Sulaiman Khan Law Associates

Sulaiman Khan Law Associates Your Legal Fighter

کیا اپیلیٹ کورٹ مکمل ریکارڈ اور شواہد اپنے سامنے موجود ہونے کے باوجود مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ (Remand) کرنا چا...
10/06/2026

کیا اپیلیٹ کورٹ مکمل ریکارڈ اور شواہد اپنے سامنے موجود ہونے کے باوجود مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ (Remand) کرنا چاہیے یا اپنے اپیلیٹ اختیارات استعمال کرتے ہوئے خود ہی تنازعہ کا حتمی فیصلہ کرنا چاہیے!
اس فیصلے میں Supreme Court of Pakistan نے اختیاراتِ ریمانڈ (Remand Powers) اور اپیلیٹ کورٹ کی ذمہ داری کے بارے میں اہم قانونی اصول واضح کیے ہیں:

اہم قانونی نکات

1۔ ریمانڈ (Remand) ایک استثنائی اختیار ہے، معمول نہیں

عدالت نے قرار دیا کہ مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیجنا صرف غیر معمولی حالات میں جائز ہےصرف اس وجہ سے کہ اپیلیٹ کورٹ مزید تحقیق چاہتی ہے، ریمانڈ نہیں کیا جا سکتا۔

---

2۔ اپیلیٹ کورٹ کا بنیادی فرض خود فیصلہ کرنا ہے

جب پورا ریکارڈ اور شواہد اپیلیٹ کورٹ کے سامنے موجود ہوں تو:

اسے خود شواہد کا جائزہ لینا چاہیے۔

حقائق اور قانون پر فیصلہ کرنا چاہیے۔

بلا ضرورت مقدمہ واپس ٹرائل کورٹ کو نہیں بھیجنا چاہیے۔

---

3۔ ریمانڈ کمزور کیس کو مضبوط بنانے کا ذریعہ نہیں

عدالت نے واضح کیا کہ:

ریمانڈ کسی فریق کو اپنی کوتاہیوں، خامیوں یا کمزور شواہد کو پورا کرنے کا دوسرا موقع دینے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتیں ایسے احکامات سے اجتناب کریں جو مقدمات کو غیر ضروری طور پر طول دیں۔

---

4۔ فریق کی اپنی غفلت ریمانڈ کا جواز نہیں

اگر کوئی فریق:

عدالت میں پیش ہو،

جواب دعویٰ داخل کرے،

لیکن بعد میں کارروائی میں حصہ لینا چھوڑ دے،

تو وہ بعد میں یہ مؤقف اختیار نہیں کر سکتا کہ اسے دوبارہ موقع دیا جائے یا مقدمہ دوبارہ چلایا جائے۔

---

5۔ اپیلیٹ ذمہ داری سے فرار قابلِ قبول نہیں

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

پورا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھیج دینا، جبکہ تمام ریکارڈ اپیلیٹ کورٹ کے پاس موجود ہو، اپیلیٹ ذمہ داری سے دستبرداری (abdication of appellate responsibility) کے مترادف ہو سکتا ہے۔

---

6۔ خاندانی مقدمات میں جلد فیصلہ ضروری ہے

عدالت نے زور دیا کہ:

فیملی مقدمات میں میاں بیوی اور بچوں کے حقوق شامل ہوتے ہیں۔

ایسے مقدمات کو غیر ضروری طور پر لٹکانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

عدالتوں کو فوری اور حتمی فیصلہ کرنا چاہیے۔

Ratio Decidendi (قانونی اصول)

"جب اپیلیٹ کورٹ کے سامنے مکمل ریکارڈ موجود ہو اور کوئی بنیادی قانونی یا طریقہ کار کی خرابی ثابت نہ ہو، تو مقدمہ ریمانڈ کرنے کے بجائے اپیلیٹ کورٹ خود تنازع کا حتمی فیصلہ کرنے کی پابند ہے۔"

24/05/2026

جواب دعویٰ داخل کرنے کی تاریخ Date of Hearing نہ ہے ۔اس لیے دعویٰ عدم حاضری خارج نہ ہو سکتا ہے ۔
(PLJ 2016 AJK 17).

