ملک مدثر ایڈووکیٹ - مشیر انکم ٹیکس , سیلز ٹیکس

  • Home
  • Pakistan
  • Attock
  • ملک مدثر ایڈووکیٹ - مشیر انکم ٹیکس , سیلز ٹیکس

ملک مدثر ایڈووکیٹ - مشیر انکم ٹیکس , سیلز ٹیکس اس پیج پرانکم ٹیکس قوانین ، ٹیکس اور کاروبار سے متعلقہ خبریں وغیرہ شیئر کی جاتی ہیں۔

05/01/2026

ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس سے متعلق اہم عدالتی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس (سیکشن 113، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001) کے اطلاق سے متعلق ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ ڈسٹری بیوٹر کی گراس رسیٹس سے مراد صرف اس کا اصل مارجن / کمیشن ہے، نہ کہ کمپنی کی جانب سے فراہم کی جانے والی اشیاء کی مکمل سیلز ویلیو۔
یہ فیصلہ Commissioner of Income Tax بنام M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd
(ITR No. 377/2015) کے مقدمہ میں سنایا گیا۔
عدالت کے روبرو ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کا مؤقف تھا کہ ڈسٹری بیوٹر کی کل گراس سیلز پر منیمم ٹیکس عائد کیا جانا چاہیے، جبکہ ٹیکس پیئر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اشیاء کا مالک نہیں بلکہ کمپنی کی جانب سے متعین مارجن پر ڈسٹری بیوشن سروس فراہم کرتا ہے، اس لیے ٹیکس صرف اسی اصل کمائی پر لاگو ہونا چاہیے۔
لاہور ہائی کورٹ نے ٹیکس پیئر کے مؤقف کو تسلیم کرتے ہوئے قرار دیا کہ:
ڈسٹری بیوٹر اشیاء اپنی ملکیت میں خرید و فروخت نہیں کرتا
اس کی آمدن صرف فکسڈ مارجن / کمیشن تک محدود ہوتی ہے
پوری سیلز ویلیو کو ٹرن اوور قرار دینا قانون اور معاشی حقیقت کے منافی ہے
مزید برآں، محکمہ ٹیکس ماضی میں بھی اسی طریقہ کار کو تسلیم کرتا رہا ہے، لہٰذا Consistency کا اصول لاگو ہوگا
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈسٹری بیوٹرز پر منیمم ٹیکس فرضی یا کاغذی ٹرن اوور کے بجائے اصل کمائی پر ہی عائد کیا جا سکتا ہے۔
ماہرینِ ٹیکس کے مطابق یہ فیصلہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر کے لیے ایک مضبوط قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے اور ٹیکس نظام میں انصاف، شفافیت اور کاروباری حقیقت کے تقاضوں کو تقویت دیتا ہے۔
(Source):
Commissioner of Income Tax v. M/s Allied Marketing (Pvt.) Ltd
ITR No. 377/2015 — Lahore High Court
Section 113, Income Tax Ordinance, 2001

18/11/2025

*ٹرپل ون کے نوٹس: قانون کی آڑ میں ایف بی ار کا نیا ہتھیار؟*

تحریر:- صابر جلیل فاروقی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ، وائس پریزیڈنٹ میر پور خاص ٹیکس بار ایسوسییشن۔

پاکستان میں ٹیکس نظام کی تازہ ترین ’’مہم‘‘ نے ایک بار پھر عام ٹیکس دہندگان کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پہلے سیلز ٹیکس اور جی ایس ٹی کے نام پر سناروں اور چھوٹے کاروباری حضرات کو رجسٹریشن اور سروے کے نوٹسز کے ذریعے حراساں کیا گیا، اب بینک منافع اور نیشنل سیونگز کے منافع پر مبنی سیکشن 111 کے نوٹسز ایک نئی لہر کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

حالیہ عرصے میں رجسٹرڈ پرسنز کو جو نوٹسز جاری ہوئے، وہ دراصل اسی رجحان کی جھلک ہیں: چند لائنوں پر مشتمل ’’اسٹینڈرڈ‘‘ نوٹس، جن میں بینکوں کے ذریعے کٹوتی شدہ ٹیکس سے منافع ’’ورک بیک‘‘ کر کے یہ نتیجہ نکال لیا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی آمدنی چھپائی ہے، لہٰذا وضاحت دیں کہ یہ رقم ’’انکم فرام بزنس‘‘ میں کیوں شامل نہیں کی گئی۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نوٹس واقعی قانون کے تقاضوں کے مطابق ہیں، یا صرف ایک نیا ’’پریشر ٹول‘‘ بن چکے ہیں؟

*سیکشن 111 کا اصل مقصد کیا ہے؟*

سیکشن 111، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کا وہ باب ہے جو "غیر وضاحتی آمدنی اور اثاثوں" سے متعلق ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ایسا اثاثہ، اخراج یا کریڈٹ سامنے آئے جس کی معقول وضاحت نہ دی جا سکے، تو کمشنر اسے قابلِ ٹیکس آمدنی قرار دے سکتا ہے۔

یعنی یہ شق دراصل بڑے پیمانے کی ٹیکس چوری، بنیامی اثاثوں اور منی لانڈرنگ کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ ہر اس شہری کے خلاف جس کے اکاؤنٹ پر بینک نے منافع دے کر خود ہی ایف بی آر کو معلومات فراہم کر دی ہوں۔

عدالتوں نے ایف بی آر کو کیا بتایا؟

یہ بات درست ہے کہ حالیہ برسوں میں ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں ایف بی آر کو یہ پابند کیا ہے کہ اگر وہ کسی اسیسمنٹ کو ’’غیر وضاحتی آمدنی‘‘ کی بنیاد پر بدلنا چاہتا ہے تو پہلے سیکشن 111 کے تحت الگ نوٹس دے، اس پر باقاعدہ کاروائی مکمل کرے، کمشنر رائے قائم کرے، اور اس کے بعد ہی سیکشن 122 کے تحت اسیسمنٹ میں ترمیم کرے۔

مثلاً:

* لاہور ہائی کورٹ اور بعد میں سپریم کورٹ نے ملت ٹریکٹرز اور دیگر مقدمات میں یہ اصول طے کیا کہ سیکشن 122 کے ذریعے اسیسمنٹ تبدیل کرنے سے پہلے سیکشن 111 کے تحت الگ کاروائی اور "definite information" ضروری ہے۔
* سندھ ہائی کورٹ کے تازہ فیصلوں میں بھی یہی کہا گیا کہ 111 کا نوٹس الگ ہوگا، اس پر کمشنر کی باقاعدہ رائے کے بعد ہی 122 کے نوٹس کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، ورنہ دونوں کاروائیاں کالعدم ہو جائیں گی۔
*
* اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ 111 اور 122 کو ایک ہی مشترکہ نوٹس میں ملا کر جاری نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن ان فیصلوں کا مقصد ٹیکس دہندگان کی قانونی حفاظت تھا، نہ کہ یہ کہ ایف بی آر ہر معمولی فرق پر ہزاروں سیکشن 111 کے نوٹس مشین سے نکال کر بھیج دے۔ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ "ہر کیس میں پہلے 111 کا نوٹس ضرور نکالو"، بلکہ یہ کہا کہ "اگر تم 111 کی بنیاد پر اسیسمنٹ چھیڑو گے تو پہلے 111 کی مکمل کاروائی کرو، پھر آگے بڑھو"۔

*موجودہ نوٹسز کا قانونی مسئلہ کیا ہے؟*

رجسٹرڈ پرسنز کو حالیہ مہینوں میں جو نوٹس جاری ہو رہے ہیں، ان میں چند بنیادی قانونی کمزوریاں مشترک دکھائی دیتی ہیں:

1. *آمدنی کے ہیڈ کا غلط اطلاق*
بینک کا منافع، قانون کے مطابق "انکم فرام اَدر سورسز" ہوتا ہے، اسے بغیر کسی جواز کے "انکم فرام بزنس" یا "غیر وضاحتی آمدنی" بنا کر پیش کرنا خود قانون کی اسکیم کے خلاف ہے۔ اس سے پورے نوٹس کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔

2. *ثبوت کے بغیر محض ورک شیٹ*
نوٹس میں اکثر صرف یہ لکھا ہوتا ہے کہ بینکوں سے اتنا ٹیکس کٹا، اس کو الٹا کر کے منافع اتنا بنتا ہے، جبکہ

* نہ بینک اسٹیٹمنٹس ساتھ لگائی جاتی ہیں،
* نہ برانچ وار بریک اپ،
* نہ یہ واضح کیا جاتا ہے کہ فائلر/نان فائلر ریٹ کیا تھا۔

یہ سب کچھ دیے بغیر ٹیکس دہندہ سے "ثابت کرو کہ تم نے آمدنی نہیں چھپائی" کہنا، الٹا بوجھِ ثبوت محض کاغذی کھیل بن جاتا ہے۔

3. *"کنسیلمنٹ" کہیں ثابت نہیں ہوتا*
سیکشن 111 تب چلتا ہے جب آمدنی یا اثاثہ واقعی پوشیدہ ہو۔ یہاں تو معاملہ ایسا ہے کہ

* منافع پر ٹیکس بینک نے خود کاٹا،
* وہی ڈیٹا ایف بی آر کے پاس الیکٹرانک طور پر پہنچا،
* ٹیکس دہندہ نے بھی منافع ڈکلیئر کیا، فرق صرف اعداد و شمار کی ورکنگ یا شرحِ ٹیکس میں ہے۔

ایسے فرق کو "غیر وضاحتی آمدنی" کہنا عدالتوں کے طے کردہ معیار سے بہت نیچے ہے۔

4. *میکانیکی نوٹس، کمشنر کی اپنی تسلی کہاں؟*
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس دونوں نے بارہا زور دیا ہے کہ کمشنر کو "definite information" کی بنیاد پر اپنی اطمینان والی رائے بنانی ہوگی، فائل پر وجوہات ریکارڈ کرنا ہوں گی۔
جب ایک ہی زبان اور ایک ہی پیراگراف کے نوٹس ہزاروں لوگوں کو جاری ہوں، تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ

* نہ کوئی الگ انکوائری ہوئی،
* نہ کوئی انفرادی تسلی،
* صرف سسٹم سے ڈیٹا نکال کر فارم لیٹر کا اجرا ہوا ہے۔

5. *نوٹس بطور "ڈراؤ دھمکاؤ" ٹول*
جیسے پہلے جیولرز برادری کے ساتھ سیلز ٹیکس رجسٹریشن کے نام پر کیا گیا، جہاں بعد میں خود فیڈرل ٹیکس اُمبڈزمین اور عدالتی فورمز نے ایف بی آر کی زیادتیوں پر انگلی اٹھائی، اب یہی رویہ بینک منافع رکھنے والے عام شہریوں کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے:

* چھوٹے دیہاتی، پنشنرز، سرکاری ملازمین،
* جن کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے بچت اسکیم میں کچھ رقم رکھی۔

ان کے لئے سیکشن 111 کا نوٹس دراصل "قانونی مکتوب" کم اور "نفسیاتی دباؤ" زیادہ بن جاتا ہے۔

کیا یہ سب کچھ عدالتوں کی ہدایت پر ہو رہا ہے؟

یہاں حقیقت کو صاف کرنا ضروری ہے۔

ہاں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے یہ اصول ضرور دیا ہے کہ اگر ایف بی آر ’’غیر وضاحتی آمدنی‘‘ کے نام پر اسیسمنٹ میں ترمیم کرنا چاہتا ہے تو:

1. پہلے سیکشن 111 کے تحت الگ نوٹس دے،
2. ٹیکس دہندہ کو تمام معلومات اور شواہد کے ساتھ سامنے لائے،
3. اس کی وضاحت سن کر کمشنر باقاعدہ "رائے" بنائے،
4. پھر یہ "definite information" بن کر سیکشن 122 کے نوٹس کی بنیاد بن سکتی ہے۔

لیکن کسی فیصلے میں یہ نہیں لکھا کہ ایف بی آر ہر معمولی ڈیٹا مِس میچ اور ہر بینک پروفٹ کیس میں لازماً پہلے ٹرپل ون کا نوٹس نکالے، اور وہ بھی اس سطح پر کہ بڑے جرائم کے ساتھ عام شہریوں کو ایک ہی کٹارے میں کھڑا کر دے۔

عدالتوں کا مقصد ’’پروسیجرل سیف گارڈ‘‘ فراہم کرنا تھا، نہ کہ ’’ٹرپل ون کا سیلاب‘‘ پیدا کرنا۔

*آگے کا راستہ: قانون، توازن اور اعتماد*

اس پس منظر میں، ایک ٹیکس وکیل اور کاروباری تجزیہ کار کے طور پر میری رائے یہ ہے کہ:

1. ایف بی آر کو داخلی ایس او پیز کے ذریعے سیکشن 111 کے استعمال کو محدود اور ہدفی بنانا چاہیے،

* بینک منافع کے چھوٹے فرق پر پہلے سادہ ری کنسیلی ایشن لیٹر یا ای میل کافی ہے،
* ٹرپل ون کا نوٹس صرف وہاں آئے جہاں واقعی کوئی مشکوک لین دین، بے نامی اثاثہ یا غیر معمولی فنانشل پیٹرن ہو۔

2. پارلیمنٹ اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو اس رویے کا نوٹس لینا چاہیے کہ کہیں عدالتوں کے دیے گئے حفاظتی اصول ہی عام شہری کے خلاف ہتھیار تو نہیں بن رہے۔

3. فیڈرل ٹیکس اُمبڈزمین کے ادارے کو بھی چاہیے کہ ایسی شکایات پر فوری سماعت کرے، جہاں 111 کے نوٹس بغیر ثبوت اور بغیر معقول بنیاد کے جاری ہو رہے ہوں۔

4. ٹیکس بارز، جیولرز ایسوسی ایشنز اور تاجر تنظیموں کو مل کر ایک اجتماعی مکالمہ شروع کرنا ہوگا کہ

* ریاست کو ریونیو بھی چاہیے،
* مگر شہری کو آئینی وقار اور قانونی تحفظ بھی درکار ہے۔

5. عام ٹیکس دہندگان کو بھی چاہیے کہ

* گھبراہٹ میں خاموش نہ رہیں،
* ہر نوٹس کا بروقت اور مدلل جواب دیں،
* اور جہاں قانون کی خلاف ورزی واضح ہو، وہاں عدالتی چارہ جوئی سے نہ گھبرائیں۔

مختصراً، سیکشن 111 ایک ضروری مگر نہایت حساس ہتھیار ہے۔ جب تک اسے آئینی حدود، عدالتی نظائر اور بنیادی انسانی احترام کے ساتھ استعمال نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے بجائے ریاست اور شہری کے درمیان عدم اعتماد کی دیوار کو اور اونچا کرتا رہے گا۔

*آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کو ڈنڈا نہیں، توازن سمجھا جائے؛ اور ٹیکس دہندگان کو دشمن نہیں، شراکت دار مانا جائے۔*

09/11/2025
BEFORE A WEEK OF DEADLINE....FBR HAS CHANGE THE FORMAT OF WEALTH STATEMENT....NOW THE ESTIMATED CURRENT MARKET VALUE MUS...
24/09/2025

BEFORE A WEEK OF DEADLINE....FBR HAS CHANGE THE FORMAT OF WEALTH STATEMENT....NOW THE ESTIMATED CURRENT MARKET VALUE MUST BE ENTERED FOR MOVEABLE/IMMOVEABLE ASSETS..

