دائر کی۔
نکاح نامے میں لڑکی کی عمر "تقریباً 18 سال" درج تھی لیکن
نادرا ریکارڈ کے مطابق وہ 15 برس کی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے نکاح کو قانون باطل نہیں ٹھہراتا بلکہ صرف بالغ سہولت کاروں اور نکاح کرانے والوں
کو سزا دیتا ہے۔ مدیحہ بی بی نے عدالت میں دہے گئے اپنے بیان میں شوہر کے ساتھ رہنے میں اپنی رضامندی ظاہر کی ۔
عدالت نے حوالہ دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 اس نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور
Majority Act 1875میں شادی کو عمومی معاہدوں سے الگ رکھا گیا ہے۔ اسی طرح
Hudood Ordinance 1979 میں بلوغت کو قانونی معیار تسلیم کیا گیا ہے۔
Islambad Child Restraint Act 2025 میں کم عمری کی شادی کو جرم قرار دیا گیا ہے لیکن واضح طور پر شادی کو باطل قرار نہیں دیا گیا عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے کہ نکاح کو درست مانا جائے مگر ساتھ ہی اسے جرم بھی بنایا جائے
عدالت نے دستور پاکستان کے آرٹیکل 227 اور
Enforcement of Shari'ah Act 1991 (دفعہ 3 اور 4) کی روشنی میں کہا کہ جہاں قانون میں ابہام ہو وہاں شرعی اصول کو ترجیح حاصل ہے
:عدالت نے اس فیصلے میں تجاویز پیش کی کہ
فوجداری قوانین میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تاکہ قانونی عمل
میں تسلسل اور یکسانیت رہے۔
نکاح رجسٹراروں کو لازمی پابند کیا جائے کہ وہ 18 سال سے کم عمر افراد کی شادیوں کو رجسٹر نہ کریں۔
نادرا کے نظام کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ عمر کی تصدیق کے بغیر نکاح نامہ جاری نہ ہو۔
عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ کم عمری کی شادی کے نقصانات سے آگاہ رہتے ہوئے اس کے تدارک میں مدد ملے۔

AFZAL Law Associates

📌 افضل لاء ایسوسی ایٹس کا باقاعدہ افتتاح:الحمدللہ! آج چترال میں سینئر قانون دان اور سابق سینئر پبلک پراسیکیوٹر محمد افضل...
03/07/2025

📌 افضل لاء ایسوسی ایٹس کا باقاعدہ افتتاح:

الحمدللہ! آج چترال میں سینئر قانون دان اور سابق سینئر پبلک پراسیکیوٹر محمد افضل خان نے اپنی وکالت کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے "افضل لاء ایسوسی ایٹس" کے نام سے ایک جدید اور ہمہ جہت قانونی دفتر قائم کر دیا ہے۔

افتتاحی تقریب میں چترال کے معروف وکلاء، سماجی رہنماؤں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ محمد افضل خان نے سرکاری سطح پر انصاف کی فراہمی میں کئی دہائیاں گزارنے کے بعد اب نجی پریکٹس کا آغاز کیا ہے تاکہ اپنے تجربے، دیانت اور پیشہ ورانہ بصیرت کے ساتھ عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔

افضل لاء ایسوسی ایٹس چترال کا پہلا مکمل نوعیت کا قانونی ادارہ ہے جو مختلف قانونی شعبوں میں خدمات فراہم کر رہا ہے، جن میں شامل ہیں:
🔹 فوجداری مقدمات
🔹 دیوانی مقدمات
🔹 خاندانی معاملات
🔹 ٹیکس ریٹرن کی تیاری و رہنمائی
🔹 کارپوریٹ و کمرشل مقدمات
🔹 ثالثی اور متبادل حل تنازعات (ADR)

📍 دفتر کا پتہ: دفتر نمبر 03، اپوذٹ پولیس اسٹیشن، نزد ڈسٹرکٹ کورٹس ، چترال
📞 رابطہ نمبر:03405833272
📩 مشاورت کے لیے براہ راست پیغام بھیجیں یا دفتر تشریف
لائیں۔..

