Ammar Malik

Ammar Malik Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ammar Malik, Legal Service, .

Planning to pursue an undergraduate LLB degree? ⚖️Register now for the HEC Law Admission Test (LAT), mandatory for admis...
14/05/2026

Planning to pursue an undergraduate LLB degree? ⚖️

Register now for the HEC Law Admission Test (LAT), mandatory for admission to undergraduate law programmes across Pakistan.

Last date to apply: May 25, 2026
Test date: June 21, 2026

Apply online at: etc.hec.gov.pk

For complaints and support, visit: onlinehelp.hec.gov.pk

12/05/2026

*تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت،* اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔
*لاہور ہائیکورٹ۔*

*​کیس کے مختصر حقائق*
​یہ درخواست لاہور ہائیکورٹ میں شاہد عمران (درخواست گزار) کی جانب سے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest Bail) کے لیے دائر کی گئی۔ درخواست گزار پر الزام ہے کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک سکول جانے والی لڑکی، مسماۃ علینہ کرن کو اغوا کیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس حوالے سے تھانہ مڈھ رانجھا، سرگودھا میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365-B اور 376 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

*​درخواست گزار کا موقف تھا کہ* اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے جو کہ شرعی طور پر جائز ہے، جبکہ مدعیہ (لڑکی کی ماں) کا کہنا تھا کہ لڑکی نابالغ ہے اور یہ نکاح "چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" کی خلاف ورزی اور زبردستی پر مبنی ہے۔

*​عدالتی فیصلے کے اہم نکات*

*​1.* عمر کا تعین اور قانونی حد:
*​عدالت نے واضح کیا کہ* پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ (ترمیمی) ایکٹ 2015 کے تحت لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 16 سال اور لڑکے کے لیے 18 سال ہے۔ اس سے کم عمر میں شادی قانوناً جرم ہے۔
​عدالت نے مختلف قوانین (جیسے نادرا آرڈیننس، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں "بالغ" ہونے کی عمومی عمر 18 سال تسلیم کی جا رہی ہے۔

*​2.* نکاح اور رضامندی:
​عدالت نے فیڈرل شرعی کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں شادی کے لیے صرف جسمانی بلوغت کافی نہیں، بلکہ ذہنی پختگی اور شعور بھی ضروری ہے تاکہ انسان اپنے فیصلے کے نتائج کو سمجھ سکے۔
*​فیصلے میں کہا گیا کہ* شادی محض ایک جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سول معاہدہ ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں پر بھی پڑتے ہیں۔

*​3.* بین الاقوامی معاہدات اور آئینی حقوق:
​پاکستان نے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن (UNCRC) پر دستخط کر رکھے ہیں، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر ہر فرد بچہ ہے۔
*​عدالت نے قرار دیا کہ* کم عمری کی شادی بچوں کے بنیادی حقوق (تعلیم اور باوقار زندگی) کی خلاف ورزی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25-A کے تحت ریاست بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کی پابند ہے، اور شادی اس حق کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

*​4.* ریپ (Zina-bil-Jabr) کی تعریف:
​تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 375 کے تحت، اگر لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہے، تو اس کی رضامندی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق "ریپ" کے زمرے میں آتا ہے، چاہے نکاح کا دعویٰ ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔

*​5.* خیار البلوغ (Option of Puberty):
​عدالت نے مسلم پرسنل لاء کے تحت "خیار البلوغ" کی وضاحت کی کہ اگر سرپرست نے بچپن میں نکاح کر دیا ہو، تو لڑکی کو 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے اسے ختم (Repudiate) کرنے کا حق حاصل ہے۔

​عدالت نے قرار دیا کہ محض "بلوغت" کا دعویٰ کر کے کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو استحصال سے بچائے اور ان کی تعلیم و نشوونما کو یقینی بنائے۔ اس کیس میں چونکہ لڑکی کی عمر اور اغوا و زیادتی کے سنجیدہ الزامات موجود تھے، اس لیے عدالت نے قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیس کی سماعت کی۔

*6.* قانون کی برتری (Statutory Law vs Personal Law)
​عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلی کیشن ایکٹ 1962 شادی بیاہ کے معاملات کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی دفعہ 2 واضح کرتی ہے کہ یہ ملک میں نافذ العمل دیگر قوانین کے تابع ہے۔

*​چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929:* عدالت کے مطابق لڑکی کے لیے شادی کی کم از کم عمر 16 سال ہے اور یہ قانون کسی بھی غیر منضبط مذہبی رائے پر برتری رکھتا ہے۔

