05/01/2026
ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس (سیکشن 113، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001) کے اطلاق سے متعلق ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ڈسٹری بیوٹر کی گراس رسیٹس سے مراد صرف اس کا اصل مارجن / کمیشن ہے، نہ کہ کمپنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اشیاء کی مکمل سیلز ویلیو۔
یہ فیصلہ Commissioner of Income Tax بنام M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd
(ITR No. 377/2015) کے مقدمہ میں سنایا گیا۔
عدالت کے روبرو ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا مؤقف تھا کہ ڈسٹری بیوٹر کی کل گراس سیلز پر منیمم ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے، جبکہ ٹیکس پیئر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اشیاء کا مالک نہیں بلکہ کمپنی کی جانب سے متعین مارجن پر ڈسٹری بیوشن سروس فراہم کرتا ہے، اس لیے ٹیکس صرف اسی اصل کمائی پر لاگو ہونا چاہیے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ٹیکس پیئر کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
ڈسٹری بیوٹر اشیاء اپنی ملکیت میں خرید و فروخت نہیں کرتا
اس کی آمدن صرف فکسڈ مارجن / کمیشن تک محدود ہوتی ہے
پوری سیلز ویلیو کو ٹرن اوور قرار دینا قانون اور معاشی حقیقت کے منافی ہے
مزید برآں، محکمہ ٹیکس ماضی میں بھی اسی طریقہ کار کو تسلیم کرتا رہا ہے، لہٰذا Consistency کا اصول لاگو ہوگا
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس فرضی یا کاغذی ٹرن اوور کے بجائے اصل کمائی پر ہی عائد کیا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ ٹیکس کے مطابق یہ فیصلہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے اور ٹیکس نظام میں انصاف، شفافیت اور کاروباری حقیقت کے تقاضوں کو تقویت دیتا ہے۔
(Source):
Commissioner of Income Tax v. M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd
ITR No. 377/2015 — Lahore High Court
Section 113, Income Tax Ordinance, 2001