M Bakhtiyar Afzal M Afzal Khan Waseem Afzal M Shahriyar Afzal

03/08/2023

AFZAL LAW ASSOCIATES
“Let’s learn the laws”

Questions of the day:

i) Whether the benefit of doubt can be extended to the accused even at the bail stage?
ii) ii) What is meant by reasonable grounds?
The Hon’ble Supreme Court has rendered answers to the above-mentioned question,
In case Titled: Fahad Hussain and another v. The State “Criminal Petition No.167-K of 2022”

Brief Facts of the case:

By dint of this Criminal Petition, the petitioners have called in question the order passed by the High Court of Sindh, Circuit Court, Larkana in Criminal Bail Application whereby the petitioners’ application for pre-arrest bail was dismissed and ad interim bail order was recalled in FIR, lodged under Sections 302 and 34, PPC at Police Station.

Analysis on the above mentioned questions:

i) It is a well-settled principle of the administration of justice in criminal law that every accused is innocent until his guilt is proved and this benefit of doubt can be extended to the accused even at the bail stage, if the facts of the case so warrant. The basic philosophy of criminal jurisprudence is that the prosecution has to prove its case beyond reasonable doubt and this principle applies at all stages including pre-trial and even at the time of deciding whether accused is entitled to bail or not which is not a static law but growing all the time, moulding itself according to the exigencies of the time.

ii) In order to ascertain whether reasonable grounds exist or not, the Court should not probe into the merits of the case, but restrict itself to the material placed before it by the prosecution to see whether some tangible evidence is available against the accused person(s). Reasonable grounds are those which may appeal to a reasonable judicial mind, as opposed to merely capricious, irrational, concocted and/or illusory grounds. However, for deciding the prayer of an accused for bail, the question whether or not there exist reasonable grounds for believing that he has committed the alleged offence cannot be decided in a vacuum.

Conclusion:

i) Benefit of doubt can be extended to the accused even at bail stage.
ii) Reasonable grounds are those which may appeal to a reasonable judicial mind, as opposed to merely capricious, irrational, concocted and/or illusory grounds.

Details of the judgment can be read @ https://www.supremecourt.gov.pk/downloads_judgements/crl.p._167_k_2022pdf

AFZAL LAW ASSOCIATES AND LEGAL CONSULTANTS

ویڈیو کال، وٹس اپ، فیس بک میسنجر وغیرہ کے ذریعہ شہادت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔قانون شہادت آرڈر 1984 میں اہم ترمیمThe Crimina...
23/07/2023

ویڈیو کال، وٹس اپ، فیس بک میسنجر وغیرہ کے ذریعہ شہادت ریکارڈ کی جاسکتی ہے۔
قانون شہادت آرڈر 1984 میں اہم ترمیم

The Criminal Laws (Amendment) Act, 2023

Amendment of Article 164, Qanun-e-Shahadat Order, 1984'-
ln the Qanun-e-Shahadat Order, 1984, for Article 164, the following shall be substituted, namely:

"164. Production of evidence that has become available because of modern devices or information system, etc.
Depending on the nature of case and circumstances, the Court may, if deem appropriate, allow to be produced any evidence of witness(s) recorded by the Court through the modern devices or techniques includlng video call, viber, Skype lmo, Whatsapp, facebook messenger, line caller and video conference etc ".