*​7.* عمر کا تعین اور جے جے ایس اے (JJSA)
​عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اغوا یا کم عمری کی شادی کے کیسز میں متاثرہ لڑکی کی عمر کے تعین کے لیے کوئی واضح ضابطہ موجود نہیں تھا۔ اس لیے عدالت نے جوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 کے طریقہ کار کو اپنانے کی ہدایت کی:

​عمر کا تعین برتھ سرٹیفکیٹ یا تعلیمی اسناد سے کیا جائے۔
​اسناد نہ ہونے کی صورت میں میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائے۔ اس کیس میں لڑکی کی عمر 13/14 سال پائی گئی جو قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

*​8.* دفعہ 79 تعزیراتِ پاکستان (PPC) کی تشریح
​درخواست گزار نے دفعہ 79 پی پی سی (جو نیک نیتی میں کی گئی قانونی غلطی کو تحفظ دیتی ہے) کا سہارا لینے کی کوشش کی۔ عدالت نے اسے مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ممتاز قادری کیس کا حوالہ دیا:

*​نیک نیتی (Good Faith):* اگر کوئی شخص قانون توڑ کر کمسن بچی سے شادی رچاتا ہے تو وہ "نیک نیتی" یا "حقیقت کی غلطی" (Mistake of Fact) کا دفاع نہیں لے سکتا۔ قانون کی خلاف ورزی پر مبنی عمل کو تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔

*9.* اہم قانونی اصول (Legal Maxims)
​عدالت نے فیصلے میں چند عالمی تسلیم شدہ اصولوں کا حوالہ دیا:
​کوئی شخص اپنے ہی غلط عمل سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا: اگر کسی نے غیر قانونی شادی کی ہے، تو وہ اسے اپنی ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا۔

*​غلط کام سے حق پیدا نہیں ہوتا:* غیر قانونی فعل (کم عمری کی شادی) کسی قانونی حق کو جنم نہیں دے سکتا۔

*10.* پولیس اور پراسیکیوٹرز کی ذمہ داری
​عدالت نے حکومتی اہلکاروں کی غفلت پر سخت ریمارکس دیے:
*​پراسیکیوٹرز:* پنجاب کرمنل پراسیکیوٹر سروس ایکٹ 2006 کے تحت پراسیکیوٹر کا فرض ہے کہ وہ چالان (دفعہ 173) کا باریک بینی سے جائزہ لے تاکہ کوئی مجرم بچ نہ سکے۔
*​پولیس:* پولیس آرڈر 2002 کے تحت پولیس خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کی قانونی طور پر پابند ہے۔

*​عدالت نے واضح کیا کہ* فوجداری عدالت فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی، لیکن وہ کم عمری کی شادی جیسے جرم کو نظر انداز بھی نہیں کر سکتی۔ آرٹیکل 35 (خاندان کا تحفظ) کے تحت اس شخص کو تحفظ نہیں مل سکتا جس نے خود قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔

*مرکزی فیصلہ اور نتائج*

*ضمانت کی مستردگی:* عدالت نے قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-arrest bail) کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور 19 مئی 2023 کو دی گئی عبوری ریلیف (Ad-interim relief) کو واپس لے لیا ہے۔

*فیصلے کی بنیاد:* عدالت کے مطابق ریکارڈ پر ایسے "معقول دلائل" موجود ہیں جو درخواست گزار کو اغوا اور زیادتی جیسے ناقابلِ ضمانت جرائم سے جوڑتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار پولیس یا شکایت کنندہ کی جانب سے کسی بھی قسم کی بدنیتی (Mala-fide) ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، جو کہ قبل از گرفتاری ضمانت کی توثیق کے لیے لازمی شرط ہے۔

*دیوانی اور فوجداری کارروائی:* عدالت نے قرار دیا کہ دیوانی (Civil) اور فوجداری (Criminal) کارروائیاں ایک ساتھ چل سکتی ہیں، جیسا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے Sikandar Ali Mohi Ud Din (*2021 SCMR 1486*) میں طے کیا گیا ہے۔

نظامی اصلاحات کے لیے ہدایات
جسٹس صاحب نے کم عمری کی شادیوں کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں:

*ایس او پیز (S.O.P.s) کی تیاری:* پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئی جی پنجاب پولیس اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر ایس او پیز تیار کریں تاکہ کم عمری کی شادیوں کے ناسور کو ختم کیا جا سکے۔
*عدالتی نظائر کا نفاذ:* ان ضابطوں کی تیاری میں درج ذیل اہم فیصلوں کی روشنی میں قانون نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے:

