09/10/2025
The Maintenance of Public Order (MPO)
اکثر و بیشتر ہم ایم پی او یعنی مینٹیننس اف پبلک آرڈر کے بارے میں سنتے ائے ہیں۔ خاص کر 3MPO کے بارے میں۔گزشتہ دو سالوں سے تو یہ مسلسل میڈیا کی زینت بنا رہا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ ایم پی او آخر کیا چیز ہے اور کب اور کس لیے بنایا گیا؟ ایم پی او ایک قانون ہے جو 1960 میں جنرل ایوب خان کے دور میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت بنایا گیا۔ قانون کا بنیادی مقصد لوگوں کی آزادی کا حق تنگ کرنا تھا اور پیشگی گرفتاریوں میں پولیس کے اختیارات کو وسعت دینا تھا۔
ایم پی او کا تاریخی پس منظر:
عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے حوالے سے قوانین انگریزوں کے دور میں بنے تھے اور وہ پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہے۔ لیکن اس حوالے سے کوئی الگ دستاویز موجود نہیں تھا۔ پاکستان میں مارشل لاء لاگو ہونے کے بعد ملک میں افر تفری کا سماں تھا مختلف سیاسی و عوامی جماعتوں کی طرف سے مزاحمت ہو رہی تھی۔ ایسے میں ملک میں انتشار کو کم کرنے اور حکومت کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو دبانے کے لیے جنرل ایوب خان کی طرف سے ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت ایم پی او کا قیام عمل میں لایا گیا۔
ایم پی او کے مقاصد:
ایم پی او کے سیاسی مقاصد کے علاوہ بظاہر یہ مقاصد پیش کیے گئے:
(1) عوام کا تحفظ برقرار رکھنا
(2) قانون کی حکمرانی کا تحفظ
(3) اور ایسے عناصر کو روکنا جس سے معاشرے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
ایم-پی-او کے اثرات:
ویسے تو اس قسم کے قوانین سے معاشرے کا تحفظ ہوتا ہے لیکن ایم پی او آرڈیننس میں کچھ ایسے نکات ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کے مخالف ہیں۔ اسی بنا پر یہ قانون ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ آئیں دیکھتے ہیں ایم پی او کے کون سے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔
(١) آزادی اظہار رائے پر قدغن:
ایم پی او کے سیکشن سکشن A-6 کو دیکھا جائے تو وہ آزادی اظہار رائے کو پامال کرتا ہے۔ اگر آئین پاکستان کے ساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو دونوں میں مکمل تضاد ہے۔ آزادی اظہار رائے ہر پاکستان کا بنیادی حق ہے اور یہ حق ائین اسے دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یو ڈی ایچ ار(UDHR) اور ائی سی سی پی ار(ICCPR), جن کی توثيق پاکستان نے کی ہے، ہر شہری کو اظہار رائے کا حق دیتے ہیں۔
(٢) مخالف رائے رکھنے پر پابندی:
ایم پی او میں کچھ ایسے دفات بھی ہیں جس سے مخالف رائے کا اظہار کرنے پر حکومت بنا کسی وارنٹ کے لوگوں کو قید کر سکتی ہے۔ اسی بنا پر مختلف اوقات میں صحافیوں اور دیگر میڈیا پرسنز کے خلاف کاروائیاں ہوتی ہوتی ہیں ۔
(٣) پرامن احتجاج پر پابندی:
احتجاج کا حق بھی آئین ہر شہری کو دیتا ہے۔ لیکن اس قانون کے تحت اس حق کو بھی محدود کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے کسی بھی عوامی مجمع سے پہلے ڈپٹی کمشنر سے اجازت طلب کرنا اور بعض اوقات اجازت بھی نہیں ملتی ہے۔ اس کے علاوہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں سب کچھ پہلے سے طے ہوتا ہے۔ تب جا کر حکومت کی طرف سے اجازت ملتی ہے۔ یہ بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
اسی کا استعمال کرتے ہوئے آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ مخالف سیاسی جماعتوں کی احتجاج پر کاروائیاں ہوتی ہیں۔ صرف سیاسی مخالفین نہیں بلکہ غیر سیاسی تنظیموں، طلباء یونین اور دیگر سول سوسائٹی کے افراد، سب پر اکثر و بیشتر لاٹھی چارج ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ اسی قانون کی اڑ میں کی جاتی ہے۔
ایم پی او کا پڑوسی ملک بھارت کے ساتھ موازنہ:
بھارت میں بھی ایم پی او کے مقابل ایک قانون ہے جس کا نام پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) ہے جو پولیس کو پیشگی گرفتاری کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے بھارت کی اعلی عدلیہ نے اس کی کچھ اس طرح سے تشریح کی جس سے حکومت کے اختیارات کافی حد تک محدود ہوئے ہیں ۔
مختصرا جہاں ایم پی او کی ضرورت ہے وہاں اس میں کچھ ایسے نکات ہیں جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں ۔ اس حوالے سے ہمارے پارلیمان کو چاہیے ہے کہ اس طرح کے نکات کا ازسر نو جائزہ لے اور اس کو آئین پاکستان اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق لے آئے جس طرح دوسرے کئی ممالک میں کیا گیا ہے۔
بقلم محبوب الرحمن
طالب علم شریعہ اینڈ لاء
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
AFZAL Law Associates