AFZAL Law Associates

ریمانڈریمانڈ کیا ہے ؟ریمانڈ کے اصول کو کونسے دفعات ڈیل کرتی ہیں؟ریمانڈ کی درخواست کن کو دی جاتی ہے یا کن کو دی جا سکتی ھ...
18/07/2023

ریمانڈ
ریمانڈ کیا ہے ؟
ریمانڈ کے اصول کو کونسے دفعات ڈیل کرتی ہیں؟
ریمانڈ کی درخواست کن کو دی جاتی ہے یا کن کو دی جا سکتی ھے؟
دوران ریمانڈ ملزم کو کہاں رکھا جاتا ہے؟
ریمانڈ کی اقسام کیا کیا ہیں ؟
ریمانڈ منظور کرتے وقت مجسٹریٹ کو کن چیزوں کی پابندی کرنی چائیے ؟

ریمانڈ کے لفظی معنی واپس بھجوانا ہے۔ فوجداری مقدمات میں ملزم کو پھر حوالات بھیجنا مگر پولیس کے تشدد کی وجہ سے یہ اطلاع بڑی خطر ناک بن چکی ہے۔ جب کوئی شخص گرفتار ہوتا ہے تو پولیس اس کو چوبیس گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے پاس پیش کرنے کی پابند ہوتی ہے اور مزید عرصے کے لئے زیر حراست رکھنا مطلوب ہو تو پولیس مجسٹریٹ سے تحریری حکم حاصل کرتی ہے اس درخواست کو ریمانڈ کی درخواست کہتے ہیں۔ اگر پولیس24 گھنٹے کے اندر ملزم کو عدالت میں پیش نہیں کرتی اور مزید مناسب حکم حاصل نہیں کرتی تو 24 گھنٹے سے بعد کی حراست غیر قانونی شمار ہوگی۔

(PLD 1960 Pesh 74)

ریمانڈ کو ضابطہ فوجداری کی دفعات61، 167 اور344 ڈیل کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ دفعہ62 اور دفعہ173 کے ساتھ آئین پاکستان کے ارٹیکل 10 کا بھی مطالعہ بھی ضروری ہے

عام طور پر ریمانڈ کی درخواست علاقہ مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے تاہم ناگزیر صورت میں ریمانڈ کی درخواست کسی بھی مقامی مجسٹریٹ کو دی جا سکتی ہے۔ مجسٹریٹ جس کے روبرو کسی ملزم کو بغرض ریمانڈ پیش کیا جائے زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کا ریمانڈ دے سکتا ہے۔ ہائی کورٹ رولز میں بھی ریمانڈ کے متعلق احکامات اور ہدایات دی گئی ہیں۔ ریمانڈ کی درخواستوں میں قانون یہ ہے کہ مجسٹریٹ کو ملزم کے وکیل یا اسکے رشتہ داروں کو یہ حق دینا چاہئے کہ اگر وہ Remand کے خلاف ملزم کی طرف سے عذرات پیش کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ ہائی کورٹ کے قواعد میں درج ہے کہ مجسٹریٹ کو لازم ہے کہ وہ ملزم کو وکیل رکھنے کا موقع دے تاکہ وہ وکیل ریمانڈ کے خلاف عذرات پیش کر سکے۔

مجسٹریٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ آیا ملزم کا پولیس کے قبضہ میں دیا جانا ضروری ہے یا نہیں۔اگر مجسٹریٹ محسوس کرے کہ ملزم کو پولیس کی حراست میں مزید رکھنا ضروری نہیں ہے تو وہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔

(PLD 1979 Lah 587)

وہ ملزم جس کے خلاف مقدمہ زیر تجویز ہو ریمانڈ پر صرف پولیس اسٹیشن میں رکھا جا سکتا ہے کسی اور جگہ نہیں ورنہ یہ اقدام غیر قانونی ہوگا۔ریمانڈ کے لئے ضروری ہے کہ ملزم کو مجسٹریٹ کے روبرو حاضر کیا جائے۔ مجسٹریٹ کا خود مقامنظر بندی تک جانا غیر قانونی ہے۔

(PLD 1965 Lah 336)

ملزم کے رشتہ داروں کو دوران ریمانڈملزم کو کھانا یا لباس مہیا کرنے سے بھی منع نہیں کیا جا سکتا۔