حق جواب دعویٰ ختم ہونے کے باوجود، گواہان مدعی پر، جرح کی جا سکتی ہے ۔
(2007 CLC 288).

اگر مدعا علیہ کو سمن کے ہمراہ دعویٰ کی کاپی نہ دی گئی ہو، تو مدعا علیہ کا حق جواب دعویٰ، ختم نہ کیا جا سکتا ہے ۔
(2011 YLR 763).

درخواست زیر آرڈر 7 رول 11 ض د کو، جواب دعویٰ Consider کیا جا سکتا ہے ۔
(2007 CLC 401).

جواب دعویٰ داخل نہ کرنے کی صورت میں، عرضی دعویٰ درست تسلیم ہو گا۔
(2005 MLD 588).

24/05/2026

گلی یا سڑک وغیرہ میں تجاوزات کی صورت میں دعویٰ حکم امتناعی، دعویٰ ہر جانہ یا دعویٰ استقرار حق دائر کیا جا سکتا ہے ۔
(2011 CLC 1379)
کوئی بھی حق صرف قبضہ ہونے کی وجہ سے حاصل نہ ہو گا اس کی بابت ملکیت کا ثابت کرنا ضروری ہے ۔
(2010 CLC 642)
اگر سمنوں کی تعمیل کسی بھی شخص کے ذریعہ کروائی گئی ہو تو اچھی تعمیل تصور ہو گی۔
(2012 CLC 1762)
محکمہ سی-آئی-اے کو قانونی طور پر اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی مقدمہ کی تفشیش کرے بلکہ اس کا کام ڈسٹرکٹ پولیس کی مدد کرنا اور جرائم کی روک تھام کرنا ہے ۔
(2018 PCrLJ 590 Lah)
زبانی طلاق کا نوٹس چیرمین کو نہ دیا، طلاق نہ ہے ۔
(PLD 2006 SC 457).

24/05/2026

2025 PLD Pesh. 103
شاملات زمین کی تقسیم کے معاملہ میں سول کورٹ یا ریونیو کورٹ کا دائرۂ اختیار زمین کی نوعیت اور خصوصیات پر منحصر ہوتا ہے، نہ کہ اس پر کی گئی معمولی تعمیر پر۔
اگر زمین زرعی ہو یا زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہو اور اس پر صرف ایک چھوٹے حصے پر تعمیر موجود ہو، تو ایسی زمین بدستور لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کے تحت رہے گی اور اس کی تقسیم ریونیو کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آئے گی۔
البتہ اگر شاملات زمین غیر ممکن آبادی (Ghair Mumkin Abadi) پر مشتمل ہو، تو دفعہ 3 کے تحت وہ لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 سے خارج ہو جاتی ہے اور اس پر سول کورٹ کو اختیار حاصل ہوگا۔😔
شاملاتِ دہہ کے متعلق دفعہ 42 مخصوص ریلیف ایکٹ، 1877 کے تحت دعویٰ دائر کرنے کے لیے گاؤں کی پوری برادری (تمام شریکان) کو فریق بنانا لازم ہے، کیونکہ ان کے بغیر مؤثر ڈگری جاری نہیں کی جا سکتی۔

24/05/2026

2020 CLC 680
Lahore high court
کیا انٹرلوکٹری آرڈر کیخلاف اپیل ہوسکتی ہے ؟

24/05/2026

PLD 2025 SC 310
فیملی مقدمہ کی منتقلی, سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ جہاں ہوگا مقدمہ وہاں منتقل کر دیا جائے گا،
Transfer of Family cases or ex*****on petition, welfare of minor prime consideration, case transfer to karachi from Islamabad due to transfer and residence of mother of minor.

