19/08/2026
قرآن مجید میں سردارانِ قریش اور سابقہ اقوام کے تکبر اور غریبوں کو مجلس سے ہٹانے کے مطالبے کا ذکر ایک سے زائد مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مطالبوں کو سختی سے رد فرمایا اور واضح کیا کہ اسلام میں عزت کا معیار مال و دولت نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ ہے۔
ذیل میں قرآن مجید کی متعلقہ آیات، ان کا ترجمہ، سببِ نزول اور تفسیر کے حوالہ جات دیے گئے ہیں:
1. سورۃ الانعام (آیت 52) – نبی کریم ﷺ سے متعلق
یہ آیت مبارکہ خاص طور پر مکہ کے سرداروں کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی۔
> وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِم مِّن شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ
> (سورۃ الانعام، آیت: 52)
>
ترجمہ:
"اور ان لوگوں کو (اپنے پاس سے) نہ ہٹائیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا کے طالب ہیں۔ ان کے حساب میں سے آپ پر کچھ نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ آپ انہیں دور کریں، ورنہ آپ کا شمار ظالموں میں ہو جائے گا۔"
سببِ نزول و تفسیر (حوالہ: صحیح مسلم، مسند احمد، تفسیر ابن کثیر):
* واقعہ: روایات (مثلاً صحیح مسلم: 2413) کے مطابق مکہ کے مشرک سردار (جن میں اقرع بن حابس، عیینہ بن حصن وغیرہ شامل تھے) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور دیکھا کہ آپ کے پاس حضرت بلال، حضرت خباب، حضرت صہیب، حضرت عمار اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہم جیسے کمزور اور غریب صحابہ بیٹھے ہیں۔
* سرداروں کا مطالبہ: سرداروں نے کہا کہ "اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھیں، تو ان غریبوں اور غلاموں کو یہاں سے ہٹا دیں، کیونکہ عرب کے وفود ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ بیٹھتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔"
* اللہ کا حکم: آپ ﷺ کے دل میں خیال آیا کہ شاید اس طرح سرداروں کو ہدایت مل جائے، لیکن اللہ تعالیٰ نے فوراً یہ آیت نازل فرما کر مسلمانوں کی دل جوئی کی اور غریب صحابہ کو مجلس سے ہٹانے سے سختی سے منع فرما دیا۔
2. سورۃ الکہف (آیت 28) – اہل شوکت کے مقابلے میں مخلصین کی اہمیت
اسی سے ملتا جلتا مضمون سورۃ الکہف میں بھی بیان فرمایا گیا:
> وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا...
> (سورۃ الکہف، آیت: 28)
>
ترجمہ:
"اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی رضا کے طالب ہیں، اور دنیاوی زندگی کی آرائش کی خاطر آپ کی آنکھیں ان سے نہ ہٹیں۔"
3. سورۃ ہود (آیات 27 تا 29) – حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ
یہی رویہ سابقہ اقوام کے سرداروں کا بھی تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں نے بھی یہی شرط رکھی تھی:
> فَقَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن قَوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ... وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا...
> (سورۃ ہود، آیات: 27 - 29)
>
ترجمہ:
"پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا: ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ تمہاری پیروی صرف وہی لوگ کر رہے ہیں جو ہم میں سے نچلے درجے (غریب و بے حیثیت) کے ہیں... اور (نوح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم! میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں ایمان لانے والوں کو اپنے پاس سے دھتکارنے والا نہیں ہوں۔"
اہم حاصل و خلاصہ
* معیارِ عزت: دینِ اسلام میں انسان کا مقام و مرتبے کا معیار اس کا ایمان، اخلاص اور تقویٰ ہے، نہ کہ اس کا نسب، مال یا معاشرتی اثر و رسوخ۔
* تکبر کا رد: تکبر اور غرور کے ساتھ رکھی جانے والی شرائط کو اسلام قبول نہیں کرتا۔
* مخلصین کی قدر: داعیِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دنیوی لحاظ سے غریب مگر مخلص اہل ہی کو ترجیح دے اور امراء کے دباؤ میں نہ آئے۔