ریمانڈ مندرجہ ذیل اقسام کی ہوتی ہیں :

1۔ جسمانی ریمانڈ (Physical Remand)

جسمانی ریمانڈ کا مطلب یہ ہے کہ گرفتار شدہ ملزم تھانہ میں زیر حراست رہتا ہے۔ مجسٹریٹ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ پولیس کو بر آمدگی وغیرہ یا کسی اور مقصد کے لئے ملزم کے جسم کی ضرورت ہے تو وہ ملزم کا جسمانی ریمانڈ وقتاً فوقتاً پولیس افسران کو دیتا رہے گا۔ لیکن اس ریمانڈ کی مجموعہ تعداد پندرہ دن سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس جسمانی ریمانڈ کی وجہ بھی لکھی جائے گی۔ریمانڈ دینے لا طریقہ یہ ہوگا کہ ایک تو جسمانی ریمانڈ زیادہ دنوں کے لئے نہ دیا جائے گا اور شاید ہی کبھی پندرہ دن کا ہوا ہو۔

2۔ جوڈیشل ریمانڈ (Judicial Remand)

جوڈیشل ریمانڈ کا مطلب ملزم کو جیل بھجوانا ہوتا ہے۔ اگر پولیس آفیسر استدعا کرے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے یا مزید تفتیش کی ضرورت نہ ہے تو مجسٹریٹ ملزم کو عدالتی ریمانڈ(Judicial Remand) پر جیل بھجوا سکتا ہے۔

ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر تفتیشی افیسر مزید ریمانڈ جسمانی کی استدعا کرے تو مجسٹریٹ مزید ریمانڈ جسمانی(Physical Remand) کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوا سکتا ہے

3: عبوری/ راہداری ریمانڈ Transit Remand

ضابطہ فوجداری کے سیکشن 86 میں عبوری/ راہداریریمانڈ کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔
ریمانڈ کی کاروائی میں ملزم قانونی معاونت کا مستحق ہے۔
ریمانڈ کی کاروائی میں یہ مجسٹریٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کو اجازت دے کہ وہ قانونی معاونت حاصل کرے۔ وہ اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے اسکے علاوہ ریاست پابند ہے کہ اس مرحلے پر اُ سے فری قانونی سروس فراہم کرے۔

ریمانڈ کا حکم صادر کرتے وقت مجسٹریٹ کو چند امور مد نظر رکھنا چاہیے :

1۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ تفتیش مقدمہ مکمل ہے۔

2۔ مجسٹریٹ اگر مناسب سمجھے کہ مزید تفتیش کی غرض سے جسمانی ریمانڈ دینا مناسب نہیں ہے۔

3۔ ملزم کے خلاف بظاہر کوئی مقدمہ نہ بنتا ہو۔

4۔ تمام بر آمدگیاں مکمل ہو چکی ہوں۔

اس کے علاوہ :

1۔ ریمانڈ کا حکم کھلی عدالت میں دیا جائے۔

2۔ ریمانڈ دینے سے پہلے مجسٹریٹ پولیس کی لکھی ہوئی ضمنیوں کی پڑتال کرے اور اس بات کا اطمینان کرے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے معقول اور ٹھوس وجوہات ضمنی میں موجود ہیں۔

3۔ ملزم یا اسکے وکیل یا دوست رشتہ دار وں کے اعتراضات کی سماعت کرے، ان اعتراضات کو لکھے اور ان وجوہات کو بھی لکھے جن کی بناء پر وہ جسمانی ریمانڈ لینا قانوناً ضروری سمجھتا ہے۔

4۔ مجسٹریٹ کا فرض ہے کہ وہ ملزم سے پوچھے کہ آیا اس پر تشدد تو نہیں کیا گیا اور اگر وہ تشدد کی شکایت کرے تو اس کا ڈاکٹری ملاحظہ / معائنہ کروائے۔ یہ ڈاکٹری معائنہ میڈیکل بورڈ کرے گا۔

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ملزم کو گرفتار ہوتے ہی ضمانت کی درخواست دینے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اسلئے لوگوں میں یہ غلط فہمی دور کرنے کی ضرورت ہے کہ ریمانڈ کی مدت جب تک ختم نہ ہو ضمانت نہیں ہو سکتی۔ سادہ سی بات ہے کہ جب ملزم گرفتاری سے پہلے بھی قبل از گرفتاری ضمانت کروانے کا حق رکھتا ہے تو گرفتاری کے بعد وہ حق کیونکر چھینا جا سکتا ہے۔ تمام قانونی تقاضے پورے کرنا عدالت کا، وکلاء کا اور پولیس کا فرض ہے تاکہ انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے اور معاشرہ صحیح خطوط پر استوار ہو سکے۔

خواتین کا ریمانڈ اور تفتیش

1۔ گرفتار خواتین کی تفتیش ملزمہ کے دو مرد اور ایک خاتون رشتہ داروں کے سامنے اورموجودگی میں کی جائے گی یا معززین علاقہ کے روبرو تفتیش کی جائے گی۔
2۔ خواتین کی گرفتاری کے بارے میں سپیشل رپورٹ سرخ لفافہ میں افسران بالا کو بھجوائی جائے گی۔
3۔ اگر ریمانڈ جسمانی کے لئے خاتون ملزمہ کو عدالت میں پیش کرنا مقصود ہو تو گزٹیڈ آفیسر پیش کرنے کا پا بند ہے۔
4۔ اگر خاتون ملزمہ کو حراست میں رکھنا مقصود ہے تو زنانہ حوالات میں رکھا جائے گا تاکہ حیاء داری اور پردا داری کا خیال رکھا جائے۔
5۔ اگر عورت ملزمہ کو موقع کی نشاندہی یا شناخت کے لئے کسی گاؤں میں لے جانا ہو تو اس عورت کے رشتہ دار یا نمبر دار یا معزز ہمسایہ اس عورت کے ساتھ جائے گا۔
6۔ زنانہ پولیس کی موجودگی یقینی بنائی جائے گی۔
7۔ فوجداری قوانین میں اب ترمیم کی گئی ہے دفعہ(156B) ضابطہ فوجداری کے تحت عورت ملزمہ اسلامک لاء میں سپرٹینڈنٹ آف پولیس تفتیش مقدمہ کرنے کا مجاز ہے۔
۔

مختلف Citations

ملزم کے خلاف زیر سماعت کاروائی میں دفعہ 167 کی شرائط پر عملدر آمد کرنا ضروری ہے خواہ ایسے مقدمات بعد ازاں خصوصی عدالتوں میں منتقل کئے جاتے ہوں۔

(PLD 1996 kar 517)

مجسٹریٹ اور پولیس افسران کے منصب و فرائض کا احاطہ کیا گیا جو زیر دفعات344, 173, 167, 62, 61 ضابطہ فوجداری ان پر عائد ہوتے ہیں اور جن پر وہ عملدر آمد کرنے میں اجتناب کرتے ہیں جسکی وجہ سے ملزمان کی حراست غیر قانونی قرار پاتی ہے۔

(PLD 1996 Kar 517)

دفعہ61 اور دفعہ167 ض۔ف کا مقصد یہ ہے کہ گرفتار کردہ شخص کو ممکنہ عجلت کے ساتھ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے۔

(Air 1924 Cal 476(DB))

