MM Khan law associates & legal Consultants

MM Khan law associates & legal Consultants legal service provider .legal advise, legal notice ,litigation in courts

our law firm provide legal services in kpk Rawalpindi & Islamabad courts.we are expertise in civil.family .consumer and criminal law

اگر کسی خاتون نے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کر لی ہے تو اگلا اہم مرحلہ Union Council میں اس ڈگری کی بنیاد پر طلاق مؤثر سر...
15/03/2026

اگر کسی خاتون نے عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کر لی ہے تو اگلا اہم مرحلہ Union Council میں اس ڈگری کی بنیاد پر طلاق مؤثر سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ عدالتی ڈگری کی کاپی یونین کونسل میں جمع کروائی جاتی ہے، جہاں سیکرٹری قانونی کارروائی مکمل کر کے طلاق کی رجسٹریشن کرتا ہے اور مقررہ پراسیس کے بعد طلاق مؤثر سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔ عموماً عدالتی ڈگری کے بعد نوٹس پیریڈ اور قانونی تقاضے مکمل ہونے پر تقریباً 30 سے 90 دن کے اندر سرٹیفکیٹ جاری ہو جاتا ہے، جو کہ نادرا ریکارڈ، دوسری شادی، ویزہ پراسیس اور دیگر قانونی معاملات کے لیے نہایت ضروری دستاویز ہے۔ اس کے بغیر طلاق کا اندراج مکمل نہیں سمجھا جاتا، اس لیے ہر خاتون کے لیے یہ مرحلہ مکمل کرنا انتہائی اہم ہے۔

Summary Suit Procedure under Order ###VII, CPCSummary suit under Order ###VII of the Civil Procedure Code is a fast-trac...
15/03/2026

Summary Suit Procedure under Order ###VII, CPC

Summary suit under Order ###VII of the Civil Procedure Code is a fast-track process for clear-cut cases involving instruments like bounced cheques or promissory notes, designed to prevent delays from frivolous defenses. In such a suit, a defendant does not have an automatic right to defend and must first seek the court's permission "leave to defend" by quickly filing an application that establishes a genuine, triable issue; failure to do so within the strict timeline, or to prove proper service of the summons was not achieved, can result in an automatic judgment against them.

اگر آپ پر چیک یا قرضے کے معاملے میں سول مقدمہ کیا جائے، تو یہ ایک فاسٹ ٹریک مقدمہ ہوتا ہے۔ اس میں آپ کو فوری حرکت میں آنا ہوتا ہے۔

اگر آپ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو 10 دن کے اندر عدالت سے اجازت لینی ہوگی۔ اس کے لیے آپ کو ایک اچھی اور حقیقی وجہ بتانی ہوگی۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا یا وقت پر درخواست نہیں دی، تو عدالت آپ کے خلاف فوری فیصلہ سنا سکتی ہے۔

1. عدالت سے ڈگری یا حکم حاصل ہوناجب مقدمہ مکمل ہو جاتا ہے تو عدالت فیصلہ دیتی ہے۔ اگر فیصلہ مدعی کے حق میں ہو تو اسے ڈگر...
08/03/2026

1. عدالت سے ڈگری یا حکم حاصل ہونا
جب مقدمہ مکمل ہو جاتا ہے تو عدالت فیصلہ دیتی ہے۔ اگر فیصلہ مدعی کے حق میں ہو تو اسے ڈگری (Decree) کہا جاتا ہے۔
قانونی بنیاد: سیکشن 33 CPC اور آرڈر XX CPC۔

2. ڈگری کے نفاذ کے لیے درخواست
ڈگری ملنے کے بعد مدعی جس کے حق میں فیصلہ آیا ہو اسے Ex*****on Application دائر کرنی ہوتی ہے۔ یہ درخواست اسی عدالت میں دی جاتی ہے جس نے ڈگری جاری کی ہو۔
قانونی بنیاد: سیکشن 38 CPC اور آرڈر XXI رول 10 CPC۔