24/05/2026

ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ
کیس سے بریت کے بعد کریکٹر سرٹیفکیٹ سے FIR کا ذکر ختم کر دیا جائے گا اور بالکل صاف کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا ملزم کیس سے بری ہو جائے خواہ وہ صلح کی شکل میں ہو تو اس کیس کا تذکرہ پھر اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بھی نہیں کیا جائے گا
ملزم بری ہو جائے تو وہ اس طرح ہی ہو گا جیسے وہ کیس کبھی درج ہی نہ ہوا ہو
PLD 2025 pesh. 67

کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق نہایت اہم فیصلہ

درخواست گزاران نے بیرونِ ملک تعلیم یا روزگار کے لیے پولیس سے کریکٹر سرٹیفکیٹ کے اجرا کی درخواست دی۔ تاہم پولیس نے سرٹیفکیٹ پر یہ نوٹ درج کر دیا کہ ان افراد کے خلاف ماضی میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اس عمل کو چیلنج کیے جانے پر پشاور ہائیکورٹ نے فریقین کو سماعت کے بعد ایک نہایت اہم اور قانونی لحاظ سے فیصلہ کن رائے دی، عدالت عالیہ نے واضح کیا کہ اگر کسی فوجداری مقدمے میں ملزم بری ہوچکا ہو ، چاہے وہ بریت میرٹ پر ہوئی ہو یا صلح کی بنیاد پر، اسے قانونی طور پر "باعزت بریت" ہی تصور کیا جائے گا۔ قانون میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ بریت کو "کم باعزت" یا "مشروط" قرار دیا جائے ، تمام بریتیں ایک ہی درجے کی عزت کی حامل ہیں

24/05/2026

RANA SANAULLAH CASE

RECOVERY OF 15 KG HERION
BAIL ALLOWED...

PLJ 2020 Cr.C. (Lahore) 300

S. 497--Control of Narcotic Substances Act, (XXV of 1997), S. 9(c)--Post arrest bail--Grant of--Reocvery of 15-KG Heroin--Accused riding on double cabin vehicle, on checking handing over a suit case and admitted that it contains he**in--Heroin alongwith suit case weighed 21.500 kilograms--Complainant took the accused and he**in police station and where all proceedings were conducted in the presence of pw’s--Heroin powder on weighting came to 15-kilograms, out of which 20-grams powder were separated for sample--No recovery memo regarding alleged recovered narcotics was prepared rather the accused as well as case property were taken to police station wehre necessary documentation was don--As per contents of FIR, petitionerwas involved in smuggling of narcotics operating a net work but on the next day, no request was made by I.O. for his physical remand--Peittioner a vocal political leader of opposition party, this aspect of case could not be ignored as political victimization in our cou ntry is an open secret--Bail allowed

24/05/2026

Change of date of birth.
NLR 1980 AC 339 Birth Certificate/register overrides School Certificate.
1997 CLC 262 Lahore Fresh cause of action on rejection of application.
1998 SCMR 1494 Two years rule also apply to Judiciary.
2003 SCMR 145 Candidate was allowed to take part in election.
2007 CLC 1673 Peshawar Statement of father is enough in evidence.
2008 SCMR 255 Allowed the change of entry in service book.
2008 SCMR 1047 allowed when reasons comunicated to student were different from record.
2009 YLR 1296 Allowed when no adverse affect is on other's rights.
2011 CLC 265 Allowed while relying on birth certificate.
2011 PLC 149 Bank employee allowed
2011 SCMR 21 Relied on Matric Certificate.
2011 YLR 2061 Allowed over age admission granted.
2012 SCMR 242 Entry in NADRA record is not conclusive proof.
2012 YLR 161

24/05/2026

Bail declined in section 324 PPC

1. 2023 SCMR 975
2. 2022 SCMR 750
3. 2021 SCMR 1157
4. 2020 SCMR 594
5. 2020 SCMR 1486
6. 2023 MLD 390 sindh
7. 2014 MLD 1454
8. 2012 MLD 586 Sindh
9. 2021 YLR Note 68 sindh
10. 2021 YLR 1342 Islamabad
11. PLJ 2022 CrC 1267
12. 2012 PCrLJ Note 66 Sindh

Address

Bunerwal

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sulaiman Khan Law Associates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sulaiman Khan Law Associates:

Shortcuts

Share

Category