ملزم کو جب بلا وارنٹ گرفتار کیا جائے تو اسکی نظر بندی کی مدت 24 گھنٹے سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ اس مدت کے پورا ہونے پر اسے مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنا چاہئے جو اس سلسلے میں ریمانڈ کا حکم صادر کر سکتا ہے جو15 دن سے زائد نہیں ہونا چاہئے۔ ریمانڈ کا حکم بلا سوچے سمجھے صادر نہیں کرنا چاہئے۔مجسٹریٹ کو چاہئے کہ ریمانڈ کا حکم صادر کرنے سے قبل وہ اس امر پر جائزہ لے کہ آیا حکم ریمانڈ کے لئے وجوہات موجود ہیں یا نہیں۔

(1997 Pcr Lj 1204)

ریمانڈ کا حکم صادر کرتے وقت مجسٹریٹ کو دفعات167, 61 اور344 ض۔ف کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور اندفعات کی شرائط پر سختی سے عمل پیرا ہونا چاہئے۔

(1997 Pcr Lj 1204)

ریمانڈ کا حکم محض مشینی انداز میں نہیں ہونا چاہئے بلکہ مجسٹریٹ کو معقول وجوہات کی بناء پر ایسا حکم صادر کرنا چاہئے۔

(1997 Pcr Lj 1204)

دفعہ344 ض۔ف کے عدم اطلاق کی بناء پر ملزم کی حراست غیر قانونی پائے گی۔ ملزم کی جیل میں حراست کی مجاز عدالت کا حکم حاصل کئے بغیر واضح طور پر غیر قانونی ہوگی۔

(1997 MLD 2101)

عدالت کے کلرک کی طرف سے صادر شدہ حکم ریمانڈ نہ صرف غیر مجاز ہوگا بلکہ غیر قانونی ہوگا لیکن اس نے ایسا حکم صادر کرنے سے پہلے انتہائی احتیاط بر تی اور ملزم کا ریمانڈ حاصل کرنے کے لئے وہ تمام اقدامات کئے جو اس کے دائرہ اختیار میں تھے اور اس سلسلے میں مجاز اتھارٹی سے رجوع کیا اور ٹریفک مجسٹریٹ سے بھی ٹیلی فون کے زریعے رجوع کیا اور ان کی ہدایات پر ملزم کو حوالات میں جوڈیشل میں بھیج دیا۔ ان حالات میں چونکہ (کلرک آف کورٹ)سے کوئی بد نیتی یا عنار منسوب نہیں کیا جا سکتا اسلئے ہائی کورٹ کے حکم پر شروع کی گئی محکمانہ کاروائی قانون کی رو سے جائز نہ تھی۔

(1997 MLD 2041)

عدالت سماعت نے ملزم کو ریمانڈ پر زیر حراست رکھنے کا حکم جاری کرنے کے بعد مقدمہ کو بلا تاریخ مقرر کئے ملتوی کردیا اور بعد ازاں نہ ہی اسکے ریمانڈ کے لئے کوئی درخواست دی گئی اور نہ ہی اسے عدالت میں پیش کیا گیا اس طرح ملزم کو جیل میں عدالت کا حکم زیر دفعہ344 ضابطہ فوجداری حاصل کئے بغیر رکھنا خلاف قانون تھا چنانچہ ملزم کو ضمانت پررہا کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔

(1997 MLD 2101) (1992 Pcr Lj 357)
(1993 Pcr Lj 2066)

کاپیڈ

AFZAL Law Associates

Afzal Law Associates

The limitation period for filing an appeal against a sentence of death passed by court of session  or High Court in exer...
17/07/2023

The limitation period for filing an appeal against a sentence of death passed by court of session or High Court in exercise of it's original criminal jurisdiction is 30 days, after amendment in article 150 of Limitation act, 1908. Before amendment, it was 7 days from the date of sentence.

سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کرنے کی معیاد (7)سات دن سے بڑھا کر (30) تیس دن کردی گئی ہے.
AFZAL Law Associates

AFZAL Law Associates

Address

Chitral Office: Office No. 03, Opposite Police Station, Near Diatrict Courts Chitral
Chitral

Telephone

+923426888057

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AFZAL Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to AFZAL Law Associates:

Share