3. ڈگری کو دوسری عدالت منتقل کرنا (اگر ضرورت ہو)
اگر ڈگری کسی ایسے علاقے میں نافذ کرنی ہو جو دوسری عدالت کے دائرہ اختیار میں ہو تو عدالت ڈگری کو اس عدالت کو منتقل کر سکتی ہے۔
قانونی بنیاد: سیکشن 39 اور 40 CPC۔

4. نوٹس کا اجراء
بعض حالات میں عدالت Judgment-Debtor (جس کے خلاف ڈگری ہے) کو نوٹس جاری کرتی ہے تاکہ وہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنا مؤقف پیش کرے۔
مثلاً جب ڈگری کو دو سال سے زیادہ وقت گزر چکا ہو۔
قانونی بنیاد: آرڈر XXI رول 22 CPC۔

5. رٹ یا وارنٹ جاری ہونا
جب عدالت مطمئن ہو جائے تو وہ اپنے عملے کو Ex*****on Writ یا Warrant جاری کرتی ہے تاکہ ڈگری پر عمل کروایا جا سکے۔
قانونی بنیاد: آرڈر XXI رول 24 CPC۔

6. جائیداد کی ضبطی اور نیلامی
اگر ڈگری رقم کی وصولی سے متعلق ہو تو عدالت مقروض کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد ضبط کر کے نیلام کر سکتی ہے اور حاصل شدہ رقم ڈگری ہولڈر کو دی جاتی ہے۔
قانونی بنیاد: سیکشن 60 CPC اور آرڈر XXI رول 41-63 CPC۔

7. گرفتاری اور حراست
اگر مقروض ادائیگی سے مسلسل انکار کرے تو عدالت اسے سول جیل بھیجنے کا حکم دے سکتی ہے۔
قانونی بنیاد: سیکشن 55 CPC اور آرڈر XXI رول 37-40 CPC۔

8. قبضہ دلوانا
اگر ڈگری کسی جائیداد کے قبضہ سے متعلق ہو تو عدالت متعلقہ شخص کو ہٹا کر ڈگری ہولڈر کو جائیداد کا قبضہ دلوا دیتی ہے۔
قانونی بنیاد: آرڈر XXI رول 31 اور 35-36 CPC۔

9. Garnishee Order
اگر مقروض کا پیسہ کسی تیسرے شخص کے پاس ہو تو عدالت اس تیسرے شخص کو حکم دیتی ہے کہ وہ رقم عدالت یا ڈگری ہولڈر کو ادا کرے۔
قانونی بنیاد: آرڈر XXI رول 46 اور 46-A تا 46-I CPC۔

10. ڈگری کی تکمیل (Satisfaction of Decree)
جب پوری رقم یا حق ڈگری ہولڈر کو مل جائے تو وہ عدالت کو مطلع کرتا ہے کہ ڈگری مکمل ہو گئی ہے۔
قانونی بنیاد: آرڈر XXI رول 2 CPC۔

11. فائل بند ہونا
ڈگری مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد عدالت کیس کو Disposed / Closed کر دیتی ہے۔
12. Ex*****on Orders کے خلاف اپیل
اگر کسی فریق کو Ex*****on کے دوران عدالت کے حکم سے اختلاف ہو تو وہ اپیل یا اعتراض دائر کر سکتا ہے۔
قانونی بنیاد: سیکشن 47 CPC۔

⚖️ جھوٹا مقدمہ (False FIR) درج ہو جائے تو فوراً کیا کریں؟کسی بھی شخص کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج ہونا ایک سنجیدہ قانونی...
04/03/2026

⚖️ جھوٹا مقدمہ (False FIR) درج ہو جائے تو فوراً کیا کریں؟

کسی بھی شخص کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج ہونا ایک سنجیدہ قانونی مسئلہ ہے۔ گھبرانے یا جذباتی ردِعمل دینے کے بجائے فوری اور درست قانونی اقدامات کرنا انتہائی ضروری ہے۔