قومی بچت سکیموں کے لیے نئی شرح منافع نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا
17/09/2025

قومی بچت سکیموں کے لیے نئی شرح منافع نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا

SOP for change of jurisdiction
17/09/2025

SOP for change of jurisdiction

Important clarification:Punjab Board of revenue has clarified that old rates of   income tax shall be applicable for tax...
12/09/2025

Important clarification:

Punjab Board of revenue has clarified that old rates of income tax shall be applicable for tax year 2025, new rates according to AIT Rules shall be applicable from Tax Year 2026.

10/09/2025

پاکستان میں تحائف کی ٹیکسیشن

تحفہ (Gift) جائیداد کی منتقلی کو کہتے ہیں — خواہ وہ سرمایہ کی نوعیت کا ہو یا آمدنی کی نوعیت کا — جو بغیر کسی معاوضے کے دیا جائے۔ یہی معاوضے کی عدم موجودگی اسے عام آمدنی کے ذرائع (جو عام طور پر محنت یا سرمایہ کاری سے حاصل ہوتے ہیں) سے الگ کرتی ہے۔ چونکہ تحفہ نہ کمایا جاتا ہے اور نہ ہی اس میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، اس لیے یہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ہر تحفہ ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہوتا۔ درحقیقت، فنانس ایکٹ 2019 نے پاکستانی ٹیکس قانون میں اصلی (Genuine) اور جعلی (Fake) تحائف کے درمیان فرق متعارف کروایا تاکہ تحائف کے پردے میں ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔



ٹیکس سے مستثنیٰ (اصلی) تحائف کے لیے شرائط

انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کے لیے تحفے کو درج ذیل چار اہم شرائط پوری کرنا ضروری ہیں:

1. دینے والا (Donor) رشتہ دار ہونا چاہیے:
سیکشن 85(5) آف ITO 2001 کے مطابق رشتہ دار میں شامل ہیں:
• کسی بھی دادا، دادی، نانا یا نانی کی اولاد یا ان کے آباؤ اجداد
• والدین
• بہن بھائی، چچا، خالہ، ماموں، پھوپھی، کزن
• میاں بیوی اور میاں بیوی کے گود لیے ہوئے بچے

اگر دینے والا یا لینے والا اس تعریف سے باہر ہو تو تحفہ ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔

28/08/2025

📢 اہم اطلاع برائے NTN رجسٹریشن

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے AOPs (ایسوسی ایشن آف پرسنز) اور رجسٹرڈ پارٹنرشپ فرمز کے لیے NTN حاصل کرنے کا طریقہ کار تبدیل کر دیا گیا ہے۔

🔹 AOPs کے لیے آن لائن NTN جنریشن کا آپشن ختم کر دیا گیا ہے۔
🔹 رجسٹرار آف فرمز کے ساتھ رجسٹریشن کے بعد NTN کے خودکار اجراء کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔
🔹 اب نیا طریقہ کار یہ ہے کہ AOPs اور رجسٹرڈ فرمز کو NTN حاصل کرنے کے لیے متعلقہ FBR ریجنل ٹیکس آفس (RTO) میں دستی طور پر درخواست جمع کرانا ہوگی۔

ٹیکس کی ادائیگی میں چھوٹرہائشی جائیداد کی DC ویلیو 50 لاکھ روپے سے کم ہونے کی صورت میں ٹیکس لاگو نہ ہوگا ۔بیوه / مطلقہ /...
22/08/2025

ٹیکس کی ادائیگی میں چھوٹ

رہائشی جائیداد کی DC ویلیو 50 لاکھ روپے سے کم ہونے کی صورت میں ٹیکس لاگو نہ ہوگا ۔

بیوه / مطلقہ / نابالغ یتیم / ا پانچ جو مذکورہ جائیداد کی / کا مالک / مالکہ ہے اسے مبلغ - 12,150 روپے سالانہ ٹیکس کی حد تک معافی ہے۔ باقی ماندہ ٹیکس قابل ادائیگی ہے۔