Mst. Tahira Bibi *Vs.* SHO (*PLD 2020 Lahore 811*)
Zeeshan Ali Zafar *Vs.* S.H.O (*2021 MLD 880*)
*آفیشل مانیٹرنگ:* اس حکم نامے کی نقول آئی جی پنجاب، پراسیکیوٹر جنرل اور ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ کو ارسال کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ صوبے کے کریمنل جسٹس سسٹم میں بہتر ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔
فیصلے میں دیے گئے اہم *حوالہ جات*
*2020 SCMR 168*: قبل از گرفتاری ضمانت کے اصولی قواعد۔
*2019 SCMR 1129*: بے گناہ افراد کو ریلیف دینے کے ضوابط۔
*PLD 2021 Lahore 783*: فیملی کورٹس ایکٹ اور فوجداری کارروائی کا تعلق۔
*نوٹ:* عدالت نے اس کیس میں *جناب راشد محمود* صاحب (*سول جج* فرسٹ کلاس/*ریسرچ آفیسر*) کی محنت اور قانونی معاونت کی خصوصی تعریف کی ہے۔

Honored to receive this Certificate of Appreciation from the  for participating in the webinar on “Criminal Law & Justic...
08/05/2026

Honored to receive this Certificate of Appreciation from the for participating in the webinar on “Criminal Law & Justice System in Pakistan.”
Grateful for the opportunity to enhance my legal knowledge and learn from experienced professionals in the legal field.

I’m pleased to share that I have successfully completed a virtual training program in Legal Research, Writing, and Caree...
03/04/2026

I’m pleased to share that I have successfully completed a virtual training program in Legal Research, Writing, and Career Skills as a Virtual Legal Research Assistant.

This experience has strengthened my understanding of legal research methodologies, improved my writing skills, and enhanced my ability to analyze legal issues effectively. It has also given me valuable insights into practical aspects of the legal profession.

I am grateful for this learning opportunity and look forward to applying these skills in my academic and professional journey.

⬛ *LAW ADMISSION TEST (LAT) – 2026*Apply for the Law Admission Test (LAT) conducted by the Higher Education Commission (...
13/03/2026

⬛ *LAW ADMISSION TEST (LAT) – 2026*
Apply for the Law Admission Test (LAT) conducted by the Higher Education Commission (HEC), Pakistan.
▪️*Eligibility*
Students who have passed HSSC (12 years of education)
Students awaiting HSSC result
▪️*Test Details*
Total Marks: 100
Passing Marks: 50
▪️*Important Dates*
▪️*Last Date to Apply:*
22 March 2026
▪️*Test Date*
12 April 2026
▪️*Apply Online* https://etc.hec.gov.pk
▪️*Required for admission to LLB programs in Pakistani universities.*
⬛ Contact us 03001366780 for LAT test Preparation

22/01/2026
“One half completed, the vision remains stronger than ever.”
20/01/2026

“One half completed, the vision remains stronger than ever.”

22/12/2025

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے خلاف عابدہ پروین اور دیگر کی دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے تمام درخواستوں پر اعتراضات دور کرتے ہوئے فل بینچ بنانے کی سفارش کردی ہے اور پراپرٹی آنر شپ آرڈیننس کے تحت دیے گئے قبضوں کو واپس کر دیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو بتائیے کہ یہ قانون رہ گیا تو جاتی امرا بھی آدھے گھنٹے میں نکل جائے گا۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ایڈووکیٹ جنرل کیوں نہیں آئے؟ جس پر سرکاری وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیمار ہیں، اس لیے نہیں آئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی بیمار ہوں، مجھے بیڈ ریسٹ کہا گیا ہے مگر یہاں بیٹھی ہوں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ لگتا ہے آپ نے یہ قانون نہیں پڑھا؟ لگتا ہے کچھ لوگوں کی خواہش ہے انہیں تمام اختیارات دے دیے جائیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے یہ قانون بنا کیوں ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟ معاملہ سول کورٹ میں زیرسماعت ہو تو ریونیو آفیسر کیسے قبضہ دلا سکتا ہے؟