📌 فوری قانونی اقدامات

1️⃣ ایف آئی آر کی مصدقہ کاپی حاصل کریں

سب سے پہلے متعلقہ تھانے سے ایف آئی آر کی کاپی حاصل کریں یا آن لائن پورٹل سے ڈاؤن لوڈ کریں۔
🔎 الزامات، دفعات اور مدعی کی تفصیلات غور سے پڑھیں۔

2️⃣ فوری طور پر وکیل سے رابطہ کریں

ہر کیس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ ایک ماہر فوجداری وکیل آپ کو:
✔ مقدمے کی نوعیت سمجھائے گا
✔ گرفتاری کے خدشات بتائے گا
✔ مناسب قانونی حکمت عملی تیار کرے گا

3️⃣ قبل از گرفتاری ضمانت (Pre-Arrest Bail) پر غور کریں

اگر گرفتاری کا خدشہ ہو تو سیشن کورٹ یا ہائی کورٹ میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔
⚠️ عدالت کو یہ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے کہ مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔

4️⃣ شواہد اکٹھے کریں

✔ گواہان کے بیانات
✔ کال ریکارڈ / میسجز
✔ سی سی ٹی وی فوٹیج
✔ متعلقہ دستاویزات

یہ تمام مواد آپ کے دفاع میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

5️⃣ دفعہ 249-A یا 265-K کے تحت بریت کی درخواست

اگر مقدمہ بے بنیاد ہو تو ٹرائل کے دوران عدالت سے ابتدائی مرحلے پر بریت کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

6️⃣ ایف آئی آر کے اخراج (Quashment) کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع

اگر مقدمہ سراسر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی ہو تو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں ایف آئی آر ختم کروانے کی درخواست دی جا سکتی ہے۔

7️⃣ مدعی کے خلاف قانونی کارروائی

اگر ثابت ہو جائے کہ مقدمہ جھوٹا تھا تو:
✔ ہتک عزت کا دعویٰ
✔ جھوٹی گواہی یا بدنیتی پر مبنی کارروائی
بھی کی جا سکتی ہے۔

⚠️ اہم باتیں یاد رکھیں

❌ پولیس سے الجھنے سے گریز کریں
❌ ثبوت ضائع نہ کریں
❌ سوشل میڈیا پر تفصیل شیئر نہ کریں
✔ ہر قدم وکیل کے مشورے سے اٹھائیں

🔎 مختصر خلاصہ

جھوٹی ایف آئی آر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ مجرم ہیں۔
قانون آپ کو تحفظ دیتا ہے — بس بروقت اور درست قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

💬 اگر آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو جھوٹے مقدمے کا سامنا ہے تو قانونی رہنمائی کے لیے رابطہ کری
Copied

*نیا فراڈ کا طریقہ*!صرف 30 منٹ آپ کی مالی زندگی تباہ کر سکتے ہیں۔یہ کوئی عام فون فراڈ نہیں — یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ...
24/02/2026

