10/06/2026
کیا اپیلیٹ کورٹ مکمل ریکارڈ اور شواہد اپنے سامنے موجود ہونے کے باوجود مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ (Remand) کرنا چاہیے یا اپنے اپیلیٹ اختیارات استعمال کرتے ہوئے خود ہی تنازعہ کا حتمی فیصلہ کرنا چاہیے!
اس فیصلے میں Supreme Court of Pakistan نے اختیاراتِ ریمانڈ (Remand Powers) اور اپیلیٹ کورٹ کی ذمہ داری کے بارے میں اہم قانونی اصول واضح کیے ہیں:
اہم قانونی نکات
1۔ ریمانڈ (Remand) ایک استثنائی اختیار ہے، معمول نہیں
عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجنا صرف غیر معمولی حالات میں جائز ہےصرف اس وجہ سے کہ اپیلیٹ کورٹ مزید تحقیق چاہتی ہے، ریمانڈ نہیں کیا جا سکتا۔
---
2۔ اپیلیٹ کورٹ کا بنیادی فرض خود فیصلہ کرنا ہے
جب پورا ریکارڈ اور شواہد اپیلیٹ کورٹ کے سامنے موجود ہوں تو:
اسے خود شواہد کا جائزہ لینا چاہیے۔
حقائق اور قانون پر فیصلہ کرنا چاہیے۔
بلا ضرورت مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو نہیں بھیجنا چاہیے۔
---
3۔ ریمانڈ کمزور کیس کو مضبوط بنانے کا ذریعہ نہیں
عدالت نے واضح کیا کہ:
ریمانڈ کسی فریق کو اپنی کوتاہیوں، خامیوں یا کمزور شواہد کو پورا کرنے کا دوسرا موقع دینے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتیں ایسے احکامات سے اجتناب کریں جو مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول دیں۔
---
4۔ فریق کی اپنی غفلت ریمانڈ کا جواز نہیں
اگر کوئی فریق:
عدالت میں پیش ہو،
جواب دعویٰ داخل کرے،
لیکن بعد میں کارروائی میں حصہ لینا چھوڑ دے،
تو وہ بعد میں یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ اسے دوبارہ موقع دیا جائے یا مقدمہ دوبارہ چلایا جائے۔
---
5۔ اپیلیٹ ذمہ داری سے فرار قابلِ قبول نہیں
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:
پورا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دینا، جبکہ تمام ریکارڈ اپیلیٹ کورٹ کے پاس موجود ہو، اپیلیٹ ذمہ داری سے دستبرداری (abdication of appellate responsibility) کے مترادف ہو سکتا ہے۔
---
6۔ خاندانی مقدمات میں جلد فیصلہ ضروری ہے
عدالت نے زور دیا کہ:
فیملی مقدمات میں میاں بیوی اور بچوں کے حقوق شامل ہوتے ہیں۔
ایسے مقدمات کو غیر ضروری طور پر لٹکانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔
عدالتوں کو فوری اور حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔
Ratio Decidendi (قانونی اصول)
"جب اپیلیٹ کورٹ کے سامنے مکمل ریکارڈ موجود ہو اور کوئی بنیادی قانونی یا طریقہ کار کی خرابی ثابت نہ ہو، تو مقدمہ ریمانڈ کرنے کے بجائے اپیلیٹ کورٹ خود تنازع کا حتمی فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔"