26/09/2024
پاکستان میں درج ذیل افراد کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے:
1. ملازمین (تنخواہ دار افراد):
اگر ان کی سالانہ آمدنی چھ لاکھ سے زیادہ ہو۔
2. کاروباری افراد:
اگر ان کی سالانہ آمدنی چار لاکھ سے زیادہ ہو۔
3. پراپرٹی مالکان:
اگر ان کی پراپرٹی سے حاصل ہونے والی کرایہ کی سالانہ آمدنی دو لاکھ روپے سے زیادہ ہو۔
4. گاڑیوں کے مالکان: وہ افراد جو ایک ہزار سی سی یا اس سے زیادہ انجن کی گاڑی رکھتے ہوں۔
5. زمین کے مالکان: اگر ان کی ملکیت میں ایسی غیر منقولہ جائیداد ہو جس کی مالیت پچاس لاکھ سے زیادہ ہو۔
6. غیر ملکی آمدنی کمانے والے:
اگر ان کی غیر ملکی آمدنی دس ہزار سے زیادہ ہو۔
7. منافع بخش لین دین کرنے والے افراد:
وہ افراد جنہوں نے پراپرٹی، شیئرز یا کسی بھی قسم کی کیپیٹل گینز کی لین دین سے منافع حاصل کیا ہو۔
8. رجسٹرڈ کمپنیاں اور فرمز: تمام کمپنیاں اور رجسٹرڈ فرمز اپنی آمدنی کی پرواہ کیے بغیر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی پابند ہیں۔
9. پچھلے سال کے غیر فائلرز: اگر کوئی شخص پچھلے سال ٹیکس فائل کرنے کا پابند تھا مگر اس نے فائل نہیں کیا۔
2024 کے لیے ملازمین کے لیے ٹیکس سلیب:
1. PKR 600,000 تک:
کوئی ٹیکس نہیں
2. PKR 600,001 – PKR 1,200,000:
چھ لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ اڑھائی فیصد ٹیکس
3. PKR 1,200,001 – PKR 2,400,000:
12لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پہ ساڑھے12٪ جمع 15ہزار روپے ٹیکس
4. PKR 2,400,001 – PKR 3,600,000:
24 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 20٪ جمع ایک لاکھ 65ہزار ٹیکس
5. PKR 3,600,001 – PKR 6,000,000:
36 لاکھ سےزائد سالانہ آمدن پہ 25٪ جمع 4 لاکھ 5 ہزار روپے ٹیکس
6. PKR 6,000,001 اور اس سے زیادہ:
60لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر ساڑھے32٪جمع 10لاکھ 5ہزار ٹیکس
اگر کسی شخص کی سالانہ آمدن 6لاکھ روپے سےکم ہے تو اسے ٹیکس نہیں دینا پڑتا۔ تاہم، ٹیکس فائلنگ کے قواعد کے مطابق، ایسے افراد کو پھر بھی ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے۔
اگر وہ ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتےتو ایک حالیہ خبر کے مطابق ان پر مختلف پندرہ مالی پابندیاں لگ سکتی ہیں، مثلاً نان فائلر نیا کرنٹ بینک اکاؤنٹ نہیں بن سکے گا ، بیرون ملک سفر پہ پابندی،
گاڑی جائداد کی خرید وفروخت پہ پابندی، بنک ٹرانزیکشنز میں اضافی ٹیکس دینا، میوچل فنڈ میں انویسٹ کرنے پہ پابندی وغیرہ۔
فائلر بننے کے کئی فوائد ہیں، جیسے فائلر ہونے کی صورت میں بہت سی سرکاری خدمات پر کم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