*نیا فراڈ کا طریقہ*!
صرف 30 منٹ آپ کی مالی زندگی تباہ کر سکتے ہیں۔
یہ کوئی عام فون فراڈ نہیں — یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔
انہیں آپ کے پیسے، پاس ورڈ یا اعتماد کی ضرورت نہیں۔
انہیں صرف آپ کی مہربانی چاہیے۔
حال ہی میں ایک نیا “مدد مانگنے والا فراڈ” سامنے آیا ہے جو
مالز، میٹرو اسٹیشنز، بازاروں اور عوامی مقامات پر ہو رہا ہے۔
فراڈی عموماً اچھے لباس میں ملبوس درمیانی عمر یا بزرگ افراد ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں:
انہیں فون استعمال کرنا نہیں آتا
انہیں پنشن یا سبسڈی چیک کرنی ہے
غلطی سے کوئی صفحہ کھل گیا ہے
اور آپ سے کہتے ہیں کہ ذرا فون چلانے میں مدد کر دیں۔
خطرناک بات:
جب آپ فون ہاتھ میں لیتے ہیں تو اکثر:
فون پہلے ہی ویڈیو کال پر ہوتا ہے
یا اسکرین ریکارڈنگ اور فیشل ریکگنیشن آن ہوتی ہے
دوسری طرف کوئی آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔
آپ سمجھتے ہیں کہ مدد کر رہے ہیں، مگر آپ کا بایومیٹرک ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہوتا ہے۔
یہ عام فراڈ نہیں — یہ AI بایومیٹرک شناختی فراڈ ہے۔
انہیں آپ کے پیسے نہیں، آپ خود چاہیے ہوتے ہیں۔
اگر آپ:
فون کو چھوتے ہیں (فنگر پرنٹ)
نمبرز یا ویریفکیشن کوڈ اونچی آواز میں پڑھتے ہیں (آواز)
اسکرین کی طرف دیکھ کر بات کرتے ہیں (چہرے کی حرکت)
تو آپ کی تین اہم بایومیٹرک شناختیں — فنگر پرنٹ، آواز اور چہرہ — چوری ہو سکتی ہیں۔
جدید AI آپ کی تقریباً مکمل ڈیجیٹل نقل بنا سکتا ہے۔
اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟
یہ انتہائی خوفناک ہے۔
فراڈی آپ کی ڈیجیٹل نقل استعمال کر کے:
آن لائن قرضے
کنزیومر فنانسنگ
کریڈٹ کیش آؤٹس
کے لیے درخواست دیتے ہیں اور چہرے اور آواز کی تصدیق خودکار طور پر پاس کر لیتے ہیں۔
صرف 30 منٹ میں آپ جتنا قرض لینے کے اہل ہوتے ہیں، وہ سب استعمال ہو جاتا ہے۔
جب بینک کے پیغامات آتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کے پیسے غائب نہیں ہوئے — بلکہ آپ قرض میں ڈوب چکے ہیں، ممکن ہے لاکھوں یا کروڑوں روپے تک۔
یہ 3 اصول یاد رکھیں:
اجنبیوں کے فون کبھی نہ چلائیں۔
نہ چھوئیں، نہ کلک کریں، نہ دیکھیں، نہ اونچی آواز میں کچھ پڑھیں — چاہے وہ کہیں “بس ایک کلک”۔
نامعلوم ویڈیو کال آئے تو فوراً منقطع کریں۔
کیمرے کی طرف دیکھنے یا بولنے کی کسی درخواست پر عمل نہ کریں۔
یہ پیغام بزرگوں، بچوں اور نرم دل دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
اب فراڈی اچھے لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
آخری یاددہانی:
یہ کبھی نہ سوچیں:
“میرے ساتھ ایسا نہیں ہوگا”
“میں اتنا ہوشیار ہوں کہ اس فراڈ میں نہیں آؤں گا”
فراڈی اسی اعتماد اور مہربانی کا فائدہ اٹھاتے ہیں.

حکومتِ خیبر پختونخوا (ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈز) نے زمین کے ریکارڈ میں "خانہ کاشت" کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے بڑے ...
19/02/2026

حکومتِ خیبر پختونخوا (ڈائریکٹوریٹ آف لینڈ ریکارڈز) نے زمین کے ریکارڈ میں "خانہ کاشت" کے دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیے بڑے قدم کا اعلان کر دیا ہے۔
ایسے افراد جنہوں نے زمین خریدی مگر، ان کا نام سرکاری ریکارڈ میں "مالک" کے بجائے صرف "کاشتکار" (خانہ کاشت) میں درج چلا آ رہا تھا۔ اس وجہ سے مالکانہ حقوق میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں اور قانونی تنازعات جنم لیتے تھے۔
حکومت کا نیا حکم نامہ (28 جنوری 2026):
۔۔۔تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر فوکل پرسنز (ریونیو آفیسرز) نامزد کریں۔
۔۔۔ان افسران کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ ایسے تمام کیسز کی نشاندہی کریں جہاں خریدار کا نام خانہ کاشت میں ہے۔
۔۔۔ پٹواری اور قانونگو کی مدد سے ریکارڈ کی تصدیق کر کے ناموں کو خانہ ملکیت (Ownership) میں منتقل کیا جائے گا۔
۔۔۔ اس عمل کا مقصد عوام کی شکایات کا ازالہ اور زمین کے ریکارڈ کو شفاف بنانا ہے۔
اگر آپ کی خریدی ہوئی زمین کا انتقال ابھی تک خانہ ملکیت میں نہیں ہوا اور آپ کا نام صرف خانہ کاشت میں ہے، تو اپنے متعلقہ ضلع کے ریونیو آفس یا اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر سے رابطہ کریں تاکہ نئے احکامات کے تحت آپ کا مسئلہ حل ہو سکے۔
03474381909