بیوه مطلقه نا بالغ یتیم / پانچ شخص مذکورہ جائیداد میں حصہ دار ہو تو اسے اپنے حصے کی حد تک ٹیکس کی معافی حاصل ہوگی جس کی زیادہ سے زیادہ حد - 12,150 روپے سالانہ ہو گی

وفاقی / صوبائی ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہونے کی صورت میں ایک کنال کی حد تک ذاتی | رہائشی گھر کا ٹیکس یا گھر کی جزوی طور پر کرایہ داری کی صورت میں رہائشی حصہ کی حد تک پراپرٹی ٹیکس کی معافی حاصل ہے۔

۔ آپ کی جائیداد او پر بیان کی گئ کیٹگری میں پائی جاتی ہے تو آپ ٹیکس کی معافی کے لیے درخواست بمعہ دستاویزی ثبوت متعلقہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر یا پورٹل کے ذریعے جمع کروا سکتے ہیں۔

کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے 1035 پر رابطہ کریں۔

پراپرٹی ٹیکس کی از خود تشخیص

تمام شہری اپنی جائیداد کے پراپرٹی ٹیکس کی از خود تشخیص محکمانہ پورٹل کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

www.excise.punjab.gov.pk

22/08/2025

ٹیکس سسٹمز اپڈیٹ
موضوع: ریفنڈ کلیم

عزیزو!
آپ نے اپنی ٹیکس ریٹرن جمع کر دی ہے اور اس میں کچھ ریفنڈ نکل رہا ہے جو آپ کلیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے آپ کو ڈیو ڈیٹ کے اختتام، یعنی تیس ستمبر، تک رکنا پڑے گا، اس سے قبل آپ کی ریفنڈ اپلیکیشن جمع نہیں ہوگی۔

اس ریٹرن میں ایک تو فارم نیا آیا ہے جس کے کئی آپشنز ٹھیک سے کام نہیں کر رہے، دوسری طرف بارش اور سیلابی صورتحال بھی درپیش ہے جس کی وجہ سے ریٹرن فائلنگ کی صورتحال بہت سلو ہے اسلئے امید ہے اس بار ڈیو ڈیٹ بھی اکتوبر یا نومبر تک جائے گی۔

آپ اگر سیلریڈ پرسن ہیں، اوورسیز پاکستانی یا فریلانسر ہیں اور اپنا ٹیکس ریٹرن خود فائل کرتے ہیں تو سادہ سی ریفنڈ اپلیکیشن لکھیں گے اور اٹیچمنٹ کی ٹیب میں ٹیکس ڈیڈکشنز کے پروف اپلوڈ کر دیں گے جو درج ذیل میں سے آپ کے پاس ہوں گے۔

1. Salary certificate or monthly salary slips.
2. CPR of Payment made in respect of 236-K.
3. CPR of Payment made in respect of 236-C.
4. Tax deduction certificates of cellphone sims.
5. Bank certificate of tax deducted u/s: 231-AB.
6. Bank certificate of tax deducted u/s: 236-Y.
7. Bank certificate of tax deducted u/s: 154-A.

اپلیکیشن کی پہلی لائن میں اپنا مختصر سا تعارف لکھیں پھر اگلا مضمون لکھ دیں۔

Respected sir,
I'am a resident salaried person and have attached herewith all the proofs of taxes paid or deducted at source, so your kind honor is requested to please process my refundable amount within stipulated period as per law.

Regards,
Mr. Abc

اوورسیز پاکستانی اور فریلانسرز پہلی لائن میں اپنا تعارف یوں لکھیں گے۔

I'am non-resident Pakistani and have attached.........

I'am resident freelancer in IT-Services export and have attached ..............

گڈ لک۔
💐

Address

Malik Mudasir Advocate, Chamber No. 24, District Bar Association Attock
Attock

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ملک مدثر ایڈووکیٹ - مشیر انکم ٹیکس , سیلز ٹیکس posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category