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے مزید کہا کہ آپ نے سول سیٹ اپ، سول رائٹس کو ختم کردیا، آپ نے عدالتی سپرمیسی کو ختم کردیا، آپ کا بس چلتا تو آئین کو بھی معطل کر دیتے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے چیف سیکریٹری سے کہا کہ ڈی سی آپ کے گھر کا قبضہ کسی اور کو دے دیں تو آپ کے پاس اپیل کا کوئی حق نہیں ہوگا، آپ کا قانون یہ کہتا ہے کہ ہائی کورٹ اس معاملے پر حکم امتناعی بھی نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ موبائل فون پر آپ کہتے ہیں آجاؤ ورنہ تمہارا قبضہ چلا گیا، آپ یہاں کھڑے ہیں اور آپ کا گھر جارہا ہوگا؟ قانون کے مطابق جس نے شکایت کردی وہی درخواست گزار ہوگا، کیا یہاں جعلی رجسٹریاں اور جعلی دستاویزات نہیں بنتیں؟

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ | لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ ⚖️لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے‏Punjab Protection of Ownership of Imm...
20/12/2025

⚖️ اہم عدالتی فیصلہ | لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ ⚖️

لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے
‏Punjab Protection of Ownership of Immovable Property Ordinance, 2025
کی نہایت واضح، جامع اور دوٹوک تشریح کرتے ہوئے ایک اہم اور رہنما فیصلہ صادر کر دیا ہے۔

عدالتِ عالیہ نے واضح طور پر قرار دیا کہ:

‏🔹 Dispute Resolution Committee (DRC) محض ایک ابتدائی، تفتیشی اور مفاہمتی فورم ہے،
اور اسے کسی بھی مرحلے پر
❌ بے دخلی
❌ زبردستی قبضہ چھڑوانے
❌ قبضہ بحال کرنے
کا کوئی اختیار حاصل نہیں — نہ عبوری طور پر اور نہ ہی حتمی طور پر۔

🔹 عدالت نے واضح کیا کہ Section 9 کے تحت DRC کے اختیارات صرف:
✔️ احتیاطی (Preventive)
✔️ عارضی (Temporary)
✔️ ریگولیٹری نوعیت
کے ہیں، مثلاً مناسب ضمانت لینا یا جائیداد کو سیل کرنا،
اور یہ اقدامات بھی صرف تحریری، وجوہات پر مبنی (Speaking Order) اور
نوٹس و مکمل سماعت کے بعد ہی کیے جا سکتے ہیں۔

🔹 عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ DRC کو:
❌ زبانی یا غیر رسمی ہدایات دینے
❌ کسی قسم کے جابرانہ اقدامات اپنانے
❌ پولیس یا انتظامیہ کے ذریعے قبضہ دلوانے
کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔

🔹 مزید یہ کہ اگر کسی مجاز عدالت کی جانب سے
‏Status-quo یا کوئی اور عدالتی حکم موجود ہو تو
‏DRC اس کی سختی سے پابند ہوگی، اور اس کے برعکس کوئی بھی اقدام
عدالتی اختیار میں مداخلت تصور ہوگا۔

🔹 عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ:
✔️ قبضہ بحال کرنا
✔️ بے دخلی
✔️ زبردستی عمل درآمد
کے تمام اختیارات صرف اور صرف Tribunal کو حاصل ہیں،
جیسا کہ Sections 16 اور 17 میں صراحت کے ساتھ درج ہے۔

🔹 آخر میں عدالت نے واضح ہدایت جاری کی کہ:
‏Tribunal کے باقاعدہ اور قانونی حکم کے بغیر
کسی بھی شہری کے خلاف
‏❌ Eviction
‏❌ Forcible dispossession
جیسے اقدامات ہرگز نہیں کیے جا سکتے۔

یہ فیصلہ:
✅ شہریوں کے آئینی حقوق کے مؤثر تحفظ
‏✅ Due Process of Law کے عملی نفاذ
✅ انتظامیہ کی قانونی حدود کی واضح نشاندہی
اور
✅ جائیداد کے تنازعات میں قانون کی بالادستی
کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔

📌 یہ فیصلہ جائیداد کے مقدمات میں وکلاء، انتظامیہ اور عام شہریوں کے لیے ایک مستند اور قابلِ اعتماد رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔

‏📖 (Approved for Reporting)
👨‍⚖️ جسٹس احمد ندیم ارشد
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ

صدر مملکت آصف علی زرداری نے جج طارق محمود جہانگیری کو باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کردیا
19/12/2025

صدر مملکت آصف علی زرداری نے جج طارق محمود جہانگیری کو باضابطہ طور پر ڈی نوٹیفائی کردیا

Address


63100

Telephone

+923286466780

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ammar Malik posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ammar Malik:

  • Want your practice to be the top-listed Law Practice?

Share