نوجوان وکلاء کیلئے جو سول مقدمات میں ٹرائل کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے *سپریم کورٹ نے دی...
18/02/2026

نوجوان وکلاء کیلئے جو سول مقدمات میں ٹرائل کورٹ میں پریکٹس کرتے ہیں اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے
*سپریم کورٹ نے دیوانی مقدمات میں مختلف سٹیج قانونی دادرسی کے بابت قرار دیا ہے کہ پاکستانی عدالتی نظام میں #اپیل، #نظرثانی اور #آئینی درخواستوں کا تقابلی جائزہ*
2025 SCMR 361
یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ تمام عدالتی کارروائیوں، احکامات، فیصلوں اور عدالتوں کے دیے گئے فیصلوں کو درست اور مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم، اگر کوئی فریق متاثر ہو تو وہ قانون کے مطابق اپیل، نظرثانی یا دیگر دستیاب قانونی طریقوں سے ان کو چیلنج کر سکتا ہے۔
البتہ، غیر معمولی حالات میں، کسی بااختیار عدالت کے دیے گئے فیصلے یا کارروائیوں کو آرڈر XLVII رول 1 سی پی سی اور سیکشن 114 کے ساتھ سیکشن 151 سی پی سی کے تحت نظرثانی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی ظاہر کی جا سکے۔ ایسی صورت میں، نظرثانی شدہ فیصلہ یا حکم بغیر شواہد کے از سرِ نو جائزے یا مقدمے کی میرٹ کی دوبارہ جانچ کے، محض غلطی کی اصلاح کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
C.P.L.A.1218-K/2023
سید علی احمد شاہ بنام سید شوکت حسین شاہ و دیگر
معزز جج: جسٹس عقیل احمد عباسی
یہ قانونی اصول پاکستان کے سول پروسیجر کوڈ، 1908 (CPC) کے تحت طے شدہ ہے اور عدالتی نظائر سے بھی مستحکم ہو چکا ہے کہ عدالتی فیصلوں کو درست اور معتبر سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، مخصوص قانونی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے کسی متاثرہ فریق کو عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

1. اپیل اور نظرثانی ( & )
سیکشن 96 تا 115 CPC میں اپیل اور نظرثانی کے اصول دیے گئے ہیں، جن کے مطابق:

اپیل ( ) کسی ماتحت عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا حق فراہم کرتی ہے۔
نظرثانی (Revision) سیکشن 115 CPC کے تحت کی جا سکتی ہے، جہاں عدالت کے دائرہ اختیار، غیر قانونی فیصلے، یا غلط تشریح کا معاملہ درپیش ہو۔
2. نظرثانی (Review) – آرڈر XLVII رول 1 CPC اور سیکشن 114 CPC
نظرثانی کی درخواست اسی عدالت میں دائر کی جا سکتی ہے جس نے فیصلہ دیا ہو، بشرطیکہ:

ریکارڈ پر واضح قانونی یا حقائق کی غلطی ہو۔
کوئی ایسا نیا ثبوت سامنے آیا ہو جو فیصلہ سازی کے وقت دستیاب نہیں تھا۔
عدالتی فیصلے میں کسی اصولِ انصاف (Principle of Natural Justice) کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔
سیکشن 114 CPC کے تحت عدالت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی فیصلے یا حکم کی نظرثانی کرے، جب تک کہ وہ فیصلہ اعلیٰ عدالت میں اپیل کے ذریعے چیلنج نہ کیا جا چکا ہو۔

