10/07/2026
تازہ غزل احباب کی نذر ملا حظہ کریں
تیرے بعد تُو جیسا نظر نہیں آیا
آیا ہے مگر مجھ پہ کوئی اثر نہیں آیا
تیری یاد شب و روز آتی ہے ابھی بھی،
اے شخص! تجھے بچھڑنے کا ہنر نہیں آیا
ایک نوالہ بھی نہیں جاتا حلق سے نیچے،
ماں کا لال جب تک گھر نہیں آیا
اے یعقوب! تیرا یقین ہم سے کہیں بہتر تھا، پھر
کیوں تجھے یوسف سے بچھڑ کر صبر نہیں آیا؟
ہم گاؤں میں پلے بڑھے ہیں، فرحان
ہمیں راس تیرا شہر نہیں آیا
— فرحان سبکدوش
゚viralシ