21/11/2025
---
بابُ سوم
آدابُ الحوار فی ضوء القرآن والسنّة
اسلام نے مکالمہ اور گفتگو کو محض سماجی ضرورت نہیں سمجھا، بلکہ اسے اخلاقی، روحانی اور دینی ذمہ داری کا درجہ دیا ہے۔ قرآنِ کریم نے متعدد مقامات پر ایسے اصول و آداب بیان فرمائے ہیں جو ایک مسلمان کی گفتگو کو حکمت، شفقت، عدل، اعتدال، اور حسنِ اخلاق سے مزین کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری سیرت ان آیات کی عملی تفسیر ہے۔ اس باب میں آدابِ گفتگو کے بنیادی قرآنی و نبوی اصول پیش کیے جاتے ہیں۔
---
اوّل: نرمی اور حکمت کا حکم
1. قرآنی اصول: نرمی (اللِّین)
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کو سخت ترین منکرِ حق—فرعون—کے پاس بھیجتے ہوئے فرمایا:
> فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا
(طٰہٰ: 44)
“اس سے نرم بات کہنا۔”
نکتۂ تحقیق
– مفسرین (طبری، قرطبی) فرماتے ہیں کہ:
"اللین" سے مراد وہ اسلوب ہے جو دل کو بے چین نہ کرے، سختی نہ پیدا کرے، بلکہ سمجھنے کی راہ کھول دے۔
– یہاں اصل مخاطب فرعون ہے—جس سے بڑا ظالم کوئی نہیں—پھر بھی حکم “نرمی” کا دیا گیا۔
آپ ﷺ کا ارشاد ہے:
> “ما کان الرِّفقُ في شيء إلا زانه”
جہاں بھی نرمی آتی ہے چیز کو زینت بخش دیتی ہے۔
2. حکمت کا طریقۂ دعوت
قرآن کہتا ہے:
> “ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ”
(النحل: 125)
یعنی دعوت کا اصل اصول حکمت، نرمی، اور بہترین انداز ہے۔
تحقیقی نکتہ
– “التي هي أحسن” کا مطلب صرف “اچھی گفتگو” نہیں بلکہ گفتگو میں بہترین ممکنہ اسلوب اختیار کرنا ہے۔
– امام رازی لکھتے ہیں:
"أحسن" کا تقاضا ہے کہ مخاطب کی طبیعت، فہم، مزاج اور مقام کو ملحوظ رکھا جائے۔
---
دوم: عدل و انصاف کا التزام
قرآن کا اصولِ عدل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
> وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ
(المائدہ: 8)
“کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”
تحقیقی نکتہ
– اس آیت کی روشنی میں گفتگو کے وقت عدل واجب ہے، خواہ مخالف کتنا ہی ناپسند کیوں نہ ہو۔
– ابن کثیر فرماتے ہیں:
"العدل مطلوب مع الموافق والمخالف"
یعنی عدل دوست و دشمن دونوں کے ساتھ مطلوب ہے۔
علمی فائدہ
گفتگو میں عدل کا مطلب ہے:
دوسرے کی دلیل کو صحیح طرح سمجھنا
اس کی بات کو بدّل کر پیش نہ کرنا
غلطی ہو تو مقدار کے مطابق نقد کرنا
مخالفت کے باوجود انصاف کو ترک نہ کرنا
---
سوم: حسنِ ظن اور بدگمانی سے اجتناب
قرآن کا حکم
> يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ
(الحجرات: 12)
“بہت سے گمانوں سے بچو۔”
تحقیقی توضیح
– گفتگو میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ انسان مخاطب کی نیت، ارادہ یا مقصد بدگمانی سے خود طے کر لے۔
– مفسرین لکھتے ہیں کہ:
"حسنُ الظن یفتح أبواب الفہم، و سوءَ الظن یسدّ طرق القبول"
یعنی حسنِ ظن فہم کے دروازے کھول دیتا ہے جبکہ بدگمانی ہر دروازہ بند کر دیتی ہے۔
علمی اصول
علمی گفتگو میں بدگمانی تین جگہ ممنوع ہے:
1. مخاطب کے ارادے کے بارے میں
2. اس کی بات کی نیت کے بارے میں
3. اس کی علمی غلطیوں کو دشمنی سے تعبیر کرنا
---
چہارم: سننے والے کو پورا سننے کا حق دینا
قرآن کا اصول
> الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ
(الزمر: 18)
“وہ لوگ (سمجھدار ہیں) جو بات کو خوب سنتے ہیں پھر بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں۔”
تحقیقی نکتہ
– اس آیت میں اللہ نے سننے کو عمل سے پہلے ذکر کیا ہے؛
یعنی علم کا دروازہ “سماع” ہے نہ کہ “کلام”۔
– اہلِ علم ہمیشہ پہلے مخاطب کی پوری بات سن کر پھر جواب دیتے ہیں۔
– امام شافعیؒ فرما تے ہیں:
“ما جادلت أحداً إلا تمنّيت أن يُظهر الله الحقّ على لسانه”
میں چاہتا ہوں کہ حق اس کی زبان سے ظاہر ہو—
یہی سننے کا اعلیٰ ادب ہے۔
عملی اصول
– کلام کو درمیان میں نہ کاٹنا
– سوال یا شبہ کو مکمل ہونے دینا
– مخاطب کی نیت پر فیصلہ نہ کرنا
– غلط فہمی میں جلدی نہ کرنا
---
پنجم: الفاظ کا انتخاب اور لہجے کا ادب
قرآنی اصول
> وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا
(البقرۃ: 83)
“لوگوں سے بہترین بات کہو۔”
تحقیقی توضیح
– “حسناً” کا لفظ عام ہے:
دوست، دشمن، عالم، جاہل، چھوٹا، بڑا—سب شامل ہیں۔
– مفسرین کے مطابق اس آیت میں تین بنیادی اصول ہیں:
1. حسن اختیار یعنی اچھے لفظ
2. حسنِ خطاب یعنی اچھا لہجہ
3. حسنِ مقصد یعنی نیت کی پاکیزگی
نبوی اسوہ
نبی ﷺ کی گفتگو کا اسلوب:
نرم
واضح
جامع
مختصر
بے تکلف
مسکراہٹ کے ساتھ
آپ ﷺ نے فرمایا:
“إن من أحبّكم إليّ أحاسنكم أخلاقاً”
اور حسنِ اخلاق کا مرکز گفتگو کا حسن ہے۔
---
ان قرآنی و نبوی اصولوں سے درج ذیل حقیقتیں سامنے آتی ہیں:
1. گفتگو کی اصل روح نرمی، حکمت اور بہترین اسلوب ہے۔
2. عدل و انصاف گفتگو کا فریضہ ہے؛ مخالفت اس کو نہیں بدل سکتی۔
3. حسنِ ظن مکالمے کی بنیاد ہے، بدگمانی علم کو جلا دیتی ہے۔
4. سننا، سمجھنا اور پھر بولنا—یہ قرآنی ترتیب ہے۔
5. بہترین الفاظ، شائستہ لہجہ، اور نرم انداز—ہی اسلامی گفتگو کا معیار ہے۔
اگر گفتگو ان پانچ اصولوں کے تحت ہو تو وہ فتنہ نہیں، ہدایت اور اصلاح کا سب سے مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے۔