سیکشن 151 CPC عدالت کو "انصاف کے مفاد میں" موروثی اختیارات (Inherent Powers) دیتا ہے، جنہیں کسی غیرمعمولی صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں دوسرے قانونی طریقے مؤثر نہ ہوں۔

3. عدالتی نظائر (Precedents) اور اس کیس کا جائزہ
فیصلہ C.P.L.A.1218-K/2023 میں عدالت نے یہ مؤقف اپنایا کہ نظرثانی (Review) کا دائرہ محدود ہے اور کسی فیصلے میں دوبارہ شواہد کا جائزہ لے کر نتیجہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ نظرثانی صرف اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب فیصلہ ظاہرًا غلط ہو یا کسی قانونی اصول کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہو۔

یہ مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد فیصلوں میں تسلیم کیا گیا ہے، مثلاً:

PLD 2012 SC 923
2018 SCMR 2124
عدالتی فیصلوں کی قانونی حیثیت اور آئینی دادرسی کا قانونی اور تجزیاتی جائزہ
عدالتی فیصلوں کی درستگی اور تقدس کا اصول پاکستانی عدالتی نظام میں ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ تاہم، جب کوئی فریق کسی فیصلے کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے مختلف قانونی اور آئینی ذرائع دستیاب ہوتے ہیں۔ اس تجزیے میں ہم سول پروسیجر کوڈ (CPC) کے ساتھ آئینی دادرسی
(Constitutional Remedies)
پر بھی غور کریں گے تاکہ عدالتی فیصلوں پر نظرثانی اور چیلنج کے تمام قانونی پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔

1. سول قوانین کے تحت عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے طریقے
(A) اپیل (Appeal) - سیکشن 96 تا 104 CPC
کسی ماتحت عدالت کے فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا بنیادی راستہ اپیل ہوتا ہے۔
فرسٹ اپیل (First Appeal) - سیکشن 96 CPC: حقائق اور قانون دونوں کا دوبارہ جائزہ ممکن ہوتا ہے۔
سیکنڈ اپیل (Second Appeal) - سیکشن 100 CPC: صرف قانونی نکات پر سنی جاتی ہے، شواہد پر نہیں۔
بعض معاملات میں سپریم کورٹ تک اپیل کا حق دیا جاتا ہے (مثلاً، آرٹیکل 185 آئین پاکستان کے تحت)۔

(B)
نظرثانی (Revision) - سیکشن 115 CPC
نظرثانی کی درخواست ہائیکورٹ میں کی جا سکتی ہے اگر ماتحت عدالت نے:
دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہو،
غیر قانونی فیصلہ دیا ہو، یا
انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہو۔
(C)
نظرثانی (Review) - آرڈر XLVII رول 1 CPC اور سیکشن 114 CPC
وہی عدالت جو فیصلہ دے چکی ہے، وہ کسی واضح غلطی یا نئے شواہد کی صورت میں اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتی ہے۔
نظرثانی میں شواہد کی دوبارہ جانچ نہیں کی جاتی بلکہ محض ظاہر شدہ غلطی درست کی جاتی ہے۔
(D)
موروثی اختیارات (Inherent Powers) - سیکشن 151 CPC
اگر کوئی عدالتی حکم ایسا ہو جو ناانصافی پر مبنی ہو اور اس کا ازالہ ممکن نہ ہو تو عدالت انصاف کے مفاد میں مداخلت کر سکتی ہے۔

2. آئینی دادرسی (Constitutional Remedies) کے تحت چیلنج
پاکستان کے آئین میں عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے مختلف آئینی درخواستوں (Writ Petitions) کا ذکر موجود ہے۔ یہ دادرسی عدلیہ کے جوڈیشل ریویو کے اختیار سے جڑی ہوتی ہے۔

(A)
آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ دائر کرنا
(Writ Jurisdiction)
ہائیکورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی سرکاری ادارے یا عدالتی فیصلے کے خلاف آئینی درخواست
(Constitutional Petition)
سن سکتی ہے، بشرطیکہ:
رِٹ آف سَیرٹیوری (Writ of Certiorari) – اگر ماتحت عدالت نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہو یا فیصلہ خلافِ قانون ہو۔
رِٹ آف مینڈیمس (Writ of Mandamus) – اگر کوئی قانونی حق متاثر ہوا ہو اور ریاستی ادارہ اپنا فرض ادا نہ کر رہا ہو۔
رِٹ آف حبس کارپس (Writ of Habeas Corpus) – اگر کسی فرد کی غیر قانونی حراست عمل میں لائی گئی ہو۔
رِٹ آف پروہبیشن (Writ of Prohibition) – اگر کسی ماتحت عدالت کو غلط کارروائی کرنے سے روکنا مقصود ہو۔
رِٹ آف کو ووارنٹو (Writ of Quo Warranto) – اگر کوئی شخص غیر قانونی طور پر کسی سرکاری عہدے پر قابض ہو۔
(B)
آئین کے آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں اپیل
اگر کسی آئینی درخواست پر ہائیکورٹ فیصلہ دے چکی ہو، تو متاثرہ فریق سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔
سپریم کورٹ صرف اہم قانونی نکات پر نظرثانی کرتی ہے، مکمل کیس کا دوبارہ جائزہ نہیں لیا جاتا۔
(C)
آرٹیکل 184(3) کے تحت سپریم کورٹ کا سو موٹو اختیار
اگر کسی عدالتی فیصلے میں بنیادی حقوق
(Fundamental Rights)
کی خلاف ورزی ہو، تو سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔
3. عدالتی نظائر (Case Law) اور اس کیس کا جائزہ
C.P.L.A.1218-K/2023 میں سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ریویو (Review) کا دائرہ محدود ہے اور اسے شواہد کے ازسرِ نو جائزے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے سابقہ نظائر سے ہم آہنگ ہے، جیسے:

PLD 2012 SC 923 – نظرثانی میں صرف وہی غلطی درست ہو سکتی ہے جو واضح ہو۔
2018 SCMR 2124 – آئینی درخواست کا دائرہ اختیار محدود ہے اور ہائیکورٹ صرف قانونی سوالات پر مداخلت کر سکتی ہے۔

4. نتیجتاً مختصراً (Conclusion)
مندرجہ بالا قوانین اور آئینی اصولوں کے مطابق، عدالتی فیصلوں کو چیلنج کرنے کے لیے درج ذیل طریقے موجود ہیں:

اپیل – اگر مکمل فیصلہ غلط ہو۔
نظرثانی (Revision) – اگر عدالت نے قانون کی غلط تشریح کی ہو۔
ریویو (Review) – اگر واضح قانونی غلطی موجود ہو۔
آئینی درخواست (Writ Petition) – اگر عدالتی فیصلہ بنیادی حقوق کے خلاف ہو یا دائرہ اختیار سے تجاوز کیا گیا ہو۔

یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نظرثانی اور آئینی درخواستوں کا دائرہ انتہائی محدود ہوتا ہے، اور عدالتیں انہی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں جہاں ناانصافی یا غیر قانونی عمل واضح ہو۔ C.P.L.A.1218-K/2023/ 2025 SCMr 361 میں دیے گئے فیصلے نے اس اصول کو مزید مستحکم کیا کہ ہر عدالتی فیصلہ قانونی تقدس رکھتا ہے اور اسے چیلنج کرنے کے لیے مضبوط قانونی جواز درکار ہوتا ہے۔
""Copied and pasted

17/02/2026
17/02/2026

پی ٹی آئی سڑکیں بلاک کرنے کا نتیجہ: ٹرانسپورٹرز نے پنجاب میں ہزارہ سمیت خیبرپختونخوا چلنے والی گاڑیوں کے اڈے بند کر دیئے۔

Address

Abbottabad
22020

Telephone

+923135932030

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when MM Khan law associates & legal Consultants posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to MM Khan law associates & legal Consultants:

Share